کسی بھی معاشرے کی مضبوطی، ترقی اور خوشحالی کا انحصار صرف معاشی وسائل، جدید ٹیکنالوجی یا مضبوط اداروں پر نہیں ہوتا بلکہ اس کی اصل طاقت باہمی احترام، برداشت، اتحاد کے علاہ مذہبی ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مکاتبِ فکر، مذہبی طبقات، ثقافتی روایات اور لسانی اکائیاں صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ ایسے معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی محض ایک خوبصورت تصور نہیں بلکہ قومی استحکام اور روشن مستقبل کی بنیادی ضرورت ہے۔اسلام نے انسانیت، رواداری، عدل، اخوت اور احترامِ انسان کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ قرآن کریم انسانوں کو باہمی تعارف، احترام اور نیکی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ رسول اکرم ۖ کی حیاتِ مبارکہ بھی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ مختلف عقائد اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ عدل، حسنِ سلوک اور رواداری کا مظاہرہ کیا جائے۔ ریاستِ مدینہ میں مختلف مذاہب اور قبائل کے لوگوں کے حقوق کا تحفظ اس امر کی روشن مثال ہے کہ ایک معاشرہ اختلاف کے باوجود اتحاد اور امن کے اصولوں پر قائم رہ سکتا ہے۔آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ نے فاصلے کم کر دیے ہیں، مگر بعض اوقات غلط معلومات، افواہیں، اشتعال انگیز مواد اور نفرت پر مبنی بیانیے معاشرتی فاصلے بڑھا دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی طاقت مثبت مقاصد کیلئے استعمال ہو تو یہ مختلف طبقات کو قریب لانے کا مثر ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن غیر ذمہ دارانہ استعمال مذہبی اور سماجی حساسیت کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ اظہارِ رائے کے ساتھ ذمہ داری، احتیاط اور اخلاقی اصولوں کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔مذہبی ہم آہنگی کا مطلب یہ نہیں کہ مختلف مذاہب یا مکاتبِ فکر کے درمیان موجود فکری اختلافات ختم کر دیے جائیں۔ اختلافِ رائے انسانی معاشرے کا فطری حصہ ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ ایک دوسرے کے عقائد، عبادات، مذہبی جذبات اور بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے اور اختلاف کے باوجود مشترکہ قومی مفادات پر متحد رہا جائے۔پاکستان میں اقلیتیں بھی ملکی معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے جان و مال، عبادت گاہوں، مذہبی آزادی اور شہری حقوق کا تحفظ ایک مضبوط اور مہذب ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جب ہر شہری خود کو برابر کا پاکستانی اور محفوظ سمجھتا ہے تو ریاست کے ساتھ اس کا تعلق مزید مضبوط ہوتا ہے۔ اسی طرح اکثریتی آبادی کا مثبت رویہ اور مذہبی رواداری معاشرے میں اعتماد کی فضا پیدا کرتی ہے۔سماجی یکجہتی کے فروغ میں تعلیم کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو صرف کتابی علم ہی نہیں بلکہ برداشت، مکالمے، اختلافِ رائے کے احترام اور شہری ذمہ داریوں کی تربیت بھی دی جانی چاہیے۔ نوجوان نسل اگر نفرت کے بجائے دلیل، تصادم کے بجائے مکالمے اور تقسیم کے بجائے اتحاد کو ترجیح دے تو معاشرے کی سمت تبدیل کی جا سکتی ہے۔علمائے کرام، مذہبی رہنما، اساتذہ، دانشور، صحافی اور سیاسی قیادت بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ منبر و محراب، ذرائع ابلاغ اور عوامی اجتماعات سے ایسا پیغام سامنے آنا چاہیے جو انسانوں کو جوڑنے، معاشرے میں امن پیدا کرنے اور قومی وحدت کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنے۔ مذہبی قیادت اگر مشترکہ انسانی اور قومی اقدار کو اجاگر کرے تو اس کے مثبت اثرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکتے ہیں۔میڈیا پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ خبروں اور تبصروں میں سنسنی خیزی کے بجائے ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ایسے موضوعات جن سے مذہبی جذبات مجروح ہونے کا خدشہ ہو، ان پر گفتگو کرتے ہوئے الفاظ کے انتخاب، حقائق کی تصدیق اور قومی مفاد کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔ مثبت صحافت معاشرے میں اعتماد، امید اور اتحاد پیدا کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔حکومت کو بھی مذہبی ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی کیلئے موثر پالیسیوں، قانون کی یکساں عمل داری اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کو یقینی بنانا ہوگا۔ امن و امان کا قیام صرف ریاستی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کا مشترکہ فرض ہے۔ قانون کی بالادستی اور انصاف کا یکساں نظام ہی وہ بنیاد فراہم کر سکتا ہے جس پر ایک متحد اور پرامن معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔پاکستان کی قومی تاریخ گواہ ہے کہ مشکل حالات میں قوم نے ہمیشہ اتحاد اور باہمی تعاون کی طاقت سے بڑے چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے۔ آج بھی ہمیں اپنی مشترکہ شناخت کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے درمیان مذہبی، لسانی اور ثقافتی تنوع ہماری کمزوری نہیں بلکہ ہماری اجتماعی خوبصورتی اور طاقت بن سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اختلاف کو تقسیم کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے باہمی فہم و شعور کا وسیلہ بنائیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سنیں، سمجھیں اور احترام دیں۔ نفرت کے مقابلے میں محبت، تعصب کے مقابلے میں انصاف، اشتعال کے مقابلے میں تحمل اور تقسیم کے مقابلے میں اتحاد کو اختیار کریں۔ مذہبی ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک پرامن، مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ریاست بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ایک ایسا پاکستان جہاں مسجد، امام بارگاہ، چرچ، مندر اور دیگر عبادت گاہیں امن کی علامت ہوں، جہاں ہر شہری کو عزت اور تحفظ حاصل ہو اور جہاں اختلاف کے باوجود دل ایک دوسرے کے قریب ہوں، ہماری اجتماعی منزل ہونی چاہیے۔ یہی قومی یکجہتی کا حقیقی مفہوم اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں