بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Monday, 29 June 2026 | پاکستان: 15 محرم 1448

محفوظ بچپن۔۔۔!

Monday, 29 June, 2026

کسی بھی وسیب میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم صرف قانونی مسئلہ نہیں ہوتے بلکہ یہ اخلاقی، سماجی، نفسیاتی اور تعلیمی بحران بھی ہوتے ہیں۔ جب کوئی بچہ یا بچی اس قسم کے ظلم کا شکار ہوتی ہے تو صرف ایک فرد متاثر نہیں ہوتا بلکہ پورا خاندان ، پورا معاشرہ اور آنے والی نسلوں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ ایسے بچے اکثر پوری زندگی ذہنی دبائو، خوف، احساسِ محرومی اور نفسیاتی مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ بہت سے بچے اپنی تکلیف کسی سے بیان بھی نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے ان کی شخصیت، تعلیم، صحت اور مستقبل بری طرح متاثر ہوتا ہے۔پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران بچوں کے خلاف جنسی زیادتی، اغوا اور تشدد کے ہزاروں واقعات مختلف اداروں کے ریکارڈ میں آ چکے ہیں۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ ہر سال ہزاروں بچے مختلف نوعیت کے تشدد اور استحصال کا شکار ہوتے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے واقعات معاشرتی بدنامی، خوف، دبا یا انصاف نہ ملنے کے اندیشے کی وجہ سے رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔ یہی صورتحال دنیا کے متعدد ممالک میں بھی موجود ہے جہاں ہر سال ہزاروں بچے جنسی جرائم کا نشانہ بنتے ہیں۔ بچوں کے خلاف جنسی جرائم صرف غریب یا کم تعلیم یافتہ معاشروں تک محدود نہیں۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس، جرمنی، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک بھی اس مسئلے سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان ممالک نے اس خطرے کو تسلیم کرتے ہوئے بچوں کے تحفظ کے لیے مضبوط نظام قائم کیے ہیں۔ وہاں والدین کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے، اسکولوں میں بچوں کو اس بارے میں تعلیم دی جاتی ہے، مشتبہ افراد کی نگرانی کی جاتی ہے، بچوں کے ساتھ کام کرنے والے افراد کا پس منظر جانچا جاتا ہے۔ہمارے سماج میں ایک بڑی غلطی یہ ہے کہ والدین اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ خطرہ صرف اجنبی افراد سے ہوتا ہے جبکہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے افراد میں بعض اوقات ایسے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جنہیں بچہ یا خاندان پہلے سے جانتا ہوتا ہے۔والدین کی ذمہ داری سب سے زیادہ اہم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو غیر ضروری طور پر اکیلے باہر نہ بھیجیں۔ محلے کی دکان، ٹیوشن سنٹر، غیر ضروری اکیلے سفر اور ایسے مقامات جہاں مناسب نگرانی نہ ہو، وہاں بچوں کو تنہا بھیجنے سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے۔والدین کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا بچہ کہاں جا رہا ہے، کس کے ساتھ جا رہا ہے اور کب واپس آئے گا؟بچوں کی دینی اور دنیاوی تعلیم نہایت اہم ہے لیکن اس کے ساتھ ان کی حفاظت اس سے بھی زیادہ اہم ذمہ داری ہے۔ اگر والدین خود بچوں کو پڑھا سکتے ہوں تو یہ بہترین بات ہے اور اگر کسی استاد یا قاری کے پاس بھیجنا ضروری ہو تو ایسے افراد کے کردار، شہرت اور ماحول کے بارے میں مکمل اطمینان کرنا چاہیے۔ جہاں ممکن ہو، آن لائن تعلیم یا ایسے مراکز کا انتخاب کیا جا سکتا ہے جہاں نگرانی کا مثر نظام موجود ہو۔اسی طرح بچوں کو ہر وقت گلیوں میں بے مقصد کھیلنے کے لیے چھوڑ دینا بھی دانشمندانہ طرز عمل نہیں۔ کھیل بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہے لیکن کھیل محفوظ ماحول میں ہونا چاہیے۔ بہتر یہ ہے کہ والدین کی موجودگی میں پارک، کھیل کے میدان یا دیگر محفوظ مقامات پر بچوں کو کھیلنے کا موقع دیا جائے تاکہ وہ جسمانی سرگرمی بھی جاری رکھ سکیں اور غیر محفوظ حالات سے بھی بچے رہیں ۔ تعلیمی اداروں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ ہر اسکول، کالج، مدرسے اور اکیڈمی میں بچوں کے تحفظ کیلئے واضح پالیسی ہونی چاہیے۔ مختلف تنظیموں کے مطابق ہر سال ہزاروں بچے جنسی تشدد، اغوا اور جسمانی استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ پڑوسی بھارت میں بھی بچوں کے تحفظ کیلئے خصوصی قوانین موجود ہیں لیکن وہاں بھی ہر سال ہزاروں مقدمات درج ہوتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ قانون کے ساتھ ساتھ سماجی شعور، والدین کی نگرانی اور موثر حفاظتی نظام بھی ناگزیر ہیں ۔ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں بچے کسی نہ کسی شکل میں جنسی استحصال، آن لائن استحصال، انسانی اسمگلنگ یا تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک ملک، مذہب یا معاشرے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک سنگین چیلنج ہے۔ اسی لیے ترقی یافتہ ممالک مسلسل آگاہی، تحقیق، تربیت اور حفاظتی نظام کو بہتر بنا رہے ہیں۔ٹیلی ویژن، اخبارات، ریڈیو، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کو صرف کسی افسوسناک واقعے کے بعد جذباتی بحث تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ مستقل بنیادوں پر والدین، اساتذہ اور بچوں کیلئے آگاہی مہمات چلانی چاہئیں۔ ڈراموں، دستاویزی فلموں، عوامی خدمت کے پیغامات اور تعلیمی پروگراموں کے ذریعے بچوں کے تحفظ کا شعور پیدا کیا جا سکتا ہے ۔ اسی طرح سماجی تنظیموں، مساجد، کمیونٹی مراکز اور مقامی نمائندوں کو بھی عوامی آگاہی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں بچوں کی ہنسی محفوظ ہو، ان کے خواب محفوظ ہوں اور ان کا مستقبل خوف سے آزاد ہو۔ قصور کی زینب، سرگودھا کی منتہا زہرا اور ایسے تمام معصوم بچوں کے المناک واقعات پر افسوس، مذمت، احتجاج اور وقتی جذبات کافی نہیں ہوتے۔ اصل ضرورت ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جہاں والدین اپنی ذمہ داری پوری کریں، تعلیمی ادارے اپنی نگرانی مضبوط بنائیں، میڈیا شعور پیدا کرے، ریاست مثر نظام قائم کرے اور ہر شہری بچوں کے تحفظ کو اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھے۔ جب احتیاط، آگاہی، اخلاقی تربیت، مضبوط ادارے، بروقت انصاف اور اجتماعی ذمہ داری ایک ساتھ کام کرینگے تو یقینا ایسے دل خراش واقعات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ معصوم بچوں کا محفوظ بچپن صرف والدین کا خواب نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور یہی وہ ذمہ داری ہے جسے نبھا کر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک زیادہ محفوظ، باوقار اور پرامن پاکستان دے سکتے ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *