بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 28°C
Tuesday, 07 July 2026 | پاکستان: 23 محرم 1448

مودی کو ملنے والے غیر ملکی اعزازات متنازع

Monday, 6 July, 2026

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بیرون ملک دوروں کے دوران ملنے والے اعزازات متنازع نکلنے پر نہ صرف بھارت بلکہ عالمی سطح پر بھی شرمندگی اٹھانا پڑی۔برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق حال ہی میں نریندر مودی بحرہند میں واقع افریقا کے جزائر پر مشتمل سب سے چھوٹے ملک سیشلز پہنچے تو انہیں ملک کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا۔بھارتی وزیراعظم نے مسکراتے ہوئے ‘گارڈین آف دی بلیو ہورائزن’ کا اعزاز وصول کیا، جو سیشلز کے صدر پیٹرک ہرمینی نے انہیں ٹرافی اور سرٹیفکیٹ کی صورت میں پیش کیا۔ تاہم مبصرین نے اس اعزاز سے متعلق کئی بے ضابطگیوں کی نشاندہی بھی کی ہے، سرٹیفکیٹ میں ریپبلک کی اسپیلنگ غلط لکھی گئی تھی، جبکہ سیشلزکو بھی غلط انداز میں سیچیلیز لکھا گیا تھا۔ یہ بھی معلوم ہواکہ یہ ایوارڈ مودی کی آمد سے صرف تین دن پہلے تخلیق کیا گیا تھا اور وہ اس کے پہلے اور واحد وصول کنندہ ہیں۔ جب اس سرٹیفکیٹ کو سافٹ ویئر کے ذریعے جانچا گیا تو اسے بڑی حد تک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دیا گیا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ فلپ کاٹلر صدارتی ایوارڈ اور ایتھوپیا کے گریٹ آنر ایوارڈ پربھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔بھارتی اپوزیشن نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی کوکوئی بھی ایوارڈ دے تو یہ دوڑے چلے جاتے ہیں۔ برطانوی اخبار دی گارڈین نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو مختلف ممالک کی جانب سے ملنے والے غیر ملکی اعزازات پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان میں سے متعدد ایوارڈز مودی کے دوروں سے چند روز قبل ہی تخلیق کیے گئے اور بعض کے وہ پہلے یا واحد وصول کنندہ ہیں۔اسی طرح 2019 کا”فلپ کوٹلر صدارتی ایوارڈ“ بھی پہلے مودی کو دیا گیا، حالانکہ اسے ہر سال کسی قومی رہنما کو دیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا، مگر بعد میں کسی اور شخصیت کو یہ اعزاز نہیں ملا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران مودی کو ایتھوپیا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت کئی ممالک کے اعلیٰ اعزازات بھی ملے جن میں بعض کے وہ پہلے غیر ملکی یا واحد وصول کنندہ قرار پائے ۔ بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے ان اعزازات پر طنز کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مودی حکومت بیرونی اعزازات کو داخلی سیاسی تشہیر اور امیج بلڈنگ کےلئے استعمال کر رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا مو¿قف ہے کہ یہ اعزازات مودی کی عالمی قیادت، سفارتی کامیابیوں اور ماحولیاتی خدمات کے اعتراف کا ثبوت ہیں۔دی گارڈین کی رپورٹ میں مزید لکھا گیا کہ مودی کے غیر ملکی اعزازات اب بھارت میں سیاسی بحث کا موضوع بن چکے ہیں، جہاں حامی انہیں بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کی علامت قرار دیتے ہیں جب کہ ناقدین انہیں شخصیت پر مبنی سیاست اور سیاسی تشہیر سے جوڑ رہے ہیں۔بی جے پی کے کٹھ پتلی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کے برعکس پاکستان سفارتی محاذ پرعالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔مودی کی ناقص پالیسیوں اورناکام سفارتکاری نے بھارت کو دنیا بھرمیں غیرمو¿ثربنا دیا ہے۔بھارتی جریدے دی کاروان کے مطابق ایرانی صدرنے جنگ بندی کے بعد پاکستان کا پہلا دورہ کرکے وزیرِاعظم شہبازشریف اورفیلڈ مارشل عاصم منیرکا شکریہ ادا کیا ہے جب کہ امریکا نے بھی امن مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پرپاکستان کے کر دارکی تعریف کی ہے ۔ بھارت اپنے علاقائی حریف پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی تمام کوششوں میں ناکام ہوا ہے۔ مودی کی ناکام خارجہ پالیسی نے دوست ممالک کوناراض کیا اوراپنی سفارتی اہمیت کھودی۔ مودی سرکارکی اس پالیسی کی ایک بڑی وجہ ہندوتوا اورصہیونیت کے درمیان نظریاتی قربت بھی تھی۔بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو انڈیا نارڈک سمٹ میں شرکت کے لیے دورہ ناروے کے دوران اوسلو میں خاتون صحافی کے سوالات کو نظر انداز کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اوسلو میں ناروے کے وزیرِ اعظم کے ساتھ مشترکہ بریفنگ کے بعد ناروے کی ایک خاتون صحافی ہیلا لینگ نے نریندر مودی سے سوال کیا جسے وہ نظر انداز کر کے آگے بڑھ گئے۔جب بھارتی وزیرِ اعظم نے خاتون صحافی کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا تو وہ ان کے پیچھے گئیں اور اپنا سوال دہرایا مگر تب تک لفٹ کا دروازہ بند ہو گیا تھا۔ہیلا لینگ نے نریندر مودی کے اس رویے پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ میں نریندر مودی سے یہ توقع نہیں کر رہی تھی کہ وہ میرے سوال کا جواب نہیں دیں گے۔ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں ناروے پہلے نمبر پر ہے جبکہ بھارت 157 ویں نمبر پر ہے، جہاں وہ فلسطین، متحدہ عرب امارات اور کیوبا جیسے ممالک کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ ہمارا کام ہے کہ ہم جن طاقتوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں ان سے سوال کریں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *