مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کوئی تجریدی نعرہ نہیں ایک زندہ سماجی رویہ ہے، جو معاشروں کو جوڑتا اور ریاستوں کو مضبوط بناتا ہے۔ اس کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ مختلف مذاہب اور مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے کے عقائد، عبادات اور مقدس شخصیات کا احترام کریں، اختلاف کو تصادم میں بدلنے کے بجائے برداشت اور مکالمے کے دائرے میں رکھیں، اور کسی پر اپنے نظریات مسلط کرنے سے گریز کریں۔ یہی طرزِ فکر صحت مند، متوازن اور پرامن معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔پاکستان کثیر المذہبی اور کثیرالمسالک ریاست ہے۔ اگرچہ مسلمان اکثریت میں ہیں، مگر اقلیتیں بھی صدیوں سے اس سرزمین کا حصہ ہیں۔ نفرت، تعصب اور عدم برداشت معاشرے کو تقسیم کر دیتے ہی جبکہ احترام، برداشت اور باہمی اعتماد ترقی اور استحکام کی راہیں ہموار کرتے ہیں ۔ آئینِ پاکستان مذہبی ہم آہنگی کا واضح فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 20 ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل، عبادت اور تبلیغ کی آزادی دیتا ہے۔ آرٹیکل 25 قانون کی نظر میں برابری کا اصول طے کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 36 ریاست کو اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کا پابند بناتا ہے۔ یہ دفعات اس حقیقت کی غماز ہیں کہ مذہبی رواداری سماجی اور آئینی ذمہ داری ہے۔ تاہم المیہ یہ ہے کہ قانون اور آئین اگر کتابوں تک محدود رہیں اور عملی زندگی میں ان کا عکس نظر نہ آئے تو ہم آہنگی ایک خواب ہی رہ جاتی ہے۔اسلام کی تعلیمات مذہبی رواداری کی مضبوط ترین بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ نبی کریم ۖ کی سیرتِ طیبہ اس حوالے سے مکمل ضابط حیات ہے۔ میثاقِ مدینہ میں مختلف مذاہب کو برابر کے شہری حقوق دینا، نجران کے عیسائیوں کو مسجد نبوی میں عبادت کی اجازت دینا، اور یہودیوں کے ساتھ معاہدات میں ان کے مذہبی و معاشی حقوق کا تحفظ یہ سب اسلام کے روشن، معتدل اور انسان دوست چہرے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آپ ۖ کا یہ ارشاد کہ جس نے کسی ذمی کو تکلیف دی، اس نے مجھے تکلیف دی مذہبی اقلیتوں کے احترام کی واضح دلیل ہے۔قرآنِ مجید بھی جبر، تحقیر اور اشتعال کی نفی کرتا ہے۔ لا ِراہ فِی الدِینِ دین میں جبر کے ہر تصور کو رد کرتا ہے، جبکہ ولا تسبوا الذِین یدعون مِن دونِ اللہِ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود زبان اور رویے کی شائستگی برقرار رکھی جائے۔ اسلام دلیل، حکمت اور اخلاق کا دین ہے، نفرت اور تحقیر کا نہیں۔ مذہبی ہم آہنگی کا تعلق صرف ریاست، علما یا عدالتوں سے نہیں، بلکہ ہر فرد کے طرزِ عمل سے ہے۔ جب تک ہم برداشت، تحمل اور دوسروں کو موقع دینے کا حوصلہ پیدا نہیں کریں گے، ہم خود بھی امن کی فضا سے محروم رہیں گے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جیو اور جینے دو کا اصول ایک عملی حکمتِ عملی بن جاتا ہے۔مسالک کے درمیان اختلافات حقیقت ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ مشکل اوقات میں اتحاد بھی ممکن رہا ہے۔ تحریکِ پاکستان سے لیکر پیغامِ پاکستان تک، مختلف مسالک نے مشترکہ پلیٹ فارمز پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ آج جب عالمی سطح پر مسلم شناخت کو عمومی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو داخلی انتشار ہمارے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سنی، شیعہ، اہلِ حدیث اور دیگر مسالک کو باہمی اختلافات کے باوجود اتحاد اور احترام کا پیغام دینا ہوگا تاکہ یہ واضح ہو کہ ہم اختلاف کے باوجود ایک امت اور قوم ہیں ۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ آئینی ضمانتوں پر بلاامتیاز عملدرآمد کو یقینی بنائے اور سیاسی مفادات کیلئے مذہبی ہم آہنگی کو دا پر نہ لگایا جائے۔ قانون کی عمل داری، اقلیتوں اور مختلف مسالک کے تحفظ، اور نفرت انگیز رجحانات کے سدباب کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر فرد کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا نفرت پھیلانے کے بجائے محبت، تعصب کے بجائے انصاف اور تصادم کے بجائے مکالمہ اپنانا ہوگا ۔ قائداعظم محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان سے چند دن قبل واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ریاست ہر شہری کو اپنے مذہب، عبادت گاہ اور عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی دے گی۔ یہ محض سیاسی بیان نہیں بلکہ پاکستان کے مزاج اور مستقبل کا تعین تھا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس وژن کو عملی شکل دیں ۔ مذہبی ہم آہنگی کوئی وقتی مہم نہیں، مسلسل جدوجہد ہے۔ اگر ہم واقعی پرامن، مستحکم اور باوقار پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں نفرت کے بیانیے کو ترک کر کے جیو اور جینے دو کو قومی طرزِ فکر بنانا ہوگا۔ یہی راستہ ہماری آنے والی نسلوں کو برداشت، احترام اور امن کی طرف لے جا سکتا ہے، اور یہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں