جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے مختلف مواقع پر مودی حکومت کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے جس میں مودی حکومت کی خارجہ پالیسی بالخصوص غزہ میں جاری انسانی بحران کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل پر گہری مایوسی اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مودی حکومت کا یہ اقدام ان کروڑوں ہندوستانیوں کیلئے باعثِ مایوسی ہے جو ہندوستان کے روایتی منصفانہ کردار اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت پر فخر کرتے ہیں۔مودی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے حق میں اور فلسطینی انسانی حقوق کے اداروں کے خلاف ووٹ دینے کی پالیسی کی بھی سخت مخالفت کی اور حکومت سے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔دہلی کے جنتر منتر پر مساجد، مدارس اور دیگر مسلم عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کے حکومتی اقدامات اور تادیبی کارروائیوں کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں مودی حکومت کی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بنایا۔ انہوں نے ملک میں اقلیتوں کے تحفظ، انصاف اور مساوات کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔سید سعادت اللہ حسینی مودی حکومت کی جانب سے ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی اور نفرت انگیز بیانات پر مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کا موقف رہا ہے کہ ملک کی سلامتی، معیشت اور نوجوانوں کے روزگار جیسے سنگین مسائل کو حل کرنے کے بجائے فرقہ وارانہ تناؤ پیدا کرنا اور مسلمانوں کیخلاف نفرت کو سیاسی فائدے کیلئے استعمال کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے ۔ مجموعی طور پر، ان کے بیانات مودی حکومت کے ہندوتوا نظریات، اقلیتوں پر دباؤ، اور ہندوستان کے تاریخی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ عالمی موقف سے انحراف کے خلاف ایک توانا آواز رہے ہیں۔نریندر مودی کی حکومت کے دور میں بھارت میں مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم تشدد اور مذہبی جبر کے الزامات سامنے آئے ہیں۔بھارت میں ہندوتوا نظریے کے تحت انتہا پسندی میں اضافہ ہوا ہے اور اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کودبایا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی اور مقامی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کو ہجوم کے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی تشویش: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی سمیت مختلف اداروں نے بھی بھارتی حکومت کی پالیسیوں اور اقلیتوں کے غیر محفوظ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔بھارت میں نریندر مودی کی حکومت کے دور میں اقلیتوں کے خلاف منظم مظالم اور مذہبی جبر کا سلسلہ بدستور جاری رہنے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ مودی حکومت اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ہوا دے رہی ہے۔عالمی جریدے دی کرسچن پوسٹ نے بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں پیش آنے والے ایک واقعے کی رپورٹ دی ہے، جہاں ایک مسیحی خاتون کی تدفین ہندو رسومات کے مطابق کرنے پر مجبور کیا گیا۔مقامی پادری نے واقعے کو ظلم و جبر کی انتہا قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اب مردے بھی محفوظ نہیں رہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی ریاست چھتیس گڑھ مسیحی برادری کے خلاف پرتشدد حملوں اور مذہبی جبر کا گڑھ بنتی جا رہی ہے۔ غریب افراد پر زبردستی مذہبی رسومات مسلط کرنے کیلئے تشدد کا سہارا لینے والے عناصر کو کسی بھی قسم کی سزا کا خوف نہیں۔ بھارت میں اقلیتوں کو امتیازی حراست، تشدد اور مذہبی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ ایسے واقعات نے اقلیتوں کے خلاف ان مبینہ ظالمانہ اقدامات کے ذریعے خود کو سیکولر قرار دینے والے بھارت کا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات پر مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن بھی بول اٹھا۔آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے پر قائم مودی حکومت کے دور میں اقلیتوں پر مبینہ مظالم میں اضافے کی نشاندہی کی جا رہی ہے، جبکہ بی جے پی حکومت پر الزام ہے کہ وہ ہندوتوا کو سیاسی بیانیے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔بھارت میں مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتوں کو ہجوم کے تشدد اور عبادت گاہوں پر حملوں کا سامنا ہے۔ ایسے واقعات کو انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے بھارتی مسیحیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، خصوصاً اوڑیسہ میں ایک پادری پر تشدد کے واقعے نے صورتحال کو مزید نمایاں کیا۔ کمیشن کے مطابق مذہب کی جبری تبدیلی کے الزامات کے تحت اقلیتوں کو غیر قانونی حراست اور حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔کمیشن نے اترپردیش میں گھر کے اندر عبادت کرنے والے 12 مسلمانوں کی حراست کو بھی مثال کے طور پر پیش کیا۔ بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسیوں کے باعث بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے بنیادی حقوق اور ان کے محفوظ مستقبل سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں، جبکہ آر ایس ایس کے نظریاتی ایجنڈے کے تناظر میں اقلیتوں کو سماجی دھارے سے دور کیے جانے کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں