یوم عدم تشدد کا عالمی دن ہر سال 2 اکتوبر کو منایا جاتا ہے ۔ اگرچہ و طن عزیز میں اس دن کو پورے جوش وخروش سے منانے کی ضرورت بدرجہ اتم موجود ہے مگر باجوہ اس پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی ۔ درحقیقت یہ دن ریاستوں اور حکومتو ں کو ہی تشددکو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے باز رہنے کی ترغیب نہیں دیتا بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو تعمیری کردار ادا کرنے کی تاکید کرتا ہے ۔ تاریخی طور پر یہ دن مہاتما گاندھی کی تاریخ پیدائش سے منسوب ہے۔ یوں 2 اکتوبر ہمیں یاد یادہانی کرواتا ہے کہ کیوں اور کیسے خود مہاتما گاندھی کو انتہاپسند ہندووں نے ان کے عدم تشدد کے فلسفہ کی وجہ سے سرعام قتل کردیا ۔سیاسی طور پر اس سے مراد یہ بھی لی جاتی ہیکہ تنازعات کو بات چیت اور مذاکرت کے زریعہ حل کیا جائے ۔ ا س دن سے ہم یہ سیکھ سکتے ہیں کہ کیسے اندرونی مسائل اور تنازعات کو مل بیٹھ کر حل کرنے سے ہمیں دور رس فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ کسی ملک کی سیاست اس کے سماج ہی کا عکس ہوا کرتی ہے ۔ یعنی اگر ہمارے منتخب ایوانوں میں گالی گلوچ اور رواداری کا فقدان ہے تو اس کی ذمہ داری ہم سب پر بھی عائد ہوتی ہے۔ مثلا ہمارے گلی محلوں ، سڑکوں اور ہوٹلوں میں مکالمہ پر کس حد تک یقین کیا جاتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے ۔ سوال کیا جاسکتا ہے کہ درپیش مسلہ کو کیوں اور کیسے حل کیا جائے ۔ یاد رکھنا چاہے کہ تشدد کو جنگل کے قانو ن سے تشبیہ دی جاسکتی ہے ۔ آسان الفاظ میں یوں کہ تہذیب یافتہ فرد اور معاشرہ وہی ہے جو کمزور سے شفقت اور مہربانی سے پیش آئے۔ جس معاشرے میں قانون اور اخلاق کی بجائے طاقت کو بالادستی حاصل ہوجائے وہ ہرگز مہذب نہیں کہلا تا۔ و طن عزیز کی تاریخ کا طائرانہ جائزہ ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ یہاں آئین ، قانون اور مسلمہ اخلاقی اصولوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر رہا ۔ ہمارے اہل مذہب ہو ں یا پھر سیاستدان ، دانشور ہوں یا نظام عدل کے ذمہ داران مثالی کردار کسی نے بھی ادا نہیں کیا ۔ نظام انصاف میں حائل مشکلات اور چیلجنز پر قابو پا کر کسی بھی سماج کو تیزی سے عدم تشدد کی جانب راغب کیا جاسکتا ہے۔ خواتین اور بچوں پر تشدد کا رحجان بھی معاشرے میں عدم برداشت پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کسی دوسر ے کو سننا بھی عدم تشدد کے رویے کے حامل ہونے کا ثبوت ہے ۔ معاشر ے کا بنیادی یونٹ گھر ہے ۔ یوں خاندان میں اگر تشدد کا چلن جاری وساری ہے تو اس سے عدم تشدد کی امید کرنا یقینا خلاف توقع ہوگا۔ پاکستان جیسے ملک میں تشدد کے خاتمہ کی بڑی زمہ داری محراب ومنبر پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ اسے ہماری بدقسمتی سے تعبیر کرنا چاہے کہ قومی تاریخ میں مسلکی اختلافات کو فرقہ ورایت کا رنگ دے کر ارض وطن کو خون سے رنگین کیا جاتا رہا ۔ گزرے ماہ وسال میں کچھ ایسی پالیساں بھی تشکیل دی گئیں جس نے قوم میں اتفاق واتحاد کی بجائے تقسیم کی راہ دکھائی ۔ یقینا کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے ہم خیال گروہ تشدد ہی پیدوار ہیں۔ مگر دیر آید درست آید۔ آج پاکستان میں حکومتی سطح پر ایسی پالیسوں اور اقدمات کا نفاذ یقینی بنایا جارہا ہے جو ہمیں ایک خدا، ایک رسول ۖ اور ایک قرآن کی طرح وحدت کی شکل دیں۔ آج منبر ومحراب سے کسی دوسر ے مسلمان بھائی کیخلاف فتوی بازی کی اجازت نہیں۔ وفاقی حکومت نے گزشتہ سال ہی ایک مذہبی جماعت کو پرتشدد کاروائیوں کی مرتکب قرار پانے پر کالعدم قرار دیدیا۔ یقینا مایوسی کفر ہے ۔ مملکت خداداد پاکستا ن میں بتدریج بہتر آرہی ہے ۔ عام پاکستانی درپیش حالات کو نہ صرف سمجھ رہا ہے بلکہ ممکن حد تک اسے بہتر بنانے میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے ۔ عدم تشدد کا فروغ یوں بھی ممکن ہے کہ ہم اپنے ہاں شرح خواندگی میں اضافے کو یقینی بنائیں ۔ اس سلسلے میں وفاق اور صوبوں کی جانب سے نئے سکولوں کا قیام ، آوٹ آف سکولوں سے بچوں کی واپسی ، غیر رسمی تعلیم ، لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ ، مفت کتابیں ، اساتذ ہ کی تربیت ،ڈیجٹل تعلیم کا فروغ، لیپ ٹاپ اسکیم ، طلبہ کی مالی معاونت ، فنی اورتکینکی تعلیم اور دیہی علاقوں تک معیاری تعلیم کی رسائی جیسے اقدمات یقینا دوررس نتائج کے حامل ہوسکتے ہیں۔اگر مگر کے باوجود معاشرے کو عدم تشدد سے روشنا س کروانے کیلئے جہاں حکومت کا کردار کلیدی نوعیت کا ہے وہی ہم میں سے ہر ایک کو اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ بقول علامہ اقبال
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں