حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد غزہ میں آباد فلسطینیوں کو اس انداز میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ ہلاکو خان کی بربریت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے غزہ چھوڑنے کے الٹی میٹم کے بعد فلسطینیوں کا محفوظ علاقوں کی طرف انخلا شروع ہو چکا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے غزہ پر تباہ کن بمباری سے سات ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اسرائیل فلسطین پر فضائی حملے تو کر ہی رہا تھا لیکن امریکی صدر بائیڈن اور برطانوی وزیرعظم کی آشیر باد کے بعد اسرائیل نے زمینی فوج سے بھی حملے شروع کر دیے ہیں۔ ایک طرف امریکہ اسرائیلی بمباری اور تشدد کی مکمل حمایت کر رہا ہے دوسری طرف سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں امریکی وزیر خارجہ بلکس نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور پرنس محمد بن سلیمان سے ملاقات کی لیکن ان کی یہ شٹل ڈپلومیسی ناکام رہی۔ ادھر جو بائیڈن حکومت کی اسرائیل کو اسلحہ سپلائی پالیسی کےخلاف امریکہ کے اسلحہ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر پال نے استعفیٰ دے دیا کیونکہ اسرائیل کو اسلحہ سپلائی کرنے میں امریکی کانگرس کی منظوری حاصل نہیں اور نہ ہی کانگرس میں اس پر کوئی بحث ہوئی۔ سعودی قیادت نے کھل کر فلسطین کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ در اصل سعودی عرب سے اسرائیل تسلیم کروانے کی امریکی کوششوں کو اسرائیل فلسطین جنگ سے سخت دھچکا پہنچا ہے۔ یو این او میں جنگ بندی کے لئے روس کی طرف سے پیش کی جانے والی جنگ بندی کی قرار داد کو امریکہ اور برطانیہ نے ویٹو کر دیا اس سے قبل مالٹا کی قرار داد بھی ناکام رہی۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹین کا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا لیکن اسرائیلی وزیراعظم کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بات آگے نہ بڑھ سکی۔ تمام بین الاقوامی قانونی ضابطوں اور جینوا کنونشن کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسرائیل جنگی جرائم کا ارتکاب تو پہلے ہی کر رہا تھا اب اس نے ہسپتالوں پر بھی بمباری شروع کر دی ہے۔ اس بمباری کا الزام بھی حماس پر لگا رہا ہے کہ ہسپتال پر بھی حماس نے راکٹ مارا تھا۔ عراق جنگ میں بھی امریکہ صدام حسین پر جنگ میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے جراثیمی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگاتا رہا اور برطانیہ نے اس کی حمایت کی بعد میں برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو قوم سے معافی مانگنا پڑی۔ غزہ کے ایک ہسپتال کی بلڈنگ پر بم گرا کر تباہ کر دیا گیا۔ اسرائیل کی سفاکی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ زخمی اور بے بس مریضوں کو علاج سے روک رہا ہے۔ اسرائیل اب عبادت گاہوں پر بمباری کر رہا ہے۔ اس نے غزہ کے ایک قدیم چرچ پر بمباری کرکے پناہ لئے ہوئے فلسطینی بچوں کو نشانہ بنایا۔ ترکی کے صدر طیب اردگان اور ایران نے کھل کر فلسطین کی حمایت کا اعلان کیا ہے پاکستان کے وزیراعظم اور آرمی چیف نے بھی فلسطینیوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ حکومت پاکستان نے مصر کے راستے متاثرہ اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کےلئے امداد بھیجی ہے۔ دنیا بھر سے فلسطینیوں کی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔ سامان اور خوراک سے بھرے ہوئے ٹرک اور ٹرالر غزہ میں داخلے کے منتظر ہیں۔ صرف بیس ٹرالروں کو غزہ میں داخلے کی اجازت ملی جو متاثرین کےلئے ناکافی ہیں۔ ادھر فلسطین کے بچے بوڑھے اور جوان بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں۔ اسرائیل نے ان کی مکمل ناکہ بندی کرکے بجلی پانی اور خوراک بند کر دی ہے۔ روسی صدر پوٹین جنگ بندی کے خواہش مند ہیں لیکن امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل کی حمایت میں اس حد تک اندھے ہو گئے ہیں کہ جنگ بندی کی طرف نہیں آ رہے ہیں۔ عربوں کو صرف اپنے ذاتی اور تجارتی مفادات عزیز ہیں اسی لئے وہ اب تک کوئی واضح موقف نہیں اپنا سکے۔ پاکستان اور دنیا بھر میں مظاہروں اور ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ او آئی سی صرف بیان بازی تک محدود ہے کوئی عملی قدام اٹھانے سے قاصر ہے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کے مکانات پر اتنی بمباری کی ہے کہ وہ مٹی کا ڈھیر بن گئے ہیں اور فلسطینی کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسرائیل امریکہ بر طانیہ اور یورپی یونین گٹھ جوڑ کی وجہ سے اقوام متحدہ بھی بے بس نظر آ رہی ہے اسرائیل اور مغربی ممالک کی دہشت گردی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب تیسری عالمی جنگ کی باتیں ہونے لگی ہیں۔ ان حالات میں چین روس امریکہ او آئی سی اور یو این او کو آگے بڑھ کر اس مسئلے کو حل کروانا ہو گا۔ ایمنسی انٹر نیشنل نے بھی غزہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ غزہ کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے مصر میں عرب اور مغربی ممالک کی امن سمٹ منعقد ہوئی لیکن مغربی ممالک نے جنگ بندی اور اسرائیل کی مزمت سے گریز کیا بلکہ ان کی کوشش تھی کہ عرب ممالک حماس کی کاروائیوں کی مذمت کریں لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ یو این سیکرٹری جنرل گوترس نے حماس اور اسرائیل کو جنگ بندی کے لئے کہا ہے ورنہ فلسطین میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے ۔ ایران کے وزیرخارجہ بھی فلسطین میں نسل کشی روکنے اور سیس فائر کی حمایت کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے فلسطین سے یکجہتی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو کس جرم میں قتل کیا گیا فلسطین پر چھ ہزار سے زیادہ بم گرائے گئے فلسطینی عوام اور بچے چل رہے ہیں اس مسئلے کا واحد حل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے جہاں فلسطین کے لوگ آزادی سے زندگی گزار سکیں ۔ اس وقت فلسطین کے لوگ نا مساعد حالات سے گزر رہے ہیں نہ بجلی ہے نہ پانی اور نہ ہی رہنے کےلئے گھر جو اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے تباہ ہو گئے ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمان اور مالی وسائل سے مالا مال عرب ممالک فلسطین سے صرف یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں عملی مدد کو کوئی نہیں آ رہا۔ اگر تمام عرب ممالک اکٹھے ہو جائیں تو اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے جیسے کہ سعودی فرمانروا شاہ فیصل نے تیل کا ہتھیار استعمال کرکے امریکہ اور مغرب کو جھکنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ جنگ بندی کب عمل میں آتی ہے۔





