بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 02 July 2026 | پاکستان: 17 محرم 1448

پانی کی جنگ

Thursday, 2 July, 2026

اکیسویں صدی کو اگر پانی کی صدی کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ایک وقت تھا جب قومیں سرحدوں، معدنی وسائل اور توانائی کے ذخائر پر تنازعات میں الجھی رہتی تھیں، مگر آج دنیا تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں پانی صرف ایک قدرتی نعمت نہیں بلکہ قومی سلامتی، اقتصادی استحکام اور سیاسی خودمختاری کا بنیادی ستون بن چکا ہے۔ عالمی ماہرین برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ مستقبل کی بڑی جنگیں تیل نہیں بلکہ پانی پر لڑی جائیں گی، اور بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں یہ خطرہ محض ایک خدشہ نہیں بلکہ ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں وفاقی وزرا کی حالیہ پریس کانفرنس نے ایک مرتبہ پھر قوم کی توجہ اس انتہائی اہم مسئلے کی جانب مبذول کرائی ہے۔ حکومت نے واضح الفاظ میں کہا کہ پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بیان صرف ایک سیاسی مقف نہیں بلکہ زمینی حقائق کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ پاکستان کی معیشت، زراعت، صنعت، بجلی کی پیداوار اور کروڑوں شہریوں کی زندگی کا انحصار پانی پر ہے۔ اگر اس بنیادی وسیلے کا تحفظ یقینی نہ بنایا گیا تو مستقبل میں ملک کو ایسے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن کے اثرات کئی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے دریاں، پہاڑوں اور گلیشیئرز کی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاں نے صدیوں سے اس سرزمین کو زرخیز رکھا ہے، مگر بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلی، پانی کے ناقص انتظام، ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت اور بین الاقوامی آبی تنازعات نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پانی کا مسئلہ صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں فی کس پانی کی دستیابی خطرناک حد تک کم ہو رہی ہے۔ آزادی کے وقت ایک پاکستانی کے حصے میں ہزاروں مکعب میٹر پانی آتا تھا، مگر آبادی میں بے پناہ اضافے اور وسائل کے غیر مثر استعمال کے باعث آج یہ مقدار کئی گنا کم ہو چکی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں پاکستان شدید آبی قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب صرف پینے کے پانی کی کمی نہیں بلکہ زرعی پیداوار میں کمی، خوراک کا بحران، مہنگائی، بیر وزگاری اور سماجی بے چینی بھی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ڈیموں کی تعمیر پر زور دینا ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں آبی ذخائر بڑھانے کیلئے مطلوبہ رفتار سے کام کیوں نہ ہو سکا؟ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی ضرورت کے مطابق پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا کر لی، جبکہ پاکستان آج بھی محدود ذخائر پر انحصار کر رہا ہے۔ نتیجتاً مون سون میں آنیوالا قیمتی پانی سمندر میں بہہ جاتا ہے اور چند ماہ بعد یہی ملک پانی کی قلت کا شکار ہو جاتا ہے۔ پانی کے مسئلے کا ایک اہم پہلو سندھ طاس معاہدہ بھی ہے، جسے جنوبی ایشیا کے اہم ترین بین الاقوامی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ حکومت نے درست طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ اس معاہدے کی خلاف ورزی یا یکطرفہ تبدیلی ناقابل قبول ہے اور پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کیلئے ہر قانونی اور سفارتی فورم پر آواز بلند کرے گا لیکن صرف سفارتی کوششیں کافی نہیں ہوں گی، اندرون ملک پانی کے بہتر انتظام، جدید آبپاشی نظام، نہروں کی مرمت، پانی کے ضیاع کی روک تھام اور عوامی شعور کی بیداری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں پانی کا ضیاع معمول کی بات بن چکا ہے۔ شہروں میں ٹوٹی ہوئی پائپ لائنوں سے لاکھوں گیلن پانی ضائع ہو جاتا ہے، زرعی شعبے میں پرانے طریقہ آبپاشی کے باعث پانی کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے، جبکہ گھریلو سطح پر بھی پانی کے استعمال میں احتیاط کا فقدان ہے۔ اگر ہم نے اپنی عادات تبدیل نہ کیں تو مستقبل کا بحران صرف حکومت کیلئے نہیں بلکہ ہر شہری کیلئے ایک سنگین مسئلہ بن جائے گا۔ پانی کی حفاظت صرف حکومتی پالیسیوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے قومی شعور، اجتماعی ذمہ داری اور مستقل منصوبہ بندی درکار ہے۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ پانی کو سیاسی نعروں سے نکال کر قومی ترجیح بنایا جائے کیونکہ جو قومیں اپنے پانی کی حفاظت نہیں کرتیں وہ اپنے مستقبل کو بھی محفوظ نہیں رکھ سکتیں ۔ اسی تناظر میں پانی کے مسئلے کا ایک اور نہایت اہم پہلو زیرِ زمین پانی کے ذخائر کا تیزی سے ختم ہونا بھی ہے۔ زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر یہی شعبہ ملک میں دستیاب میٹھے پانی کا سب سے زیادہ حصہ استعمال کرتا ہے۔ بدقسمتی سے آج بھی بیشتر علاقوں میں صدیوں پرانے آبپاشی کے طریقے رائج ہیں، جن کے نتیجے میں پانی کی بڑی مقدار ضائع ہو جاتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ڈرپ اریگیشن، اسپرنکلر سسٹم اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے ذریعے کم پانی سے زیادہ پیداوار حاصل کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان میں ان جدید طریقوں کا استعمال ابھی محدود ہے۔ اگر حکومت کسانوں کو جدید آبپاشی نظام اپنانے کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرے تو نہ صرف پانی کی بڑی بچت ممکن ہے بلکہ زرعی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ صنعتی شعبہ بھی پانی کے استعمال میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بہت سی صنعتیں استعمال شدہ پانی کو صاف کیے بغیر دریاں اور نہروں میں چھوڑ دیتی ہیں، جس سے آبی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آلودہ پانی نہ صرف انسانی صحت کیلئے خطرہ بنتا ہے بلکہ زرعی زمینوں، آبی حیات اور ماحولیات پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صنعتی اداروں کو واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب کرنے کا پابند بنایا جائے اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اگر ہر شہری کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنا دی جائے تو نہ صرف بیماریوں میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ صحت کے شعبے پر اٹھنے والے اخراجات بھی کم ہوں گے۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ پانی کا بحران صرف دیہی علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ بڑے شہروں میں بھی پانی کی منصفانہ تقسیم ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ حالیہ حکومتی بیانات میں پانی کے مسئلے کو قومی سلامتی سے جوڑا گیا ہے لیکن اب وقت صرف بیانات سے آگے بڑھنے کا ہے۔ اگر واقعی پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے تو پھر اس شعبے میں بھی اسی سنجیدگی، تسلسل اور قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے جو دیگر قومی سلامتی کے معاملات میں اختیار کی جاتی ہے۔ پانی کو سیاسی اختلافات کی نذر کرنے کے بجائے قومی مفاد کا معاملہ سمجھا جائے اور ایسی طویل المدتی حکمت عملی ترتیب دی جائے جو آنے والی کئی دہائیوں کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ دنیا کے کئی ممالک نے پانی کے بحران پر قابو پانے کیلئے موثر پالیسیاں اختیار کیں۔ بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے، آبی ذخائر میں اضافے، پانی کی ری سائیکلنگ اور عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے انہوں نے اپنے وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کیا۔ پاکستان بھی ان تجربات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، بشرطیکہ منصوبہ بندی میں تسلسل، شفافیت اور سیاسی عزم موجود ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی بقا کی ضمانت ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *