کالم

وزیراعظم کااسلام آبادمیں ایک تقریب سے اظہارخیال

idaria

پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ملک ہے کہ اسے سعودی عرب ، چین ،ترکی اور متحدہ عرب امارات قابل اعتماد دوستوں کا ساتھ حاصل ہے جنہوں نے ہر مشکل اور آڑ ے وقت پاکستان کی نہ صرف مالی امداد کی بلکہ ہر برے وقت میں کندھے سے کندھاملاکر کھڑے رہے ، انہوں نے پاکستان کی مدد اور خیر خواہی بغیر کسی لالچ اور مفاد کے جاری رکھی مگر اب وہ بھی اس بات پر پریشان نظر آتے ہیں کہ آخر کب تک پاکستان ان کی امداد کا مرہون منت رہے گا۔ وزیر اعظم پاکستان نے گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا برملا اظہار بھی کردیا تاہم وہ اس بات پر پرامید نظر آئے کہ پاکستانی قوم کا مستقبل روشن تر ہے اور انشاءاللہ ہم اس مشکل وقت سے نکل کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوسکیں گے ، پاکستان کو اللہ پاک نے بے پناہ معدنی وسائل سے نواز رکھا ہے کہ جس کا فائدہ اٹھاکر ہم خود انحصاری کی منزل کو پاسکتے ہیں ۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت جب بھی برسر اقتدار آئی اس نے ملک کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کیلئے بھر پور عملی جدوجہد کا مظاہرہ کیا مگر بدقسمتی سے اندرونی و بیرونی ریشہ دوانیوں کے باعث اسے عرصہ اقتدار مکمل نہیں کرنے دیا گیا ، نواز شریف کے پہلے دور اقتدار میں موٹرویز اور نوجوانوں کی خودروزگار اسکیمیں متعارف کرائی گئیں اور ملکی استحکام کیلئے بنیادی منصوبے شروع کیے گئے جبکہ دوسرے دور اقتدار میں مسلم لیگ کی حکومت نے کھربوں ڈالر کی امداد ٹھکراکر پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا اعزاز حاصل کیا جو پوری مسلم امہ کیلئے باعث فخر بنا جبکہ تیسرے دور اقتدار میں سی پیک جیسے عظیم اور تاریخی منصوبے شروع کئے گئے مگر ایک سیاسی پارٹی کے محض اقتدار حاصل کرنے کی خواہش نے اس خواب کو ادھورا کرنے کی کوشش کی مگر ایک بار پھر مسلم لیگ ن کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک کو استحکام اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردیا ، وہ دوست ممالک جو پاکستان سے تقریباً دور ہوچکے تھے کو دوبارہ گلے سے لگایا اور سی پیک جیسے عظیم منصوبہ جو سابقہ حکومت کے دور میں تقریباً ختم ہوچکا تھا ازسرنو شروع کیا، وزیر اعظم کے گزشتہ روز کے خطاب میں ایک نکتہ نہایت اہم ہے کہ ملکی تمام سیاسی جماعتیں یک نکاتی معاشی ایجنڈے پر متفق ہوجائیں ، پاکستان کی صحافتی تاریخ میں ایس کے نیازی وہ واحد شخصیت ہے جنہوں نے اپنے ٹی وی پروگراموں میں اور اپنے کالموں میں پہلی بار چارٹر آف اکانومی پر تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہونے کی راہ دکھائی ۔ وزیر اعظم نے گزشتہ روز اسلام میں ایک تقریب میں اپنے خطاب میں کہا کہ مختلف ادوار میں قرض لئے گئے جو بہت بڑا بوجھ ہے، ہمیں قرضوں سے جان چھڑانی چاہیے، قابل اعتماد دوستوں نے ہمیشہ برے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، وہ دوست بھی سمجھتے ہیں پاکستان کب تک قرضے لے گا۔آج پاکستان کو شدید مالی چیلنجز کا سامنا ہے، میرا ایمان ہے ان مشکلات سے ضرور نکلیں گے، پوری قوم مضبوط ارادہ کر لے تو پھر کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی، مشکل وقت میں چین پاکستان کا بھرپور ساتھ دے رہا ہے، ہمیں اپنے وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا، قوموں کی زندگی میں ایسے چیلنجز آتے ہیں، آئیں آج وعدہ کریں پاکستان کی تقدیر بدلیں گے، حالات تقریروں سے نہیں عملی اقدامات سے بہتر ہوں گے۔ پاکستان بڑی قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا، پاکستان دولخت ہوا ہمیں تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہوگا، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے بجائے اکنامک ایجنڈے پر اکٹھا ہونا ہو گا، جو بھی حکومت آئے اکنامک ایجنڈے پر پوری قوم کو یکسو ہونا ہو گا، خارجہ، اقتصادی پالیسی پر بھی سب کو یکسو ہونا ہوگا، قسم کھا کر کہتا ہوں اگر ہم متحد ہو جائیں تو دنیا میں پاکستانی پاسپورٹ کی عزت ہو گی۔ چین کے بارے بعض لوگوں نے ایسے جملے کسے جس سے وہ ناراض ہوا، چین کو یقین دہانی کرائی آئندہ ایسا نہیں ہو گا، سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور چین پاکستان کی مدد کر رہا ہیں، دوست ممالک بارے الزامات سے گریز کرنا چاہیے۔ جن دوستوں نے برے وقت میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا، وہ بھی کہتے تو نہیں لیکن آپ ان کے چہروں سے جان سکتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ آپ نے کب تک قرضے لینے ہیں، آپ یہ قرضے لے کر ان کو استعمال کریں، اپنے وسائل پیدا کریں۔ وزیر اعظم نے کہا آج میرے لیے بہت خوشی کا دن ہے، باصلاحیت نوجوانوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی، پاکستان کا مستقبل ہونہار نوجوانوں کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔میں بچوں کو لیپ ٹاپ دے رہا تھا کلاشنکوف نہیں، میرا اگر بس چلے تو ہر ہونہار بچے کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ ہونا چاہیے۔
پنجاب اوربلوچستان کے عوام دوست بجٹ
پنجاب اور بلوچستان میں آئندہ بجٹ پیش کردیئے گئے ہیں ، پنجاب میں جوکہ نگران حکومت قائم ہے اس لئے 4ماہ کے بجٹ کی منظوری نگران کابینہ نے دی ہے جبکہ بلوچستان میں پیش کئے جانے والے بجٹ کو منتخب ایوان کے سامنے پیش کیا گیا ، نئے بجٹ کے مطابق نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں صوبے کےلئے آئین کے آرٹیکل 164کے تحت آئندہ مالی سال 2023-24کے ابتدائی چار ماہ کا ٹیکس فری بجٹ منظوری دی گئی۔ اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30فیصد اضافے کی منظوری دی گئی جو ایڈہاک ریلیف کی مد میں دیا جائےگا جبکہ 80سال سے زائد عمر کے پنشنرز کی پنشن میں 20فیصد اضافہ بھی منظور کرلیا گیا چار ماہ کے عبوری بجٹ میں پنجاب میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کاروبار اور تعلیم پر تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔نگران پنجاب کابینہ نے نئے مالی سال 2023-24کے ابتدائی 4ماہ کا 17کھرب 19 ارب 16 کروڑ سے زائد کاٹیکس فری بجٹ منظور کرلیا جبکہ نگران وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر 6کھرب روپے کا قرض اتارنے کا فیصلہ کیا ہے،انفارمیشن ٹیکنالوجی سے سیلز ٹیکس ختم، اسٹیمپ ڈیوٹی کی شرح 3فیصد تک بڑھانے کی تجویز مسترد ،ایک فیصد برقرار ہے۔ ادھربلوچستان حکومت نے بھی مالی سال 2023-24کاکا 750ارب روپے حجم کا 49ارب روپے خسار ے کا بجٹ پیش کر دیا جس میں غیر ترقیاتی بجٹ کا حجم 437ارب ر وپے جبکہ مجموعی صوبائی تر قیاتی بجٹ کا حجم 229.301ارب روپے ہے اور ڈیوپلمنڈ گرانٹس وفاقی فنڈڈ منصوبوں کی مد میں 45ارب روپے جبکہ فارن پروجیکٹس کی مد میں 39ارب روپے جبکہ جاری ترقیاتی 4721اسکیموںکیلئے 170.724ارب روپے مختص کئے گئے ہیں نئی 5068 ترقیاتی اسکیموں کیلئے 58.667ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور مختلف محکموں میں نوجوانوں کے روز گار کیلئے 4389نئی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں۔
ایس کے نیازی کے صحافتی کردارکو قومی اسمبلی میں سراہاگیا
ایس کے نیازی ملک کی واحد صحافتی شخصیت ہے جنہوں نے ہمیشہ بغیر لگی لپٹی رکھے بغیر ملکی مفاد کیلئے ہر دور میں بات کی ، انہوں نے کبھی اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ ان کی بات سے کوئی ناراض ہوتا ہے یا خوش بلکہ انہوں نے ہمیشہ ملکی مفاد ، افواج پاکستا ن اور اسلام کے حق میں بات کی ، انکی ان ایماندانہ ، پیشہ وارانہ سرگرمیوں کے اعتراف میں ریاست پاکستان نے ستارہ امتیاز ، تمغہ امتیاز جیسے اعزاز ات سے نوازا اور انہیں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایٹمی پروگرام کے تحفظ کیلئے کی جانے والی کوششوں کے پیش نظر خصوصی میڈل سے نوازا ، ان کی خدمات کی تعریف اقوام متحدہ کے حقوق انسانی جیسے ادارے نے بھی اعتراف کیا اورانہیں خصوصی ایوارڈ سے نوازاجبکہ اندرون و بیرون ملک سینکڑوں ایوارڈز ان کی خدمات کے اعتراف میں دیئے جاچکے ہیں ، گزشتہ روز پاکستان کی قومی اسمبلی نے ان کی اعلیٰ صلاحیتوں پر مبنی خدمات کا اعتراف کیا اور انہیں بھر پور خراج تحسین پیش کیا، اس حوالے سے۔مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی وحید عالم خان نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ روز ٹی وی کے چیئرمین اور روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر سردار خان نیازی جہاں دیدہ تجربہ کارصحافی ہیں ۔ ایس کے نیازی صاحب نے یہ نقطہ اٹھایا کہ آپ کی جماعت بیانیہ نہیں بنا سکی جبکہ پی ٹی آئی کا لیڈر روزانہ بیانیہ بناتا ہے۔آپ کے پاس اسکا کیا توڑ ہے۔وحید عالم خان نے کہا کہ انہوں نے نیازی صاحب کو جواب دیا کہ پی ٹی آئی کے قول و فعل میں تضادہے۔اس کے چیلے بھی آئے دن بیانات تبدیل کرتے رہتے ہیں ۔ اس وقت وفاقی وزرا سمیت مختلف پارٹیوں کے درجنوں اراکین ایوان میںموجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے