بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Monday, 29 June 2026 | پاکستان: 15 محرم 1448

پسرور موڑ کے جوتے سے دبئی مال کے جوتے تک

Monday, 29 June, 2026

رات کے آخری پہر جب انسان تنہا ہوتا ہے تو اس کے سامنے نہ دولت کھڑی ہوتی ہے، نہ عہدے، نہ گاڑیاں اور نہ ہی بڑے بڑے گھر۔ اس کے سامنے صرف اس کا ماضی کھڑا ہوتا ہے۔کل رات بھی میرا ماضی میرے سامنے کھڑا تھا۔ایک طرف دبئی مال سے خریدے گئے مہنگے سکیچرزکے جوتے تھے، دوسری طرف گوجرانوالہ کے پسرور روڈ پر ریلوے لائن کے قریب ایک چھوٹی سی دکان سے خریدے گئے چھ سو روپے کے جوتے تھے۔ایک طرف آج کا سکون تھا، دوسری طرف کل کی جدوجہد۔اور سچ پوچھیں تو میری آنکھیں دبئی مال کے جوتوں پر نہیں، پسرور موڑ کے ان جوتوں پر نم ہو گئیں جن کے اندر میں ٹشو پیپر رکھ کر چلتا تھا تاکہ وہ پاؤں سے نہ نکل جائیں۔لوگ آج میری زندگی دیکھتے ہیں تو انہیں گاڑیاں نظر آتی ہیں، اچھا گھر نظر آتا ہے، بچے خوشحال نظر آتے ہیں، لیکن انہیں وہ دن نہیں نظر آتے جب میری والدہ لوگوں کی ٹوپیاں سی کر گھر کا چولہا جلایا کرتی تھیں۔انہیں وہ دن نہیں نظر آتے جب بھینس کا دودھ ایک گلاس گھر کے لیے رکھا جاتا تھا اور باقی حلوائی کو بیچ دیا جاتا تھا۔انہیں وہ دن نہیں نظر آتے جب بھینس کے چارے میں اگر کوئی شلجم نکل آتا تو میری ماں اسے الگ کر کے سالن بنا لیا کرتی تھی۔انہیں وہ دن نہیں نظر آتے جب ایک کلومیٹر پیدل چل کر ریلوے اسٹیشن جانا پڑتا تھا اور پھر لاہور جا کر تعلیم حاصل کرنی پڑتی تھی۔ انہیں پیر غازی روڈ کا وہ چھوٹا سا کوارٹر نظر نہیں آتا جہاں سردیوں کی راتیں بھی خوابوں کے سہارے گزرتی تھیں۔مگر مجھے سب یاد ہے۔مجھے اپنے والد صاحب کی محنت یاد ہے جو سندھ میں خاندان کی خاطر مشقت کرتے رہے۔مجھے اپنے بڑے بھائی کی قربانیاں یاد ہیں۔مجھے اپنا دوست یوسف یاد ہے جس نے پہلی بار مجھے پولی ٹیکنک کالج اور ڈپلومہ انجینئرنگ کا راستہ دکھایااور آج میں ایک اور شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ میں مفکر اسلام، عظیم دانشور اور تحریک اسلامی کے بانی، مرحوم مولانا سید ابوالاعلی مودودی کو سلام پیش کرتا ہوں۔اگر ان کی فکر نہ ہوتی، اگر ان کی قائم کردہ تحریک نہ ہوتی، اگر اسلامی جمعیت طلبہ جیسی تربیت گاہ موجود نہ ہوتی تو شاید میری زندگی کا راستہ بھی کچھ اور ہوتا۔آج بھی میں اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے اس وقت کے ناظم، محترم حفیظ چوہدری صاحب کو دعاؤں میں یاد کرتا ہوں جنہوں نے بڑی تگ و دو، کوشش اور بھاگ دوڑ کے بعد مجھے رانا موٹرز لاہور میں ملازمت دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس وقت شاید نہ انہیں اندازہ تھا اور نہ مجھے کہ ڈیڑھ سو روپے ماہانہ تنخواہ والی وہ نوکری میری زندگی کا رخ بدل دے گی۔میں نے رانا موٹرز میں صرف ڈیڑھ سو روپے پر کام شروع کیا تھا۔ڈیڑھ سو روپے!آج کے نوجوان شاید اس رقم پر یقین بھی نہ کریںلیکن میں نوجوانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ انسان کی کامیابی اس کی پہلی تنخواہ سے نہیں ناپی جاتی، اس کے عزم سے ناپی جاتی ہے۔پھر اللہ نے راستے کھول دیے۔رانا موٹرز سے سفر شروع ہوا۔پھر ناغی موٹرز تک پہنچا۔پھر سعودی عرب کا سفر نصیب ہوا۔پھر الجمیح اے سی ڈیلکو میں ذمہ داریاں ملیں۔وہی چھ سو روپے والے جوتے پہن کر دفتر جاتا تھا۔ایک دن فنانس مینجر نے مذاق میں کہا:”آپکے آنے کا ہمیں پہلے ہی پتہ چل جاتا ہے، آپ کے جوتے کی آواز دور سے آ جاتی ہے۔”میں نے دل میں کہا:ان شا اللہ! ایک دن یہی جوتے اس بات کی گواہی دیں گے کہ غربت انسان کی تقدیر نہیں ہوتی۔اور اللہ نے وہ دن بھی دکھایا۔عبداللہ ٹرنر نامی ایک کینیڈین افسر کی کرپشن سامنے آئی۔ تحقیقات ہوئیں، حقائق ثابت ہوئے اور وہ ملازمت سے فارغ ہوا۔اس دن مجھے یقین ہوا کہ دنیا میں عہدے نہیں، کردار جیتتا ہے۔آج میری عمر ستر سال کے قریب ہے۔بائی پاس ہو چکا ہے۔زندگی کا بڑا حصہ گزر چکا ہے۔مگر جب میں کسی غریب نوجوان کو مایوس بیٹھا دیکھتا ہوں تو دل تڑپ اٹھتا ہے۔میں اس سے کہنا چاہتا ہوں:بیٹا! اگر تمہارے پاس آج اچھے کپڑے نہیں ہیں تو پریشان مت ہو۔اگر تمہارے جوتے پھٹے ہوئے ہیں تو شرمندہ مت ہو۔اگر تمہارے والد مزدور ہیں تو دل چھوٹا مت کرو۔اگر تمہاری ماں سلائی کرتی ہے تو سر جھکا نہیں، فخر کرو۔کیونکہ کامیابی امیروں کی جاگیر نہیں ہوتی۔کامیابی ان لوگوں کے قدم چومتی ہے جو گر کر بھی اٹھتے ہیں، تھک کر بھی چلتے ہیں اور رونا آ جائے تب بھی ہمت نہیں ہارتے ۔ میری زندگی کی پوری داستان کا خلاصہ صرف ایک جملہ ہے:پسرور موڑ کے چھ سو روپے والے جوتوں سے دبئی مال کے مہنگے جوتوں تک کا سفر قسمت نے نہیں، محنت نے طے کروایا تھا۔اور اگر میری یہ داستان کسی ایک غریب بچے کو بستر سے اٹھا کر محنت کی راہ پر لگا دے، تو میں سمجھوں گا کہ میری زندگی کی کمائی، میری تنخواہیں، میری گاڑیاں اور میری تمام کامیابیاں وصول ہو گئیں۔یہ انداز قاری کے جذبات کو زیادہ متاثر کرے گا اور غریب نوجوان کیلئے امید، محنت اور خود اعتمادی کا پیغام بنے گا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *