میاں نواز شریف کے اندر کے انقلاب نے ایک بار پھر جوش مارا تو انہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ فیض حمید سمیت بہتوں کو دے رگڑا پہ رگڑا ایسا دیا کہ 2017 جی ٹی روڈ والے انقلابی نوازشریف کی یاد تازہ ہوگئی کھلبلی ایسی مچی کہ شہبازشریف نے لاہور سے ابا ¶ٹ ٹرن لیا اور سیدھے لندن پہنچ گئے گیند پھر پہلے سلیم اللہ کلیم اللہ تک جاپہنچی میاں محمد نواز شریف کو میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ لاہور کی فلائٹ لینے کے بجائے سیدھے پیشاور جائیں اٹک جیل میں قیدی نمبر 804 سے جا کر ہاتھ ملائیں تھوڑی سی شکتی حاصل کریں اور اپنے پرانے بیانئے ”مجھے کیوں نکالا اور ووٹ کو عزت دو” کےلئے حمایت حاصل کریں بصورت دیگر کسی ڈیل کے نتیجے میں منیارٹی والی اگر آپ کو محدود وقت کے لئے حکومت مل بھی گئی تو آپ کچھ بھی نہیں کر سکیں گے اور پھر روتے رہ جائیں گئے چونکہ آپ کی حکومت عوامی ووٹ سپورٹ اور مینڈیٹ کے بغیر ہی ہوگئی اور پہلے کی طرح جس کا کنٹریکٹ سائن کریں گے وہ آپ کو مکمل اختیار نہیں دیں گے اور آپ پہلے کی طرح اختیار مانگنے کی ضد کریں گے تازہ ترین حالات 2023 کے بہت بدل چکے ہیں جس کے آپ اور آصف زرداری بڑی حد تک ذمہ دار ہیں آپ نے 10 اپریل 2022 سے اگست 2023 تک 15 ماہ کی مکس اچار والی حکومت لے کر ان کو اگلے کئی سالوں تک آپ کی زندگی کے بعد بھی آنے والی نسلوں تک بہت مضبوط کردیا ہے آپ خود اور آپ کی پارٹی اچھی طرح جانتی ہے کہ عوامی ووٹ اور طاقت قیدی نمبر 804 کے پاس ہے اگرچہ عوام ابھی قید و بند اور ڈنڈے کے ڈر سے سہمی ہوئی ہے لیکن آخر کب تک؟ کبھی تو ہونگے انصاف کے سویرے۔ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو ۔ آپ کی حکومت جھرلو سے بن بھی گئی تو وہ 90 والی IJI لیبلڈبرانڈ ہی ہو گی لیکن اس وقت تو عوام میں شعور کا جن بوتل میں بند تھااب ایک پوری نسل جوان ہو چکی ہے اس وقت سوشل میڈیا بالکل نہیں تھا معیشت بہت بہتر تھی۔ اگر آپ نے حکومت لے بھی لی تو اخلاقی، قانونی،معاشی،سیاسی طور پر وہ PDM کی حکومت سے بھی کمزور ہو گی آپ سے اسرائیل کو تسلیم کروانے اور کشمیر پر پسپائی اختیار کرنے کا دبا ¶ ملکی اور غیر ملکی دونوں اطراف سے دبا ¶ ہوگا چونکہ ہمیں ڈالر کی بہت ضرورت ہے اور آپ کچھ نہیں کر سکیں گے اور اگر اپ نے 2025 میں پھر توسیع کے معاملے میں لیت ولعل سے کام لیا تو 2017 کا سکرپٹ پھر دہرایا جائے گا آپ نے جو ابھی پھوکے فائر جنرل قمر جاوید باجوہ اینڈ جنرل فیض کے بارے میں مارے ہیں اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا اگر ایسا کچھ کرنے کا ارادہ آپ رکھتے تھے تو 15 ماہ کے دوران اپنی حکومت میں اس کا آغاز کردینا چاہیے تھا ٹریلر ہی چلا دیتے لیکن ہمیشہ آپ سے گلہ رہا ہے کہ میاں صاحب آپ بہت دیر کردیتے ہیں اس لیئے کہ آپ بزنس مین ہیں مہم جو ہیں لیکن افسوس کہ سیاست دان نہیں ہیں اس گستاخی پر معذرت چاہتا ہوں کہ میرے لئے صحافت کا پیشہ پیغمبرانہ ہے جو اللہ کی عنایتوں میں سے ایک ہے جو ملک و قوم کی امانت ہے آپ کےلئے صحافت زرخرید غلام ہے گھر کی لونڈی ہے میرے لئے عبادت ہے آپ برطانیہ میں زیادہ رہتے رہے ہیں مجھے بھی 32 سال اسی ملک میں ہوگئے ہیں کیا برطانیہ کا نظام جمہوریت، سیاست،صحافت، معیشت عدالت کے کسی شعبے پر کوئی آپ انگلی اٹھا سکتے ہیں کہ اس میں کوئی سقم رہ گیا ہے ہم یہاں رہ کر یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہم اپنے ملک میں بھی ایسا کوئی نظام لائیں کہ ہم بھی دنیا میں باوقار قوم بن سکیں آج آپ خوش ہیں کہ عمران خان جیل میں ہے کل عمران خان خوش تھا کہ آپ جیل میں ہیں 90 کی دھائی میں آپ کسی کے بلیو آئیڈ بوائے تھے بے چاری بینظیربھٹو کی حکومت 18 ماہ میں ختم ہوئی تھی تو آپ کو لایا گیا تھا پھر آپ کو ہٹا کر بینظیربھٹو کو لایا گیا پھر آپ آئے تو پھر آپ کو مارشل لاءلگا کر چلتا کیا گیا پھر میثاقِ جمہوریت ہوا بینظیر کا قتل ہوا پھر مزاق میثاق ہوا پھر مرنے جینے، زرداری نواز بھائی بھائی کے نعرے لگے اور نسلوں تک سیاست کو ایک ساتھ کرنے کے عہد و پیمان کیا گیا پھر ایک دوسرے کے پیٹ پھاڑنے کے نعرے لگے میمو گیٹ کے بعد آپ کالا کوٹ پہن کر عدالت میں چلے گئے اور یوسف رضاگیلانی کو نااہل کروابیٹھے پھر آپ ڈان لیکس پانامہ اکامہ کی زد میں آگئے مانا کہ آپ کا اور شاید آصف زرداری کا نقصان زیادہ نہیں ہوا لیکن اس پاکستان اور اس کی عوام کا بہت نقصان ہوا اور مزید ہو رہا ہے اور اب یہ پوائنٹس آف نو ریٹرن تک جاپہنچی جج جرنیل جرنلسٹس سیاست دان حکمران بیورو کریٹس اور تاجروں نے بہت ترقی کرلی اور مزید کررہے ہیں لیکن یہ ہمارا ملک پاکستان ترقی نہیں کرسکا اس وقت 160 کھرب ڈالرز کا مقروض ہے یہ وقت زبانی جمع خرچ کا نہیں عملی طور پر کچھ کرنے کا ہے ملک کی معیشت اور سیکورٹی سے ملک کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں کئی فالٹ لائن ہیں کرپشن ہماری نسلوں تک چلی گئی ہے اور کرپشن نہ کرنا اب گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے آپ منصب کے اس رتبے پر فائز ہیں جہاں آپ کی پارٹی مستقبل کا اقتدار لینے کےلئے کچھ بھی کر سکتی ہے اور بیتاب ہے افسوس یہ ہے کہ ہر کوئی اپنے ذاتی مفادات کےلئے سوچتا ہے ملک کےلئے نہیں میاں صاحب یہ کل کی بات ہے کہ آپ کی والدہ، والد اور شریک حیات اس دنیا کو خیر آباد کہہ گئے ہم نے بھی جانا ہے فرق یہ ہے کہ وہ معصوم لوگ تھے امر ہوگئے ہیں آپ بحیثیت سیاستدان اور ہم صحافی قومی مجرم قرار دئیے جائیں گے کہ ہم نے اس مادر وطن کے ساتھ انصاف نہیں کیا جس کو حاصل کرنے کےلئے لاکھوں افراد نے قربانیاں دیں نظام کی بہتری،سول بالادستی اور اداروں کی بحالی کےلئے کوششیں شروع کردیں پاکستان واپسی پر آپ کا استقبال بھی خرچہ کرنے سے ہوجائےگا اقتدار بھی مل جائے گا یہ سارا پتلی کھیل تماشا ہے اس بات کا آپ کو بھی پتہ ہے کہ اب آپ کی ضرورت اس لئے بڑھ گئی ہے کہ قیدی نمبر 804 کا عوام میں زور زیادہ ہے اور چھوٹے میاں صاحب کو کوئی سنجیدہ نہیں لیتا اور عوام میں وہ پٹ گئے ہیں یہاں کھلی چھٹی تو کسی کو نہیں ملتی قیدی نمبر 804 کے ساتھ بھی مزاکرات جاری ہیں اسی لئے آپ کے رینک میں افراتفری پیدا ہوئی ہے وہ تو صرف ایک کھلاڑی تھا جو سچ مچ پورے قد کےساتھ میدان میں موجود ہے ثابت قدم ہی تو رہنا ہوتا ہے جو میدان چھوڑ کر بھاگ گیا وہ اناڑی بن گیا۔مظفر وارثی نے بھی کیا خوب لکھا ہے:
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رَد ہوتی ھے
اس کے ہونٹوں کی خاموشی بھی سند ہوتی ھے
سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرح
اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ھے
جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا
سُولیوں سے یہاں پیمائشِ قَد ہوتی ہے
شُعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس
بولتا چہل ہے، بدنام خِرَد ہوتی ہے
کُچھ نہ کہنے سے بھی چِھن جاتا ہے اعجازِ سُخن
ظُلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے
ہم کریں بات دلیلوں سے،تو رد ہوتی ہے
اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں