قدرت ہم سے کبھی ایک دم نہیں چھینی جاتی، وہ آہستہ آہستہ رخصت ہوتی ہے۔ یہ رخصتی اتنی خاموش ہوتی ہے کہ ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کہ ہمارے ہاتھوں سے کیا نکل رہا ہے۔ ہم فائلوں، سروے رپورٹس، نقشوں اور ترقیاتی منصوبوں کے ہجوم میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ اصل نقصان ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ جب حقیقت سامنے آتی ہے تو تب تک بہت کچھ دفن ہو چکا ہوتا ہے۔ آج نوری ویلی اور اس کی پہچان نوری آبشار بھی اسی خاموش المیے کے دہانے پر کھڑی ہے، اور دو تارا ڈیم کے نام پر ہونے والی منصوبہ بندی اس خطرے کو مزید گہرا کر رہی ہے۔
نوری ویلی محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، یہ ایک زندہ قدرتی نظام ہے۔ یہ وہ وادی ہے جہاں پہاڑ، نالے، جنگلات، چشمے اور انسان صدیوں سے ایک توازن کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ نوری آبشار اس وادی کی روح ہے، جسے بجا طور پر اس علاقے کی آنکھ کا تارا کہا جاتا ہے۔ نیلی جھیل کا سکون، کالی آبشار کی گونج اور سنگم آبشار کلالہ کا دل موہ لینے والا حسن مل کر اس خطے کو پاکستان کے حسین ترین مقامات میں شامل کرتے ہیں۔ یہی حسن ہر سال لاکھوں سیاحوں کو یہاں کھینچ لاتا ہے، اور یہی سیاحت مقامی آبادی کیلئے روزگار، امید اور زندگی کا سہارا ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ نوری ویلی کے لوگوں کا اپنی زمین سے رشتہ صرف جذباتی نہیں بلکہ معاشی بھی ہے۔ چھوٹے ہوٹل، گیسٹ ہائوسز، دکانیں، ٹرانسپورٹ، مقامی گائیڈز اور دیگر چھوٹے کاروبار اسی وادی کے دم سے چلتے ہیں۔ اگر یہ علاقہ پانی میں ڈوب گیا تو صرف زمین نہیں ڈوبے گی، بلکہ لوگوں کی برسوں کی محنت، ان کے خواب اور ان کے بچوں کا مستقبل بھی اس کے ساتھ بہہ جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ترقی کی یہ قیمت واقعی ناگزیر ہے؟
بدقسمتی سے ہمارے ہاں ترقی کو صرف بڑے منصوبوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں کتنی ہی تباہی کیوں نہ ہو۔ حالانکہ اصل ترقی وہ ہوتی ہے جو انسان اور قدرت دونوں کو ساتھ لے کر چلے۔ دو تارا ڈیم کا منصوبہ بظاہر ترقی کی علامت دکھائی دیتا ہے، مگر اگر اس کے نتیجے میں ایک مکمل وادی، اس کی شناخت اور اس کے باسیوں کا مستقبل قربان ہو جائے تو یہ ترقی نہیں بلکہ تدفین ہوگی۔ یہاں سوال ڈیم کے حق یا مخالفت کا نہیں، سوال عقل، تدبر اور ترجیحات کا ہے۔
یہاں ایک بنیادی حقیقت کو واضح کرنا بھی ضروری ہے۔ ترقی کا متبادل راستہ فری بنگلہ سے نصیب پور نہیں بلکہ جبری بنگلہ سے نجف پور تک وہ سڑک ہے جو عملی طور پر بن رہی ہے۔ اگر اس سڑک کو تیزی سے، دیانت داری سے اور ترجیحی بنیادوں پر مکمل کر لیا جائے تو خیبر پختونخوا کے اس پورے خطے کی قسمت بدل سکتی ہے۔ یہ محض ایک سڑک نہیں ہوگی بلکہ نوری ویلی، نالہ اور گرد و نواح کے ہزاروں لوگوں کے لیے روزگار، سیاحت اور خوشحالی کے دروازے کھول دے گی۔ سڑکیں صرف راستے نہیں ہوتیں، یہ علاقوں کی تقدیر بدل دیتی ہیں۔مری کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں قدرتی حسن پہلے بھی موجود تھا، مگر جب سڑک کے ذریعے اس حسن کو دنیا سے جوڑا گیا تو وہ علاقہ خوشحالی، روزگار اور ترقی کی علامت بن گیا۔ سوال یہ ہے کہ نوری ویلی کے ساتھ یہی دانش مندانہ راستہ کیوں اختیار نہیں کیا جا سکتا؟ کیا واقعی ہمارے پاس واحد راستہ یہی ہے کہ ہم ایک جیتی جاگتی وادی کو پانی میں غرق کر دیں؟یہاں ایک اور سوال بھی شدت سے ابھرتا ہے۔ کیا اس خطے کے بزرگوں نے یہی خواب دیکھا تھا؟ کیا انہوں نے یہ زمینیں اس لیے سنبھال کر رکھیں تھیں کہ ایک دن ترقی کے نام پر انہیں بتایا جائے کہ اب یہاں گھر نہیں ہوں گے، صرف پانی ہوگا؟ یا ان کا خواب یہ تھا کہ یہ علاقہ آباد ہو، خوشحال ہو یہاں کے نوجوانوں کو روزگار ملے اور یہ وادی بھی ترقی کی مثال بنے؟ بزرگ ہمیشہ آباد زمینوں کا خواب دیکھتے ہیں، ڈوبتے ہوئے علاقوں کا نہیں۔دو تارا ڈیم کے مجوزہ منصوبے نے علاقے میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ عوام سوال کر رہے ہیں، خدشات ظاہر کر رہے ہیں، مگر ان سوالات کو سننے کے بجائے اکثر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے حالانکہ خاموشی بھی ایک فیصلہ ہوتی ہے اور بعض اوقات سب سے خطرناک فیصلہ۔ یہ منصوبہ اگر آج بنا تو اس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائینگے۔ اس لیے یہ فیصلہ عجلت کا نہیں بلکہ گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے۔اسی پس منظر میں نوری آبشار بچا مہم ایک امید کی کرن بن کر سامنے آئی ہے۔ یہ کوئی وقتی نعرہ یا جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک باشعور جدوجہد ہے، جس کا مقصد صرف ایک آبشار یا ایک وادی کو بچانا نہیں بلکہ ترقی کے تصور کو درست سمت دینا ہے ۔اس مہم میں ریاست عباسی اور انجینئر افتخار چوہدری ملکر جس استقامت، دلیل اور شعور کے ساتھ آواز بلند کر رہے ہیں وہ اس بات کی علامت ہے کہ ابھی اس معاشرے میں سوچ زندہ ہے اور ضمیر مکمل طور پر مردہ نہیں ہوا۔یہ جدوجہد ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ انسان زمین کا مالک نہیں بلکہ اس کا نگہبان ہے۔ نگہبان کا کام حفاظت کرنا ہوتا ہے، نہ کہ سب کچھ ڈبو دینا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے قدرت کے ساتھ ٹکر لینے کی کوشش کی وہ وقتی فائدہ تو حاصل کر گئیں، مگر طویل مدت میں ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ آج نوری ویلی ہے، کل کوئی اور وادی ہو سکتی ہے اگر ہم نے آج درست فیصلہ نہ کیا۔آخر میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ فیصلہ آج ہونا ہے کیونکہ کل شاید بہت دیر ہو جائے ۔ اگر آج نوری آبشار بچ گئی، اگر آج نوری ویلی محفوظ ہو گئی، اگر آج جبری بنگلہ سے نجف پور تک سڑک تیزی سے مکمل ہو گئی، تو یہ صرف ایک علاقے کی جیت نہیں ہوگی بلکہ یہ اس سوچ کی فتح ہوگی جو تباہی کے بجائے تعمیر، اور ضد کے بجائے دانش کو ترجیح دیتی ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالی اس جدوجہد کو قبول فرمائے، نوری آبشار کو محفوظ رکھے، نوری ویلی کے لوگوں کے مستقبل کی حفاظت کرے اور فیصلہ کرنے والوں کو وہ بصیرت عطا کرے جو ترقی اور تباہی کے فرق کو سمجھ سکے۔ آمین






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں