ممالک کی طاقت اور صلاحیت ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہے۔ پاکستان مسلم دنیا کی واحد جوہری طاقت ہونے کے ساتھ ایک بڑی اور تجربہ کار مسلح افواج رکھتا ہے۔ ترکیہ نیٹو کا اہم رکن ہے اور جدید دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی و بحری صلاحیتوں اور دفاعی پیداوار کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ سعودی عرب خلیج کا ایک انتہائی اہم ملک ہے، جس کے پاس وسیع معاشی وسائل، توانائی کی اہمیت، جغرافیائی محل وقوع اور عالمی سفارتی اثر و رسوخ موجود ہے۔ یوں پاکستان کی دفاعی اور اسٹریٹجک صلاحیت، ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کی معاشی و جغرافیائی طاقت مل کر ایک ایسا امتزاج تشکیل دیتی ہیں جو خطے میں دفاعی توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے۔ اس معاہدے کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ستمبر 2025میں ہونیوالے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے تسلسل کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس وقت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کیخلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کرنے کے اصول پر اتفاق کیا تھا۔ اب ترکیہ کی شمولیت نے اس تعاون کو ایک وسیع تر سہ فریقی شکل دے دی ہے۔ مکہ مکرمہ میں اس معاہدے کا طے پانا بھی اپنی جگہ غیر معمولی علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ مکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے روحانی وابستگی کا مرکز ہے اور وہاں تین اہم مسلم ممالک کا اپنی سلامتی اور دفاع کے حوالے سے مشترکہ عزم کا اظہار ایک مضبوط علامتی پیغام رکھتا ہے۔ یہ پیغام اس تصور کو تقویت دیتا ہے کہ مسلم ممالک باہمی اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات، امن اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کے نئے راستے تلاش کر سکتے ہیں۔ معاہدے کی سب سے اہم خصوصیت اس کا اجتماعی دفاع کا اصول ہے۔ اگر کسی ایک ملک کو مسلح حملے کا سامنا ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک کیخلاف حملہ تصور کیا جائیگا ۔ یہ اصول ممکنہ جارحیت کیخلاف ایک مضبوط نفسیاتی اور اسٹریٹجک بازداریت پیدا کر سکتا ہے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اس شق کو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے تکنیکی طور پر مماثل قرار دیا ہے، تاہم اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف جنگی محاذ بنانا نہیں بتایا گیا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان اور ترکیہ دونوں نے اس معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی تیسرے ملک کیخلاف نہیں بلکہ مشترکہ دفاع اور سلامتی کیلئے ہے۔ دفاعی اتحاد کی اصل کامیابی جنگ کی صلاحیت بڑھانے میں نہیں بلکہ جنگ کے امکانات کم کرنے میں ہوتی ہے۔ جب ایک ممکنہ جارح کو معلوم ہو کہ کسی ایک ملک پر حملے کی صورت میں دو مزید اہم ریاستیں اس کے سامنے کھڑی ہوں گی تو جارحیت کا فیصلہ آسان نہیں رہتا۔ یہی اجتماعی دفاع کی بنیادی طاقت ہے۔ پاکستان کیلئے اس معاہدے کی اہمیت کئی حوالوں سے غیر معمولی ہے۔ پاکستان کے ترکیہ کے ساتھ دیرینہ برادرانہ، دفاعی اور سفارتی تعلقات ہیں جبکہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ اس لیے پاکستان اس سہ فریقی تعاون میں ایک اہم رابطہ کار اور اسٹریٹجک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔دفاعی شعبے میں اس تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ مشترکہ فوجی مشقیں، تربیتی پروگرام، دفاعی ٹیکنالوجی، ڈرونز، سائبر سیکیورٹی ، بحری دفاع، انٹیلی جنس تعاون اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے تینوں ممالک کی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اگر اس تعاون کو منظم ادارہ جاتی شکل دی جائے تو یہ مستقبل میں مسلم دنیا کیلئے دفاعی خود انحصاری کی ایک مثال بن سکتا ہے۔ ترکیہ کی دفاعی صنعت نے حالیہ برسوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ پاکستان بھی دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کی جانب بڑھ رہا ہے، جبکہ سعودی عرب اپنی دفاعی صنعت اور مقامی پیداواری صلاحیت کو فروغ دینے کیلئے وسیع منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان تینوں صلاحیتوں کا باہمی امتزاج نہ صرف دفاعی تعاون کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ روزگار، تحقیق، ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اس شراکت داری کا ایک اہم پہلو معاشی تعاون بھی ہو سکتا ہے۔ دفاعی تعلقات اگر تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں سے منسلک ہو جائیں تو تینوں ممالک کے درمیان تعلقات محض دفاعی معاہدے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایک جامع تذویراتی شراکت داری کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں