سویڈن دنیا کا وہ انوکھا ملک ہے جو اپنے ملک کا 99 فیصد کوڑا ری سائیکل کرتا ہے اور اپنے پاور پلانٹس چلانے اور بجلی پیدا کرنے کے لیے دوسرے ملکوں سے کوڑا خریدتا ہے۔ سویڈن میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے 34 جدید ویسٹ ٹو انرجی پلانٹس کام کر رہے ہیں۔ یہ پلانٹس نان ری سائیکل ایبل کچرے کو جلا کر توانائی پیدا کرتے ہیں چونکہ سویڈن کے شہری کچرا الگ الگ کرنے کے عادی ہیں اس لیے وہاں ان کے اپنے ملک کا کچرا پلانٹس چلانے کے لیے کم پڑ جاتا ہے۔ سویڈن سالانہ 20 سے 40 لاکھ ٹن کچرا برطانیہ، ناروے، اٹلی ، آئر لینڈ، پولینڈ اور فن لینڈ جیسے ممالک سے منگواتا ہے۔ سویڈن دوسرے ممالک کا کچرا اپنے ہاں ٹھکانے لگانے یعنی جلانے کے لیے باقاعدہ فیس لیتا ہے جسے گیٹ فیس کہا جاتا ہے، اوسطا 43 امریکی ڈالر فی ٹن کے حساب سے رقم وصول کرتا ہے۔ سویڈن اس سروس سے سالانہ 100 ملین ڈالر یعنی دس کروڑ ڈالر سے زائد کماتا ہے اور اس کچرے سے مفت بجلی بنا کر اپنے شہریوں کو دیتا ہے۔ پورے ویسٹ مینجمنٹ اور ری سائیکلنگ کے نظام سے بننے والی پروڈکٹس اور بجلی کی مجموعی سالانہ آمدنی 1.7 ارب یورو سے بھی زیادہ ہے۔ سویڈن کے لیے یہ ایک ڈبل منافع کا سودا ہے، وہ دوسرے ملکوں کا کوڑا اٹھانے کے 10 کروڑ ڈالر بھی لیتا ہے اور پھر اسی کوڑے سے مفت بجلی اور حرارت پیدا کر کے اپنے 10 لاکھ سے زائد گھروں کو فراہم کرتا ہے اور اڑھائی لاکھ گھروں کو بجلی بھی فراہم کرتا ہے۔
کچرا جلانے سے پیدا ہونے والے دھوئیں کو فلٹر کرنے کے لیے ان پلانٹس میں دنیا کے جدید ترین آلات نصب ہیں جس کی وجہ سے فضا میں زہریلی گیسوں کا اخراج تقریبا صفر فیصد ہوتا ہے۔ سویڈن میں کچرا جلانے والی ان بڑی مشینوں یا تنصیبات کو ویسٹ ٹو انرجی پلانٹس یا انسی نیریٹر پلانٹس کہا جاتا ہے۔ ان پلانٹس کے اندر لگے ہوئے بڑے بڑے بوائلرز میں کچرا جلا کر بجلی اور حرارت پیدا کی جاتی ہے۔یہ پلانٹس
اسٹاک ہوم، گوتھنبرگ، مالمو، ہیلسنگ برگی اور لنشوپنگ سویڈن کے تقریبا تمام بڑے شہروں اور صنعتی علاقوں کے قریب نصب ہیں۔سویڈن نے اپنے ڈسٹرکٹ ہیٹنگ نیٹ ورک گھروں کو گرم رکھنے کا پائپ لائن سسٹم کے تحت انہیں ملک بھر کے الگ الگ بلدیاتی اور شہری مراکز میں پھیلایا ہوا ہے تاکہ کچرا جلتے ہی اس کی حرارت قریبی گھروں تک آسانی سے پہنچائی جا سکے۔
سویڈن میں ہر گھر کے باہر چھ سے سات مختلف رنگوں کے ڈبے ہوتے ہیں۔ شہری خود شیشہ، پلاسٹک، کاغذ اور نامیاتی کچرا الگ کرتے ہیں۔ ہر رہائشی علاقے کے 300 میٹر کے اندر کچرا جمع کرنے کا اسٹیشن ہوتا ہے۔ سویڈن کے لوگ کچرا گلیوں میں نہیں پھینکتے ہیں اور اسے الگ الگ ڈبوں میں ڈالتے ہیں کیونکہ یہ ان کی عادت، سخت قوانین اور حکومتی نظام کے باعث ہے۔ سویڈن میں اس عمل کو کچرے کی درجہ بندیں کہا جاتا ہے۔ سویڈن میں جب کوئی شخص پلاسٹک کی بوتل یا ایلومینیم کا کین خریدتا ہے تو وہ اس کی اصل قیمت سے تھوڑی زیادہ رقم ادا کرتا ہے۔ وہ بوتل یا کین خالی ہونے پر گلی میں پھینکنے کے بجائے سپر مارکیٹ میں لگی ایک مخصوص مشین میں ڈالتا ہے تو اسے نقد یا شاپنگ واچر کی صورت میں رقم واپس مل جاتی ہے۔
اس مالی فائدے کی وجہ سے سویڈن میں 85 فیصد سے زیادہ بوتلیں خود بخود ری سائیکلنگ سینٹرز تک پہنچ جاتی ہیں۔ سویڈن کے لوگوں کے لیے کچرا الگ کرنا بہت آسان بنا دیا گیا ہے۔ ہر محلے، گلی یا اپارٹمنٹ بلڈنگ کے باہر مختلف رنگوں کے ڈبے ہوتے ہیں جن پر تصویریں بنی ہوتی ہیں۔ ایک ڈبہ صرف شیشے کے لیے، ایک کاغذ کے لیے، ایک پلاسٹک کے لیے، ایک دھات کے لیے اور ایک نامیاتی کچرے کے لیے چونکہ یہ ڈبے گھر کے بالکل پاس ہوتے ہیں، اس لیے لوگ آسانی سے کچرا الگ کر کے ڈال دیتے ہیں۔ سویڈن میں بچوں کو ڈے کیئر اور اسکول کے ابتدائی دنوں سے ہی یہ سکھایا جاتا ہے کہ کچرا گلی میں پھینکنا بہت بری بات ہے اور اسے الگ الگ کیسے کرنا ہے۔ سویڈن کی ثقافت میں ماحول کی حفاظت کو ایک قومی فریضہ سمجھا جاتا ہے جسے وہ توازن کی زندگی کے فلسفے کا حصہ مانتے ہیں۔ سویڈن میں گلیوں یا عوامی مقامات پر کچرا پھینکنا غیر قانونی ہے۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہوا پکڑا جائے تو اسے پولیس کی طرف سے بھاری جرمانہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہاں ایک سخت سماجی دبا بھی ہے، اگر کوئی گلی میں کچرا پھینکے تو آس پاس کے لوگ اسے بہت بری نظر سے دیکھتے ہیں یا اسے ٹوک دیتے ہیں۔ سویڈن کے لوگوں کی صحیح تربیت اور ماحولیاتی شعور نے کچرے جیسی ناکارہ چیز کو ایک عظیم نعمت اور معاشی طاقت میں بدل دیا ہے، دنیا کے سب سے بڑے ماحولیاتی مسئلے کو ملین ڈالر کے منافع بخش کاروبار میں بدل دیا ہے۔ سویڈن کے لوگ کچرا الگ الگ نہ کرتے اور سلیقہ مند نہ ہوتیتو دنیا کے جدید ترین پلانٹس بھی کسی کام کے نہ ہوتے۔ ان کی اس تربیت نے کچرے کو نعمتوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ عوام کی تربیت درست ہو اور حکومت کا نظام مضبوط ہو تو جس کچرے کو دنیا مصیبت سمجھتی ہے، اسے ملکی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ جہاں سویڈن کچرے کو سونا بنا رہا ہے، وہاں وطن عزیز پاکستان میں قدرت کی دی ہوئی صاف ہوا اور پانی کو کچرا بنا دیا ہے۔ ہر سال اربوں روپے کا ایندھن کوئلہ اور تیل باہر سے منگوا کر بجلی بناتے ہیں جبکہ شہروں کی سڑکوں پر ایندھن کچرے کی شکل میں بکھرا پڑا ہے جسے صرف جلا کر فضا کو زہریلا کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کی حکومتیں اسموگ اور ویسٹ مینجمنٹ پر اربوں روپے ضائع کرتی ہیں۔ کچرا مسئلہ نہیں ہے، کچرا سنبھالنے کی نااہلی اصل مسئلہ ہے۔ سویڈن کے ماڈل سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں کچرے کو ایک مصیبت سمجھا جاتا ہے جبکہ سویڈن کی طرح اگر درست منصوبہ بندی کی جائے تو یہ پاکستان کے لیے سستی بجلی، گیس اور صاف ستھرے شہروں کا باعث بن سکتا ہے۔ سویڈن میں کچرا گھر سے ہی الگ ہو کر نکلتا ہے۔ پاکستان میں حکومت ہر گھر یا ہر گلی میں تین رنگوں والے ڈبے رکھنا لازمی قرار دیں جیسے ہرا ڈبہ کچن کا فضلہ سبزیاں، پھل، بچا ہوا کھانا۔ نیلا ڈبہ ری سائیکل ہونے والا کچرا پلاسٹک، کاغذ، شیشہ، گتہ۔ لال یا کالا ڈبہ دیگر ناکارہ کچرا۔ اسکولوں کے بچوں کو بچپن سے ہی کچرا الگ کرنے اور صفائی کی اہمیت سکھائی جائے تاکہ یہ ان کی عادت بن جائے۔ پاکستان میں کچرے کا 50 سے 60 فیصد حصہ نامیاتی یعنی کچن کا فضلہ ہوتا ہے۔ اس کچرے کو شہروں سے باہر بڑے بائیو گیس پلانٹس میں منتقل کیا جائے۔ اس سے پیدا ہونے والی بائیو گیس کو بسوں، سرکاری گاڑیوں اور گھروں میں سلنڈرز کی صورت میں سستے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے ایل پی جی کی درآمد پر خرچ ہونے والا زر مبادلہ بچے گا۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں روزانہ ہزاروں ٹن کچرا پیدا ہوتا ہیجو کچرا ری سائیکل نہیں ہو سکتا، اسے جدید پلانٹس میں جلا کر ہائی پریشر بھاپ بنائی جائے اور اس سے ٹربائن چلا کر بجلی پیدا کی جائے۔ کچرے سے بننے والی بجلی فرنس آئل اور کوئلے کے مقابلے میں بہت سستی ہوگی جس سے گردشی قرضے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔پاکستان میں کباڑی اور کچرا چننے والے ری سائیکلنگ کا ایک بڑا کام غیر رسمی طور پر کر رہے ہیں۔ حکومت ان لوگوں کو رجسٹرڈ کرے، انہیں دستانے، ماسک اور مخصوص یونیفارم دے اور ان کے ذریعے کچرا جمع کرنے کا نظام جدید بنائے۔ اس سے لاکھوں غریب لوگوں کو باعزت روزگار ملے گا اور کچرے کی چھانٹی آسان ہو جائے گی۔ پلاسٹک اور پیکیجنگ بنانے والی کمپنیوں پر قانونا لازم کیا جائے کہ وہ اپنے فروخت کردہ پلاسٹک کا ایک مخصوص حصہ مارکیٹ سے واپس اٹھا کر ری سائیکل کرنے کی ذمہ دار ہوں ورنہ ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔ لاہور کی لکھو ڈیر یا کراچی کی جام چاکرو جیسی کچرے کی کھلی سائٹس شہروں کے لیے ٹائم بم ہیں۔ ان کو فوری طور پر سائنسی بنیادوں پر کور کیا جائے تاکہ ان سے نکلنے والی زہریلی گیسیں اور کیمیکل زیر زمین پانی کو مزید خراب نہ کریں۔ پاکستان صرف لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں سے ہی اس ماڈل کا آغاز کر دے تو ہم نہ صرف اپنے شہروں کو صاف کر سکتے ہیں بلکہ توانائی کے بحران پر بھی کافی حد تک قابو پا سکتے ہیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں