کالم

پاک خارجہ پالیسی۔ توازن کی عمدہ مثال

سنجیدہ حلقوں کے مطابق حالیہ امریکی صدارتی بیانات نے پاکستان کے سفارتی کردار کو ایک نئے زاویے سے اجاگر کیا ہے، جہاں ایک طرف پاکستان کے محتاط طرز عمل کو سراہا گیا، وہیں دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافات کو بھی واضح طور پر الگ کر دیا گیا۔ ایسے میں یہ پیشرفت پاکستان کیلئے ایک اہم سفارتی موقع بھی ہے اور ایک نازک توازن قائم رکھنے کا چیلنج بھی ۔ یاد رہے کہ حالیہ بیانات میں پاکستان کو کسی بھی طور مذاکراتی عمل کی ناکامی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا بلکہ اس کے برعکس پاکستان کی قیادت اور سفارتی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے اصل تعطل کو ایران کے جوہری پروگرام سے جوڑا گیا۔ جان کاروں کے مطابق یہ ایک اہم سفارتی کامیابی ہے کیونکہ اس سے پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت ملتی ہے کہ اس نے صرف مذاکرات کیلئے پلیٹ فارم فراہم کیا جبکہ اصل تنازعہ فریقین کے درمیان ہی موجود رہا۔اسلام آباد میں ہونیوالے یہ مذاکرات گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی براہِ راست رابطے کا اہم ترین موقع تھے، جو کئی گھنٹوں تک جاری رہے مگر کسی حتمی معاہدے پر منتج نہ ہو سکے۔سفارتی ماہرین کے بقول پاکستان کا کردار یہاں ایک”فسیلیٹیٹر”کا تھا، نہ کہ فیصلہ کن فریق کا۔ اس نے نہ صرف دونوں ممالک کو ایک میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی بلکہ ایک نازک جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں بھی مدد دی۔کیونکہ یہ کسی بھی ثالثی عمل کا بنیادی مقصد ہوتا ہے کہ وہ بات چیت کے دروازے کھلے رکھے اور فوری تصادم کے خطرات کو کم کرے اور اس تناظر میں پاکستان کی کوششوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔تاہم یہ امر بھی خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ امریکی بیانات ایک ایسے مرحلے پر سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن خطے میں مزید سخت اقدامات کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ تاثر بھی پیدا کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے پہلے سفارتکاری کا راستہ اختیار کیا اور اس کے بعد سخت موقف اپنایا، جس سے یہ خدشہ جنم لیتا ہے کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونیوالے مذاکرات کو ایک”بڑے موقع”کے طور پر پیش کیا جائے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان بجا طور پر اپنے بیانیے کو واضح اور مؤثر انداز میں پیش کر رہا ہے تاکہ اسے کسی بھی ممکنہ عسکری یا دباؤ کی حکمت عملی سے منسلک نہ کیا جاسکے۔ماہرین کے بقول اسی تناظر میں پاکستان نے اب تک نہایت محتاط اور متوازن پالیسی اختیار کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہرمز سے متعلق قرارداد پر غیر جانبداری اور عوامی سطح پر جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کسی بھی ممکنہ عسکری اتحاد یا دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ بننے سے گریز کر رہا ہے۔ جان کاروں کے مطابق یہی رویہ پاکستان کو ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ ایسے میں غالبا ًمیڈیا کیلئے بھی یہ ایک اہم لمحہ ہے کہ وہ اس صورتحال کو کس زاویے سے پیش کرتا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کو اس پورے عمل میں ایک مثبت کردار کے طور پر اجاگر کیا جانا چاہیے—ایسا کردار جس نے نہ صرف براہِ راست رابطے کو ممکن بنایا بلکہ ایک خطرناک ترین تصادم کو وقتی طور پر ٹالنے میں بھی مدد دی۔ لہٰذا اس تناظر میںیہ تاثر دینا کہ پاکستان کسی ناکامی یا بعد ازاں ہونے والی کشیدگی کا ذمہ دار ہے، نہ صرف حقیقت کے منافی ہوگا بلکہ اس کی سفارتی ساکھ کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔کیوں کہ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کسی بھی پیچیدہ تنازع میں ثالثی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ تمام مسائل کو فوری طور پر حل کر دے۔کسے علم نہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جنہیں ایک یا دو نشستوں میں ختم کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے اس عمل کو ناکامی کے بجائے ایک ایسے مرحلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جس نے اصل مسائل کو اجاگر کیا اور آئندہ مذاکرات کیلئے ٹھوس بنیاد فراہم کی ۔ آخر میں مبصرین اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ پاکستان کو اپنی سفارتی کامیابی کو مؤثر انداز میں اجاگر کرتے ہوئے ایک متوازن بیانیہ قائم رکھنا ہوگا اوریہ بیانیہ اس بات پر مبنی ہونا چاہیے کہ پاکستان نے نہ صرف ایک اہم سفارتی خلا کو پُر کیا بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے ایک عملی کردار ادا کیا۔اس تمام پس منظر میں آئندہ مرحلے میں خاموش سفارتکاری، جنگ بندی کا تسلسل اور محدود دائرے میں نئے مذاکراتی ادوار ہی وہ راستہ ہیں جو خطے کو مزید عدم استحکام سے بچا سکتے ہیں ۔ ایسے میں یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان خود کو اس تمام تنازعے سے الگ رکھتے ہوئے صرف امن اور استحکام کیلئے اقدامات کررہا ہے اور اس اپنا کوئی ایجنڈا نہیں ۔ایسے میں توقع کی جانی چاہیے کہ تمام موثر حلقے اس ضمن میں اپنی قومی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھاتے رہیں گے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے