ماہ اگست شگوفے پھوٹنے ہری بھری گھاس کے نمودار ہونے کا موسم ہے لےکن ہمےشہ کی طرح اس سال بھی مون سون نے اپنا رنگ دکھانا شروع کےا اور وطن عزےز کے باسےوں کےلئے سےلاب کی شکل مےں اےک بڑی تباہی سے دوچار ہونا پڑا ،خصوصاً صوبہ بلوچستان مےں تباہی کے مناطر کرب انگےز تھے ۔
محسن غرےب لوگ بھی تنکوں کا ڈھےر ہےں
ملبوں مےں دب گئے کبھی پانی مےں بہہ گئے
ہم سب کا فرض ہے کہ ان امتحانی لمحات مےں اپنے بھائےوں کی دامے درمے سخنے مدد کرےں اور حکومت وقت بھی ان سےلاب زدہ بے گھر لوگوں کی حتی المقدور مدد کر کے انہےں دوبارہ اپنے گھروں مےں آباد کرنے کے انتظامات کرے۔
معزز قارئےن! اس ماہ آزادی کی خاطر بہت سے مسلمان شہےد ہوئے ،بہت سے بچھڑ گئے ،بہت سی آنکھوں مےں شاےد آج بھی اپنوں سے ملنے کی آس باقی ہو ۔وطن عزےز پاکستان کے معرض وجود مےں آنے کا بدلہ لےنے کےلئے سےنکڑوں مسلمان مردو زن کو تہہ تےغ کر کے خون کی ندےاں بہا دی گئےں ۔مسلمان لڑکےوں کو بے آبرو کر کے نےزوں کی انےوں پر چڑھا دےا گےا لےکن ان کی مدد کو کوئی نہ پہنچ سکا ۔سچ ہے غلامی اﷲ کی مخلوق کے فطری اور جبلی تقاضوں سے لگا نہےںکھاتی ۔ےہی سبب رہا کہ حضرت انسان اپنی محبوب ترےن شے ےعنی متاع حےات بھی آزادی پر نچھاور کرتا رہا ۔پاکستان کا حصول کےونکر ممکن ہوا ۔14اگست کی خون رنگ تارےخ کے چند لرزا دےنے والے واقعات قارئےن خصوصاً آج کی نوجوان نسل کے سامنے رکھ رہا ہوں جنہوں نے پاکستان کو بنتے ہوئے نہ دےکھا ۔برطانوی انگرےز برےگےڈئےر جس کی ذمہ داری فسادات روکنا تھا وہ اپنی کتاب ”برطانوی سلطنت کی ےادےں “ مےں لکھتا ہے کہ مےں اپنے طےارے مےں فساد زدہ مقامات کا دورہ کرتے درےائے ستلج کے شمال مےں اےک بستی پر سے گزرا جس کا نام ”راہول“ ہے وہاں پرواز کو نےچے کےا تو اےک مےدان مےں نوجوان عورتوں اور لڑکےوں کی قطارےں تھےں ، سکھ جتھے دار، ان کا معائنہ کر رہے تھے ۔اےسا دکھائی دےتا تھا کہ جےسے کوئی جشن مناےا جا رہا ہے اور لوگ اپنی پسند کی چےزےں چھانٹ رہے ہےں ۔اےک اور برےگےڈئےر ”کلفر ڈولےم“ جو لدھےانہ سے اپنی جےپ مےں جا رہا تھا تو سڑک کے کنارے چالےس عورتوں کی لاشوں کو دےکھا ۔ان عورتوں کو بری طرح چےر پھاڑ کر پھےنکا گےا تھا ۔”برےگےڈئےر برسٹو“ جنگ سنگھ کا واقعہ بےان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ےہاں جھاڑےوں مےں اےک سو برہنہ عورتےں ملےں ،بےشتر کو ناقابل بےان تشدد کے بعد قتل کےا گےا تھا تا ہم ابھی کچھ عورتےں اور بچے زندہ تھے ،بچے رےنگتے اور روتے ہوئے ماﺅں کو تلاش کر رہے تھے ،ان بچے کھچے بچوں اور زخمی عورتوں کی جانوں کو بھی خطرہ تھا تا ہم انہےں بچا لےا گےا اور پناہ گزےن کےمپوں مےں پہنچا دےا گےا ۔امرتسر مےں عجےب حالات تھے ۔مردوں کو بے رحمی سے قتل کےا جاتا ،عورتوں کو بے آبرو کےا جاتا اور پھر خوف اور تشدد سے کانپتی ہوئی عورتوں کو شہر بھر مےں گھما کر گولڈن ٹےمپل لے جاےا جاتا اور وہاں بہت سی عورتوں کی گردنےں اڑا دی جاتےں ۔دہلی مےں اےک انگرےز مصنف مارگرےٹ بورک وائٹ نے اپنی ےادداشتوں مےں لکھا ہے کہ اےک ننھا منا معصوم بچہ اپنی مردہ ماں کے پاس بےٹھا اس کے دونوں بازو جھنجوڑ رہا تھا شاےد وہ اپنی ماں کی آغوش مےں جانے کےلئے بے قرار تھا مگر اسے کےا پتہ تھا کہ اب اس کی ماں اسے اپنے بازوﺅں مےں نہےں لے سکے گی ۔جی ہاں ےوں بنا تھا پاکستان ۔ ےہ خطہ اس لئے حاصل کےا گےا کہ ےہاں عدلےہ آزاد ہو گی ،سےاست آزاد ہو گی ،آئےن کی بالا دستی ہو گی لےکن افسوس گزشتہ برسوں مےں اس آزاد مملکت کےلئے قائد اعظم ؒ کے رہنما اصولوں سے محرومی ہی مقدر رہی ۔کہنے کو ہم اےک آزاد قوم ہےں ،اےک آزاد خود مختار ،مقتدر اور زندہ قوم ۔قدرت نے ہمےں اپنی تمام تر نعمتوں سے نوازا ہے ،درےا ،پہاڑ ،سمندر ، رےگستان ،آبنائے ،معدنےات ،بہت اہم محل وقوع ،جوہری توانائی کا حامل لےکن آزاد ہو کر بھی ہم ابھی تک خوئے غلامی سے نجات حاصل نہےں کر سکے ،ہم سب کچھ لٹا کر بھی ابھی تک غلام ہےں ۔ذاتی مصلحتوں پر قومی مفادات کی قربانی بھی غلامی کی اےک شکل ہے ۔ہم نے دو قومی نظرےے سے منہ موڑ لےا ۔بانی پاکستان کا ےہ ارشاد کہ ہم پاکستان اس لئے حاصل کرنا چاہتے ہےں تا کہ اسلام کے اصول حرےت و اخوت اور مساوات کا عملی نمونہ دنےا کے سامنے پےش کر سکےں لےکن جب پاکستان بن گےا تو قوم اس کے مقاصد کو فراموش کر کے بتدرےج اپنی منزل سے دور ہوتی گئی ۔قوم نظرےاتی اساسوں کو ترک کر بےٹھی ،اجتماعی سوچ کی جگہ خود غرضےوں نے لے لی ،حکومت کرنا ذمہ داری کے بجائے اعزاز ٹھہرا ۔دشمنوں کی سازشوں کا سامنا کر کے ان کا توڑ کرنے کی بجائے ان سے مجرمانہ چشم پوشی برتی گئی ۔نتےجہ ےہ نکلا کہ آدھا پاکستان ٹوٹ کر الگ ہو گےا ۔آزادی ےقےنا نعمت کبریٰ ہے لےکن ہم اپنی آزادی کی حفاظت مےں بری طرح ناکام رہے ۔آج بھی پاکستان مےں وزارت داخلہ پر اےف بی آئی اور وزارت خزانہ پر آئی اےم اےف اور عالمی بےنک قبضہ جمائے ہوئے ہےں ۔کےا پاکستان بن جانے کے بعدپاکستان بنانے کے عظےم مقاصد کو حاصل کر لےا گےا ہے ؟ اس کا جواب ےہی ہے کہ وہ مقاصد حاصل نہےں کئے جا سکے۔آج بھی وطن عزےز کے باسی بے حساب محرومےوں اور ماےوسےوں کا شکار نظر آتے ہےں ۔وطن عزےز کا مراعات ےافتہ طبقہ دولت کے ہر قسم کے وسائل پر پوری طرح قابض ہے ۔آج بھی کروڑوں کی تعداد مےں ےہاں کے باسی غربت کی سطح سے نےچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہےں ۔ان کو غربت ،بےماری ،بے روزگاری اور جہالت نے بری طرح جکڑ رکھا ہے ۔حکومتےں بنتی ہےں ٹوٹتی ہےں مگر ان کی حالت مےں کوئی تبدےلی رونما نہےں ہوتی ۔ان کے بچے تعلےم سے محروم اور ان کے علاج کےلئے علاج گاہےں ناےاب ہےں ۔دنےا مےں جو قومےں اپنے لئے لائحہ عمل ،دستور اور منشور مرتب کر کے اس پر عمل پےرا ہوتی ہےں وہی کامےاب اور سرخرو ہوتی ہےں ۔1945ءکی عالمی جنگ نے کورےا کا بدترےن حشر کےا لےکن آج وہ دنےا کی بڑی صنعتی قوتوں مےں شامل ہے ۔جرمنی اور جاپان کی مثالےں بھی ہمارے سامنے ہےں ۔چےن جو ہم سے بعد مےں آزاد ہوا کےمونسٹ انقلاب کے وقت وہ بھارت سے بھی پسماندہ تھا مگر آج وہ دنےا کی تےسری بڑی اقتصادی قوت ہے ۔ہم تو ابھی تک اپنے سےاسی اور معاشی نظام کا تعےن ہی نہےں کر سکے ۔ہر دور مےں ہماری تغےر ہذےر پالےسےوں ،الجھاﺅ ،تضادات، انتشار اور بے ےقےنی کی کےفےت نے ہمارے اجتماعی فکر و شعور کو پختہ ہی نہ ہونے دےا ۔ہم ہنوز اپنی آزادی کی بقاءاور نظرےاتی و تہذےبی تشخص کی حفاظت کی جدوجہد مےں مصروف ہےں ۔آزادی کی بقاءکےلئے پاک فوج کی قربانےاں لازوال ہےں جو ہمےشہ ےاد رکھی جائےں گی ۔پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے دہشت گردوں کا نےٹ ورک توڑ دےا ہے ۔ دہشت گردی کے خاتمہ مےں پاک فوج کے ہزاروں فوجی ،اہلکار و افسران جن کا لہو وطن کی آزادی کو قائم رکھنے بہہ چکا ہے اور بہہ رہا ہے ہم ان شہداءاور غازےوں کو سلام عقےدت پےش کرتے ہےں ۔اب بھی وقت ہے کہ ہم وقت کے دھاروں کو دےکھ کر حالات کا بغور جائزہ لےں اور اپنی منتشر سوچوں کو اےک نکتے پر مجتمع کر کے قےام پاکستان کے مقاصد کو سمجھےں اور اور اپنی منزل کو سامنے رکھےں ۔ےہی 14اگست کا پےغام ہے ۔ےہی جشن آزادی کا سبق ہے اور زندہ قوموں کا ےہی انداز ہے جو اپنی تارےخ مےں انہےں زندہ رکھتا ہے ۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں