بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 31.5°C
Monday, 06 July 2026 | پاکستان: 21 محرم 1448

قومی کانفرنس برائے جیل اصلاحات

Monday, 6 July, 2026

قیدیوں کے مسائل کو سب سمجھتے ہیں اور سب چپ تھے مگر اب نہیں ۔ دو جولائی کو قیدیوں کے مسائل پر کانفرنس سپریم کورٹ میں منعقد ہوئی جس میں خاص کر چاروں صوبوں کے چار چیف منسٹر کو آن بورڈ لینے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا گیا تھا۔پاکستان میں اکثر ٹرائل اور سزا یافتہ قیدیوں کو ایک جیل میں رکھا جاتا ہے اور قیدیوں کو گنجائش سے زیادہ رکھا جاتا ہے۔ پھر ان کی اپیلوں کے فیصلے دیر سے ہوتے ہیں۔جبکہ ٹرائل قیدیوں کی جیل ڈسٹرکٹ کچہری میں ہی ہونی چاہیے جیل اصلاحات پر قومی کانفرنس میں چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی چاروں صوبوں کے چیف منسٹرز وزیر قانون ، سپریم کورٹ کے چند ججز ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان چاروں صوبوں کے آئی جی ڈسٹرکٹ کورٹ کے ججز لا افسران وکلا باروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس سپریم کورٹ کی بلڈنگ میں جمعرات کے روز منعقد ہوئی جس کی وجہ سے سپریم کورٹ کی پارکنگ کو بند کر دیا گیا جس سے سائل اور وکلا مشکلات کا شکار ہوئے اس روز راقم جب صبح پہنچا تو پارکنگ میں جانے والا رستہ بیریئرز لگا کر بند کر رکھا تھا یہ سن کر غصے سے آوٹ والے راستے سے اِن ہوا جس سے کار کا ٹائر کٹ گیا۔ مگر پارکنگ میں کار کھڑی کرنے میں کامیاب ہوا۔سوال یہ ہے کہ یہ پارکنگ سپریم کورٹ کے وکلا کی بھی ہے۔ آج ورکنگ دن بھی تھا لہٰذا وکلا کو روکنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ بہتر ہوتا جگہ تبدیل کرتے یا یہ پروگرام چھٹی کے روز رکھا جاتا۔ یوں قیدیوں کے مسائل حل کرتے کرتے سائل اور وکلا کیلئے مسائل کھڑے کر دیئے۔ قیدیوں کے مسائل سے کون واقف نہیں ۔سب سے زیادہ ججز واقف ہیں۔ اس کانفرنس کے آخر میں چیف جسٹس صاحب نے پریس کانفرنس بھی کر دی جو کہ نہیں کرنی چاہیے تھی۔جبکہ آپ کو ملاقات میں راقم بتا چکا تھا کہ سپریم کورٹ کو آئی ایس پی آر کی طرح چلایا جائے۔ ان کے ڈی جی صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہیں آرمی چیف نہیں۔سپریم کورٹ کی تاریخ میں کہا جارہا ہے کہ پہلی بار کسی چیف جسٹس نے پریس کانفرنس کی ہے۔ مگر صحافیوں کو جوابات خوبصورت انداز میں دیئے۔ صحافی نے پوچھا جیل اصلاحات پر پروگرام کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ چیف جسٹس نے کہا جیلوں کا نظامِ انصاف کا آئینہ ہوتا ہے۔ اگر جیلوں کی حالت بہتر نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ فوجداری نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے صحافی نے سوال کیا سزائے موت اپیلوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ چیف جسٹس نے کہا ایک جیل کے دورے کے دوران ایک قیدی نے مجھے کہا تھا کہ اسے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں، صرف اپنی برسوں سے زیر التوا اپیل کے فیصلے کی ضرورت ہے۔ اس واقعے نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ ایسے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانا چاہیے۔
صحافی نے سوال کیا زیر التوا مقدمات کم ہو رہے ہیں جواب میں چیف جسٹس نے کہا جی ہاں، سپریم کورٹ نے خاص طور پر سزائے موت کی اپیلوں اور دیگر فوجداری مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لیے خصوصی بنچ تشکیل دیے ہیں اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔صحافی نیسوال کیا اس کی صرف عدلیہ ہی ذمہ دار ہے کیا؟ چیف جسٹس نے کہا نہیں۔ انصاف کی فراہمی ایک مشترکہ ذمہداری ہیپولیس جیل حکام پراسیکیوشن، وکلا اور حکومت سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔صحافی کا سوال قیدیوں کے حقوق کے بارے میں اپ کا کیا موقف ہے؟چیف جسٹس نے کہا قیدی سزا یافتہ ہو سکتا ہے، لیکن وہ اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم نہیں ہو جاتا۔ اسے قانون کے مطابق عزت علاج، خوراک اور انصاف ملنا چاہیے۔ اہم بات اس پریس کانفرنس کی یہ بتائی گئی کہ اس میں سیاسی مقدمات، عمران خان، نواز شریف یا دیگر زیرِ سماعت مقدمات پر چیف جسٹس نے کوئی بات نہیں کی۔ اس کانفرنس میں بتایا جاتا ہے دو اہم تقاریر خاص طور پر توجہ کا مرکز رہیں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی افتتاحی تقریر اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی تقریر ۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے اہم نکات یہ بتائے گئے۔ آپ نے کہا کہ جیلیں کسی بھی ملک کے نظامِ انصاف کی حقیقی عکاسی کرتی ہیں، اس لیے جیل اصلاحات صرف جیلوں کا نہیں بلکہ پورے فوجداری نظامِ انصاف کا معاملہ ہے۔انہوں نے زور دیا کہ قیدیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ اورصوبائی حکومتوں کی مشترکہ آئینی ذمہ داری ہے۔ان کے مطابق جیلوں میں صاف پانی، صحت کی سہولت، مناسب رہائش اور انسانی وقار کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ کہا کہ عدالتی اصلاحات صرف فیصلے دینے سے مکمل نہیں ہوتے، بلکہ ان فیصلوں پر موثر عمل درآمد بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اسی طرح وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ حکومت ملک بھر میں جیل قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامع اصلاحات لا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اصلاحات کسی ایک شخصیت کے لیے نہیں بلکہ ہزاروں عام قیدیوں کے لیے ہیں جو برسوں سے جیلوں میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام قیدیوں کے ساتھ قانون کے مطابق برابر کا سلوک ہونا چاہیے اور جیلوں کاماحول اصلاحی ہونا چاہیے،محض سزا پر مبنی نہیں۔اسلام آباد ڈیکلریشن آن پرزن ریفارمز کے اہم نکات پر چاروں صوبوں کے چیف منسٹر نے اس مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرتے ہوئے اتفاق کیا کہ غیر ضروری گرفتاریوں اور زیرِ سماعت قیدیوں کی تعداد کم کی جائے۔ ضمانت، قانونی امداد، پروبیشن اور پیرول کے نظام کو موثر بنایاجائے جیلوں میں صحت،صفائی، ذہنی صحت، تعلیم اور فنی تربیت کی سہولیات مزید بہتر کی جائیں۔ قیدیوں کی بحالی اور رہائی کے بعد انہیں معاشرے میں دوبارہ شامل ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔وفاق اور صوبے مل کر جیل اصلاحات کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیں۔ چاروں وزرائے اعلی نے جیل اصلاحات پر بات کی پنجاب کی چیف منسٹر صحابہ مریم نواز نے کہا مجھے اپنے ذاتی تجربے نے یہ احساس دلایا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قیدی کی انسانی عزت ہر حال میں محفوظ رہے۔جیل سزا کا حصہ ہے، لیکن قیدی کی تذلیل یا غیر انسانی سلوک سزا کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔کہا کہ پنجاب میں 45 جیلوں میں اصلاحات کی جا رہی ہیں، جن میں ایمرجنسی کال ، آن لائن ملاقات کا نظام قیدیوں کیلئے بہتر سہولیات اور انتظامی اصلاحات شامل ہیں۔ جیلوں کا معیار کسی معاشرے کے انصاف اور اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔ سندھ کے چیف منسٹر سید مراد علی شاہ نے کہا سندھ حکومت ایک ایسا نظامِ جیل قائم کرنا چاہتی ہے جو انسانی، جدید اور بحالی پر مبنی ہو۔ قیدیوں کے لیے صحت، تعلیم، فنی تربیت، قانونی امداد اور رہائی کے بعد معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس بات پر زور دیا کہ معاشرے کا تحفظ اور انسانی وقار ایک ساتھ برقرار رہناچاہیے چیف منسٹر بلوچستان سرفراز بگتی نے کہا بلوچستان روایتی جیل نظام سے نکل کر ایک اصلاحی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔حکومت جیل انتظامیہ، عدالتی لاک اپس اور قیدیوں کی بحالی کے نظام کو جدید بنانے پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بلوچستان حکومت عدلیہ کے ساتھ مل کر قانون کی حکمرانی کے مطابق اصلاحات نافذ کرے گی۔ وزرائے اعلی نے اسلام آباد ڈیکلریشن آن پرزن ریفارمز پر دستخط کیے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ جیلوں کو صرف سزا کی جگہ نہیں بلکہ اصلاح اور بحالی کا مرکز بنایا جائے۔ چیف منسٹر آفریدی نے انگلش اور اردو میں خطاب کیا۔ کہا اڈیالہ جیل میں ملاقاتیوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا جائے ۔ اپنے پارٹی لیڈر کی مشکلات کا بھی ذکر کیا ان چاروں وزرا اعلیٰ اور چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کا اس پروگرام میں شامل ہونے سے جیلوں میں قیدیوں کیلئے بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *