بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Sunday, 14 June 2026 | پاکستان: 29 ذوالحجۃ 1447

مہنگائی نے عام آدمی کاجینادوبھرکردیا

Saturday, 16 September, 2023

شہر اقبال اس اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ کراچی کے بعد سب سے زیادہ زر مبادلہ کمانے والا پوت ہے زرمبادلہ پر گرفت مضبوط ہونے کے باوجود یہاں کے شہریوں کو منگائی کی چکی ہیں پسنا پڑ رہا ہےا شیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ تنخواہ دار طبقے اور مزدوروں کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کا جتنا برا حال کر رکھا ہے اس کی سابق ادوار میں بھی مثال نہیں ملتی بدقسمتی سے ائے روز قیمتوں میں اضافے نے ہر شہری کا جینا محال کر دیا ہے سب سے بڑھ کر بجلی،گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نےعام آدمی کے عصاب پر سکتہ طاری کر دیا ہے فیکٹریوں میں کام کرنے والےاور ملازمت پیشہ افراد اور مزدوروں کےلئے پبلک ٹرانسپورٹ وبال جان بن چکی ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اگر کچھ اضافہ ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ والے اپنی من مانی کرتے ہوئے بے دریغ کرایوں میں اضافہ کر دیتے ہیں جس سے مزدور دار طبقہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے اگر ایسی صورتحال میں جائزہ لیا جائے تو مہنگائی کی وجہ سے سیاسی صورتحال بھی کنفیوژن کا شکار ہو چکی ہے مہنگائی اور معاشی بحران کے خاتمے کےلئے اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت ہے مگر بڑھتی ہوئی مہنگائی ، روپے کی گرتی ہوئی قدر، غیر یقینی سیاسی صورتحال نے نہ صرف ان کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا ہے بلکہ عام عوام کے چولہوں کو بھی ٹھنڈا کر کے رکھ دیا ہے ان بدتر معاشی حالات کے اثرات اگر اسی طرح رہے تو کئی بحران جنم لے سکتے ہیں ایسے معاشی حالات میں عام آدمی کا زندگی گزارنا اجیرن ہو چکا ہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی اس وقت حد سے زیادہ تجاوز کر چکی ہے یہ حقیقت ہے کہ مہنگائی ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے مگر ابھی بھی بہت سارے ایسے ممالک ہیں جہاں پر ان کی حکومتوں نے اشیائے ضروریہ کی طلب پر قابو پا کر عام آدمی پر زیادہ بوجھ نہیں پڑنے دیا مگر پاکستان میں آٹے سے لے کر گھی چینی تک ہر چیز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں گزشتہ ایک سال کے دوران پٹرولیم کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیا پٹرولیم کی قیمتوں میں رد و بدل ہوئی جس میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ہر آدمی کی زندگی کو مشکلات میں ڈال دیاگیا ہے اگر پچھلے دو تین ماہ میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا جائزہ لیا جائے تو مہنگائی کی اوسط شرح معاشی ترقی میں بری طرح حائل ہوئی ہے سیالکوٹ کا خطہ صنعتی اعتبار سے اپنے مسائل کو خود حل کرنے کےلئے ہمیشہ تیار رہتا ہے چیمبر آف کامرس انڈسٹریز سیالکوٹ نے سیالکوٹ کو ایک مثالی خطہ بنانے کےلئے تعمیر و ترقی اور شاہرات کی تعمیر پر جتنی انویسٹمنٹ کی ہے وہ تاریخی اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے اب موجودہ صورتحال یہ ہے کہ جب تک ملک میں سستی توانائی نہیں ہو گی اس وقت تک ملکی معیشت مستحکم نہیں ہو گی بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں اضافے کے باعث انڈسٹری بری طرح متاثرہورہی ہے موجودہ صورتحال میں بہتری نہ ہوئی تو پیداوار اور برآمدات کا بڑھنا ناممکن ہو جائیگا۔ پیداواری لاگت میں تقریباََ دگنا اضافہ ہوا ہے لاگت زیادہ ہونے کے باعث ایکسپورٹرز آرڈرز پورے نہیں ہو رہے ۔ ایکسپورٹرز دہائی دے رہے ہیں کہ ابھی جزوی طورچ پر انڈسٹری بند ہو رہی ہے حالات ایسے ہی رہے تو مکمل بند ہوسکتی ہے۔جس سے ملک میں مہنگائی اور بےروز گاری میں مزیداضافہ ہوگا۔سیالکوٹ میں یہی حال سرجیکل صنعت کا ہے جنکی اکثریت مکمل بند ہوچکی ہیں اور جو چل رہی ہیں وہ بھی نقصان میں چلا رہے ہیں کہ شاید حالات بہتر ہو جائیں ۔ پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں بھارت میں بجلی 2.30 روپے،بنگلہ دیش میں 2.25 افغانستان میں11.70 اور ایران میں 8.09روپے فی یونٹ جبکہ پاکستان میں 55روپے فی یونٹ جبکہ کمرشل یونٹ کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، ان میں اب مزید قربانیاں دینے کی سکت نہیں، موجودہ نگران حکمران قوم پر رحم کریں اور عوام کو مہنگائی کے بڑھتے ہوئے طوفان سے بچائیں مہنگائی نے ہر شخص کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس سے پاکستان کے بڑے سے بڑے افراد اور چھوٹے سے چھوٹے طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی قوت خرید کمزور پڑتی جا رہی ہے ایسی صورتحال میں بے شمار لوگ بے چینی اور اضطرابی کیفیت سے دو چار ہیں ایسی صورتحال رہی تو لوگ ذہنی مریض ہو جائیں گے لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ مہنگائی پر قابو پاکر عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے ۔

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں