امریکہ کے ساتھ صبر، حکمت اور افہام و تفہیم کے ذریعے رابطے استوار کیے، مکالمے کے دروازے کھولے اور ایک وسیع جنگ کے خطرات کو ٹالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کے برعکس بھارت کا کردار نہایت افسوسناک دکھائی دیا۔ پاکستان آگ بجھانے میں مصروف تھا جبکہ نئی دہلی حسد اور تنگ نظری کے باعث شعلوں کو ہوا دینے میں دلچسپی رکھتا دکھائی دیا۔ یہاں تک کہ امریکہ کے صدر نے اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران کھلے الفاظ میں اعتراف کیا کہ جنگ روکنے میں پاکستان کی کوششیں بنیادی حیثیت رکھتی تھیں۔ یہ اعتراف بھارت کے لیے مزید خفگی اور بے چینی کا سبب بنا۔ان پُرآشوب ایام میں بھارت کے مشکوک کردار اور علاقائی صف بندیوں نے بھی خود کو نمایاں کرنا شروع کردیا۔ ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات اسرائیلی مفادات تک پہنچانا اور ایران مخالف اقدامات کی خاموش حمایت کرنا اس امر کا ثبوت تھا کہ بھارت خطے کی ایک خطرناک تقسیم میں ایک خاص فریق کے ساتھ کھڑا ہے۔ مگر ایران، شدید دباؤ اور مخالفت کے باوجود، بڑی حد تک کامیاب رہا اور اسرائیل کی اُن سازشوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوا جو وہ خطے میں اپنے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویّے کے تحت پروان چڑھا رہا تھا۔ ایسے ماحول میں بھارت کی خلیجی معاملات میں مداخلت کی کوششوں کو پذیرائی نہ مل سکی۔ پاکستان کی مصالحت پر مبنی سفارت کاری نے نئی دہلی کے لیے راستے محدود رکھے۔ جب اسرائیل جنگی دباؤ کا شکار ہوا تو اُس نے ایک مرتبہ پھر متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے تعلقات پر انحصار کیا، جبکہ بھارت نے اسرائیلی تعاون کے ذریعے انہی روابط میں اپنے لیے جگہ بنانے کی کوشش کی اور خود کو دونوں ریاستوں کا بالواسطہ ہمدرد ثابت کرنے کی سعی کی۔ اسرائیل اور بھارت نے مل کر خلیجی ممالک کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کی بھی کوشش کی تاکہ مسلم اُمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا جاسکے۔ یہ خدشہ بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اسرائیل خطے کے کسی مسلم ملک پر میزائل یا ڈرون حملہ کرکے الزام کسی دوسرے مسلم ملک پر ڈالنے کی کوشش کرے۔ پاکستان کے باخبر حلقے ان تمام حرکات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔اس موقع پر بھارت کی جانب سے ایک اور شرارت کی کوشش بھی متوقع ہے۔ ممکن ہے نئی دہلی متحدہ عرب امارات کو یہ ترغیب دینے کی کوشش کرے کہ وہاں مقیم پاکستانیوں کو واپس بھیج دیا جائے اور اُن کی جگہ بھارتی ہنرمند کارکنوں کو لایا جائے۔ تاہم، اِن شاء اللہ، ایسی سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ خلیجی بحران کے دوران پاکستان نے تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ خوشگوار اور کھلے روابط برقرار رکھے۔ خلیجی ریاستوں نے بھی امن کے قیام کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کو سراہا۔ پاکستان کا طرزِ عمل نہایت باوقار اور ذمہ دارانہ تھا، جبکہ بھارت نے فریب اور پروپیگنڈے کے ذریعے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی۔ نئی دہلی نے یہ تاثر دینے کی ناکام سعی کی کہ جب ایرانی میزائل متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر گرے تو پاکستان نے ایران کا ساتھ دے کر اپنے دیرینہ دوست کو تنہا چھوڑ دیا۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ پاکستان نے ہر مرحلے پر جنگ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی، جبکہ بھارت اپنی محدود مفاد پرستی کے تحت اس آگ کو مزید بھڑکانا چاہتا تھا۔ تاریخ خود اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کتنے گہرے اور مخلصانہ ہیں۔ 1970 کی دہائی میں مختلف امارات کو ایک مضبوط وفاق کی صورت میں یکجا کرنے میں پاکستان کی سفارتی حمایت اور تعاون نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ بعد ازاں پاکستان کی افرادی قوت، مہارت اور تجربے نے متحدہ عرب امارات کی حیرت انگیز ترقی میں نمایاں حصہ ڈالا۔ یہ رشتے آج بھی اعتماد، احترام اور بھائی چارے کی بنیاد پر قائم ہیں۔ آج جبکہ بھارت تقسیم اور فساد کی سیاست کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان ایک مرتبہ پھر خیر سگالی، حکمت اور سفارت کے ذریعے اُن سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کھڑا ہے۔ اسلام آباد کی موجودہ قیادت اس مقصد کے لیے وژن بھی رکھتی ہے اور صلاحیت بھی۔ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کی نمائندگی سفیر شفقت علی خان نہایت احسن انداز میں انجام دے رہے ہیں۔ وہ ایک تجربہ کار سفارت کار ہیں جو دفترِ خارجہ کے ترجمان رہنے کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں بھی اہم تجربہ حاصل کر چکے ہیں۔ اُن کی تعیناتی اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان اس اہم تعلق کو کس قدر سنجیدگی سے دیکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ تاریخ، باہمی احترام اور اعتماد کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔ ایسے وقت میں جب مسلم دنیا کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان مسلسل اُمتِ مسلمہ کے اتحاد، یکجہتی اور باہمی تعاون کی آواز بلند کر رہا ہے تاکہ برادر اسلامی ممالک وقتی اختلافات سے بلند ہوکر عزت، وقار اور اجتماعی قوت کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔حالیہ بحرانوں نے دنیا پر ایک حقیقت بالکل واضح کردی ہے۔ پاکستان نے خود کو استحکام، امن اور ذمہ داری کی علامت کے طور پر منوایا ہے، ایک ایسی ریاست کے طور پر جو اپنے وقار اور اثر و رسوخ کو امن کے فروغ کے لیے استعمال کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ اس کے برعکس بھارت کا کردار شکایات، حسد اور موقع پرستی سے عبارت دکھائی دیا۔ اب جبکہ خلیج اور اس کے اطراف میں گرد آہستہ آہستہ بیٹھ رہی ہے، عالمی برادری کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ علاقائی ہم آہنگی اور امن کے حقیقی مفادات کا محافظ کون سا ملک تھا۔ پاکستان کے طرزِ عمل نے اسے احترام دلایا ہے، اور اگر وہ انہی اصولوں پر قائم رہا تو مستقبل میں اس کا وقار مزید مستحکم ہوگا۔ ایک انتشار زدہ دنیا میں ایسی مستقل مزاجی یقیناً نایاب بھی ہے اور قیمتی بھی۔

