بھارتی علاقے لداخ میں خودمختاری کے لیے احتجاج میں ہلاکتوں کو ایک سال مکمل ہونے پر شٹرڈاؤن کیا گیا۔ 24 ستمبر 2025 کو ہمالیہ کے خطے میں لداخ میں ہونے والے مظاہروں کے پرتشدد ہونے پر سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی تھی جس میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ لداخ میں بے چینی کی بنیادی وجہ بھارتی حکومت کا 2019 میں ہونے والا وہ فیصلہ ہے جس کے تحت لداخ کی محدود خود مختاری ختم کر کے وہاں براہ حکومتی نظام نافذ کیا گیا تھا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمعرات کو لیہہ شہر میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے اور سڑکیں بھی سنسان نظر آئیں، ہڑتال کی اپیل ایک بدھ مت تنظیم کی جانب سے کی گئی تھی۔ شہری ہلاکتوں کی برسی کے موقعے پر اپنے مطالبات کے حق میں ماحولیاتی و سماجی کارکن سونم وانگ چْک لیہہ میں 20 کلومیٹر طویل علامتی پیدل مارچ یا پدیاترا کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کارگل میں بھی ایک مارچ نکالا جا رہا ہے۔بدھ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ شٹرڈاؤن ان لوگوں کی یاد میں کیا گیا ہے جنہوں نے لداخ کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور یہ اقدام ان کے خاندانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کیا گیا ہے جبکہ اس کا مقصد خود مختاری کے مطالبے کو بھی اجاگر کرنا ہے۔مقامی لوگوں نے احتجاج میں جان سے جانے والے افراد ‘شہید’ قرار دیا اور ان کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔لداخ بھارت کیلئے تذویراتی طور پر ایک اہم علاقہ ہے کیونکہ اس کی سرحدیں حریف ممالک چین اور پاکستان کے ساتھ لگتی ہیں۔اس وسیع علاقے میں قریباً تین لاکھ افراد رہتے ہیں، ان میں نصف مسلمان اور قریباً 40 فیصد بدھ مت کے ماننے والے ہیں۔وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے 2019 میں لداخ کوبھارت کے زیرانتظام کشمیر سے الگ کیے جانے کے بعد مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نیم خود مختاری ختم ہونے سے زمین، ملازمتوں، وسائل اور ثقافتی شناخت سے متعلق ان کے حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اب لداخ کے حوالے سے زیادہ تر فیصلے نئی دہلی میں ہوتے ہیں اور باہر سے آنیوالے حکام ان پر عمل درآمد کرواتے ہیں جس سے مقامی طور پر منتخب کونسل کا کردار محدود ہو گیا ہے۔ نئی دہلی کی جانب سے مقرر کیے لداخ کے منتظم اعلیٰ نے کہا تھا کہ پچھلے سال کے احتجاج کے بعد مقدمات کا سامنا کرنیوالے 89 افراد میں سے کچھ کیخلاف فوجداری کارروائی ختم کر دی جائے گی۔لداخ کے گورنر لیفٹیننٹ وینائے کمار سکسینا نے کہا کہ ‘لداخ میں امن، سکون اور سماجی ہم آہنگی کے مقصد کے تحت میں نے پچھلے سال 24 ستمبر کو ہونے والے تشدد کے افسوسناک واقعے سے متعلق 20 افراد کے خلاف فوجداری مقدمات واپس لینے کی منظوری دی ہے ۔ ‘ احتجاج کے بعد سے مرکزی وزارت داخلہ کے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے مگر مقامی لوگ ابھی تک چند محدود مطالبات منوانے میں ہی کامیاب ہوئے ہیں۔وانگ چْک، جو ‘لیہہ ایپکس باڈی’ کا حصہ ہیں اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس کے ساتھ مل کر مرکزی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہیں، نے ملک بھر کے لوگوں سے لداخ کی حمایت میں کھڑے ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف دیہاتوں میں اسکول بند ہو رہے ہیں تو دوسری طرف یوٹی کی انتظامیہ گاؤں گاؤں شراب کی دکانیں کھول رہی ہے۔ تہواروں پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں لیکن پچھلے سال لداخ کی ثقافت اور ماحول کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنیوالے شہدا کو صرف 15 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جا رہا ہے۔لداخ انتظامیہ نے اس ماہ کے شروع میں مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کیلئے 15 لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ شدید زخمی ہونے والے افراد کیلئے فی کس تین لاکھ روپے اور معمولی زخمیوں کیلئے فی کس ایک لاکھ روپے کا اعلان کیا گیا تھا۔وانگ چْک نے وادی نبرا میں خواتین و مردوں کے ایک گروپ کے ساتھ کھڑے ہو کر سال 1971 کی جنگ کے دوران سرحدوں کی حفاظت میں مقامی لوگوں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لوگ اسے اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ہم قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ شہدا کے اس مہینے میں لداخ کے ساتھ کھڑی ہو۔ شہدا کو پورے احترام کے ساتھ معاوضہ دیا جانا چاہیے۔ ایک بار جب یونین ٹیریٹری میں جمہوری نظام قائم ہو جائے، تو اس کے بعد زمین، شراب پالیسی، صنعت اور سیاحت جیسے بڑے فیصلے اجتماعی طور پر لیے جانے چاہئیں۔ایک دن قبل، لداخ کے چیف سکریٹری آشیش کندرا نے آرٹیکل 371 کے تحت لداخ کیلئے ایک نئے فریم ورک کا وعدہ کیا تھا جو کہ زمین، ثقافت، روزگار اور ماحول پر مشتمل یونین ٹیریٹری کی مخصوص ضروریات کا تحفظ کر سکے۔ اس مسودے پر اکتوبر کے پہلے ہفتے میں وزارتِ داخلہ کی قیادت میں قائم پینل کے ساتھ اگلی میٹنگ میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ 24 ستمبر کو ہلاک ہونے والے چار شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے لداخ کے مطالبات کی حمایت کی اور کہا کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں ایک مؤثر آواز کیلئے جمہوریت اور نمائندہ اداروں کو مکمل طور پر بحال کیا جانا چاہیے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں