بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.1°C
Sunday, 16 August 2026 | پاکستان: 4 ر بیع الاول 1448

وطن جو مانگا نہیں خون سے خریدا گیا

Sunday, 16 August, 2026

کچھ وطن نقشوں پر بنتے ہیں کچھ معاہدوں سے وجود میں آتے ہیں مگر کچھ وطن تاریخ کے سینے پر لہو سے لکھے جاتے ہیں۔ پاکستان بھی ایسا ہی وطن ہے۔ اس کی بنیاد صرف اینٹوں، سرحدوں اور عمارتوں پر نہیں رکھی گئی اس کے نیچے ہجرت کے قدموں کے نشان ماؤں کی دعائیں بچھڑنے والوں کے آنسو اور بے شمار قربانیوں کی داستانیں دفن ہیں۔ ہم آج جس پرچم کو ہوا میں لہراتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، کبھی اسی آزادی کیلئے لاکھوں انسان اپنے گھروں کے دروازے آخری بار بند کرکے نامعلوم منزلوں کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ذرا تصور کیجیے ایک پرانے گھر کی دیوار پر آج بھی ایک زنگ آلود کیل لگی ہے۔ اسی کیل پر کبھی ایک خاندان کے گھر کی چابی لٹکتی تھی۔ مکان شاید اب بھی موجود ہو صحن شاید ویسا ہی ہو درخت شاید آج بھی سایہ دیتا ہے مگر اس گھر کے مکین وہاں نہیں ہونگے۔ وہ ایک دن اپنا ماضی پیچھے چھوڑ کر ایک ایسے مستقبل کی طرف نکل گئے جس کا نام پاکستان تھا۔شاید کسی بچے نے سفر کے دوران معصومیت سے پوچھا ہوگا ہم واپس کب آئیں گے مگر اس سوال کا جواب تب شاید کسی کے پاس نہیں تھا۔ کیونکہ وہ لوگ صرف گھر سے نہیں نکلے تھے وہ اپنا سب کچھ رشتے ناطے پرُکھوں کی قبریں اور یادیں سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کر رہے تھے۔اسی لیے 14 اگست صرف جشن منانے کی تاریخ نہیں۔ یہ اپنے آپ سے ایک سوال کرنے کا دن بھی ہے ہم نے آزادی حاصل تو کرلی، مگر کیا ہم نے اس آزادی کی ذمہ داری بھی نبھائی۔ پاکستان کی داستان 14 اگست 1947 سے اچانک شروع نہیں ہوئی۔ 1857 کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کو سیاسی زوال، معاشی مشکلات اور تعلیمی پسماندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر تاریخ کا اصول ہے کہ شکست اگر شعور پیدا کردے تو وہ شکست نہیں رہتی بیداری بن جاتی ہے ۔ مسلمانوں نے جدید تعلیم اور سیاسی شعور کی طرف قدم بڑھایا۔ 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ یہ صرف ایک سیاسی جماعت کا آغاز نہیں تھا بلکہ مسلمانوں کے منظم سیاسی سفر کا ایک اہم مرحلہ تھا۔پھر 1930 میں علامہ محمد اقبال نے خطبہ الٰہ آباد میں مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک الگ مسلم سیاسی وحدت کا تصور پیش کیا۔ گویا پاکستان پہلے زمین پر نہیں ذہنوں میں آباد ہوا پہلے ایک خیال بنا پھر خواب، پھر مطالبہ اور بالآخر حقیقت۔اس خواب کو سیاسی جدوجہد کی منزل تک پہنچانے میں قائداعظم محمد علی جناح کا کردار فیصلہ کن تھا۔ انہوں نے جذبات کے بجائے دلیل انتشار کے بجائے تنظیم اور وقتی مصلحت کے بجائے واضح مقصد کو ترجیح دی۔ ان کی قیادت نے ایک منتشر سیاسی قوت کو ایک منظم قومی تحریک میں بدل دیا۔1937 کے انتخابات اور ان کے بعد کے سیاسی حالات نے مسلمانوں کے خدشات کو مزید گہرا کیا۔ پھر 23 مارچ 1940 کو لاہور کا تاریخی دن آیا۔ ایک قرارداد پیش ہوئی اور برصغیر کی سیاست کا رخ بدل گیا۔ بظاہر وہ چند سطریں تھیں مگر ان کے پیچھے ایک پوری قوم کا مستقبل کھڑا تھا۔1946 کے انتخابات نے پاکستان کے مطالبے کو مزید عوامی طاقت دی۔ مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لیے مخصوص مرکزی نشستوں میں بڑی کامیابی حاصل کی۔ اب پاکستان صرف سیاسی قیادت کا مطالبہ نہیں رہا تھا یہ مسلمانوں کی وسیع سیاسی خواہش بن چکا تھا۔پھر 1947 آیا۔اور تاریخ نے ایک ہی سال میں جشن بھی دیکھا اور جنازے بھی۔تقسیم ہوئی سرحدیں کھینچی گئیں اور تقریباً ڈیڑھ کروڑ انسان اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ لاکھوں خاندان بچھڑ گئے، بستیاں اجڑ گئیں اور جانی نقصان کے اندازے مختلف تاریخی تحقیقات میں مختلف بیان ہوئے ہیں۔ قافلے منزل کی تلاش میں نکلے، مگر ہر مسافر کے دل میں ایک پوری دنیا پیچھے رہ گئی۔سوچیے ایک شخص اپنے گھر کی دہلیز پر آخری مرتبہ کھڑا ہے۔ وہ دیوار کو چھوتا ہے صحن کو دیکھتا ہے درخت کو دیکھتا ہے اور پھر دروازہ بند کردیتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں گھر کی چابی ہے مگر اسے معلوم ہے کہ شاید یہ چابی دوبارہ کبھی اس دروازے کو نہ کھول سکے۔اس لمحے ایک گھر ختم نہیں ہوا تھا ایک زندگی کا باب بند ہوا تھا۔اور اسی درد کے بعد 14 اگست 1947 کی صبح طلوع ہوئی۔پاکستان آزاد ہوگیا مگر آزادی حاصل کرنا اور آزادی کو مضبوط بنانا دو مختلف مرحلے ہیں۔ نئی ریاست کے سامنے مہاجرین کی آبادکاری اداروں کی تشکیل معاشی مشکلات اور انتظامی مسائل جیسے بڑے چیلنجز تھے۔ وسائل محدود تھے، مسائل بے شمار تھے مگر حوصلہ زندہ تھا۔قائداعظم کے سامنے ایک ایسی نوخیز ریاست تھی جسے صرف قائم نہیں کرنا تھا بلکہ تعمیر کرنا تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ نقشے پر ملک بنانا آسان ہوسکتا ہے مگر کردار میں قوم بنانا ایک طویل سفر ہے۔آج ہم کئی دہائیاں بعد اسی وطن میں کھڑے ہیں۔ اب سوال تاریخ سے زیادہ ہم سے ہے۔کیا ہم نے اس قربانی کی لاج رکھی۔ کیا ہماری تعلیم صرف ڈگریاں پیدا کرتی ہے یا کردار بھی کیا قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے برابر ہے کیا میرٹ سفارش سے زیادہ طاقتور ہے کیا ہم اپنے بچوں کو کامیابی کے ساتھ دیانت بھی سکھا رہے ہیں۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل بہت بڑے ہیں اور ہمارا کردار بہت چھوٹا۔ مگر قومیں صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بنتیں۔ قومیں ان چھوٹے فیصلوں سے بنتی ہیں جو کوئی کیمرہ ریکارڈ نہیں کرتا۔ایک استاد ایمانداری سے پڑھاتا ہے۔ایک طالب علم نقل سے انکار کرتا ہے۔ایک افسر سفارش کو رد کرتا ہے۔ایک تاجر ناپ تول میں خیانت نہیں کرتا۔ایک شہری اس وقت بھی قانون کی پابندی کرتا ہے جب اسے دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔یہ چھوٹے عمل نہیں یہ قوم کی بنیاد میں رکھی جانے والی اینٹیں ہیں۔وطن سے محبت صرف 14 اگست کو جھنڈا لہرانے، ملی نغمے سننے یا سبز لباس پہننے کا نام نہیں۔ وطن سے محبت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب ہمیں غلط کام سے فائدہ مل سکتا ہو مگر ہم ضمیر کی آواز کو ترجیح دیں۔کیونکہ ملک سرحدوں سے محفوظ ہوسکتا ہے مگر کردار سے مضبوط ہوتا ہے۔آج جب آتش بازی آسمان کو روشن کرے تو ان آنکھوں کو بھی یاد کیجیے جو آزادی کا سورج دیکھنے سے پہلے بند ہوگئیں۔ ان ماؤں کو یاد کیجیے جنہوں نے اپنے بیٹے کھوئے۔ ان بچوں کو یاد کیجیے جنہوں نے ہجرت کے راستوں میں اپنا بچپن چھوڑ دیا۔ ان خاندانوں کو یاد کیجیے جنہوں نے گھر کی چابی تو سنبھال لی مگر گھر خود پیچھے رہ گیا۔پھر سبز ہلالی پرچم کو دیکھئے۔یہ صرف کپڑا نہیں۔یہ ایک امانت ہے۔اس میں شہیدوں کا لہو ماؤں کی دعائیں مہاجروں کے آنسو اور آنے والی نسلوں کے خواب شامل ہیں۔ اس کی ہر جنبش ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آزادی کسی ایک نسل کا تحفہ نہیں یہ ہر نسل کی ذمہ داری ہے۔اس لیے جشن ضرور منائیے، مگر جشن کے شور میں تاریخ کی آواز کو دبنے نہ دیجیے۔ پاکستان سے محبت کے دعوے ضرور کیجیے، مگر اپنے کردار سے ان دعووں کو سچ بھی ثابت کیجیے۔ صرف حقوق نہ مانگیے، فرائض بھی ادا کیجیے۔ صرف وطن پر فخر نہ کیجیے، اپنے عمل کو بھی وطن کے فخر کا سبب بنائیے۔کیونکہ ہمارے بزرگوں نے ہمیں صرف ایک ملک نہیں دیا تھا انہوں نے ہمیں ایک امانت دی تھی۔انہوں نے اپنا آج قربان کیا تاکہ ہمارا کل محفوظ ہوسکے۔اب باری ہماری ہے۔کل جب تاریخ ہمارے سامنے کھڑی ہوکر پوچھے گی تمہیں پاکستان کیسا ملا تھا اور تم نے اسے کیسا چھوڑا۔ تو ہماری نظریں جھکی ہوئی نہیں ہونی چاہئیں۔ہمیں کہنا چاہیے۔ ہمیں یہ وطن خون سے ملا تھا ہم نے اسے بے حسی سے مرنے نہیں دیا۔ ہمیں یہ آزادی قربانی سے ملی تھی ہم نے اسے اپنے کردار سے زندہ رکھا۔اور شاید یہی 14 اگست کا اصل پیغام ہے۔ پرچم لہرانا جشن ہے پرچم کی لاج رکھنا حب الوطنی ہے اور وطن کو آنے والی نسلوں کے لیے بہتر چھوڑ جاناآزادی کا سب سے بڑا حق ادا کرنا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *