چودہ اگست 1947کو دنیا کے نقشے پر پاکستان کے نام سے ایک نیا ملک قائم ہوا۔ اس آزاد مملکت کا قیام مسلماناں ہند کی طویل جدو جہد اور بہت سی قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔ تاریخ کی بہت بڑی حجرت عمل میں آئی خون کی ندیاں بہ گئیں لاکھوں خاندان ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ چونکہ انگریزوں نے مسلمانوں سے اقتدار حاصل کیا تھا اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ 1857کی جنگ آزادی میں مسلمانوں نے اہم کردار ادا کیا ہے اور انگریزوں کے خلاف بغاوت میں مسلمانوں کا ہاتھ تھا ۔ سرسید احمد خان اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے مسلمانوں اور انگریزوں کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے رسالہ اسباب بغاوت ہند لکھ کر دلائل سے انگریزوں کے خدشات دور کرنے کی کوشش کی۔ ایک دور ایسا آیا کہ مسلمان انگریزی تعلیم حاصل کرنے کو گناہ تصور کرنے لگے تھے ۔ ہندو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے انگریز دور میں بڑے بڑے عہدے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ۔ مسلمان ان پڑھ یا کم تعلیم کی وجہ سے چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے پر مجبور تھے ۔ سر سید احمد خان نے تعلیم کے فروغ کیلئے سائنٹیفک سوسائٹی علی گڑھ سکول اور کالج قائم کیے ۔ اعلیٰ تعلیم کیلئے علی گڑھ یونیورسٹی بنائی اس درسگاہ سے فارغ التحصیل طلبا نے تحریک پاکستان میی اہم رول ادا کیا ۔لی برادران نے آزادی کی تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا ۔ مولانا محمد علی جوہر کے اخبار ہمدرد اور کامریڈ نے بھی پاکستان موومنٹ میں اہم رول ادا کیا۔ کیمبرج یونیورسٹی کے طالب علم چوہدری رحمت علی نے ایک پمفلٹ Now or Never اب ورنہ کبھی نہیں کے نام سے شائع کرکے پہلی بار پاکستان کا تصور پیش کیا ۔ علامہ اقبال نے 1930 کے خطبہ الہ آباد میں مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک الگ ریاست کا تصور پیش کیا ۔آخر کار 1906میں نواب محسن الملک اور وقار الملک کی کو ششوں سے ڈھاکہ میں مسلم لیگ قائم ہوئی ۔ قائد اعظم پہلے کانگرس میں تھے اور ہندو مسلم اتحاد۔ کے بہت بڑے داعی سمجھے جاتے تھے لیکن کانگرسی قیادت کے مسلمانوں کے بارے میں جانب دارانہ اور متعصب رویے کی وجہ سے آپ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ مشہور زمانہ نہرو رپورٹ میں مسلمانوں کے مفاد کا خیال نہ رکھا گیا اسی لئے قائد اعظم نے اس کے جواب میں اپنے چودہ نقاط پیش کئے۔ انہوں نے مسلمانوں کی الگ مملکت کے قیام کیلئے دن رات محنت کی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ آپ نا امید ہو کر انگلینڈ واپس چلے گئے۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے انہیں خطوط لکھ کر واپس بلایا کہ قوم کو آپ کی قیادت کی ضرورت ہے ۔ اس طرح آپ نے ہندوستان واپس آ کر مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی ۔ دراصل مسلم لیگ کے قیام کا مقصد مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ تھا اور ان کی آواز کو برطانوی حکومت تک پہنچانا تھا۔ اس تنظیم نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں وہ اپنے مسائل پر بات چیت کر سکیں اور اپنی سیاسی حکمت عملی تیار کر سکیں۔ مسلم لیگ نے جلد ہی مسلمانوں کے درمیان مقبولیت حاصل کر لی اور یہ ایک مضبوط سیاسی قوت بن کر ابھری۔ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ نے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن کے مطالبے کو مضبوطی سے پیش کیا۔ 23مارچ 1940کو منٹو پارک لاہور میں منعقد ہونیوالے اجلاس میں مسلم اکابرین کی موجودگی میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی جس نے علیحدہ ریاست کے قیام کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد کی دہائی میں، مسلم لیگ نے انتھک محنت کی اور مسلمانوں کے حقوق کیلئے جدوجہدجاری رکھی جو بالآخر چودہ اگست 1947میں پاکستان کے قیام پر منتج ہوئی ۔ لیاقت علی خان نے پہلے وزیراعظم اور قائد اعظم محمد علی جناح نے بطور گورنر جنرل حلف اٹھایا ۔ یہ سفر آسان نہیں تھا لیکن مسلمانوں کی قیادت اور ان کی اجتماعی کوششوں نے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد بھی، مسلم لیگ نے ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔ ہندوستان کے آخری وائسرائے مسئلہ کشمیر متنازع چھوڑ گئے اور پنجاب کے کئی علاقے بھی بھارت میں شامل کر دئے۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم قائد کے پاکستان کو قائم نہ رکھ سکے اور کچھ اندرونی اور بین الاقوامی سازشوں کی وجہ سے 1971میں ہم نے اپنا مشرقی بازو گنوا دیا لیکن پچاس سال بعد بنگالیوں کو ہوش آ گیا اور طلبا تحریک کے زریعے شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی شیخ حسینہ واجد کو ملک بدر کرر دیا اب بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں ۔ گزشتہ 77سالوں میں ملک مختلف مارشل لائوں کے شکنجے میں رہا اور ڈکٹیٹر برسوں اس ملک کے سیاہ سفید کے مالک بنے رہے لیکن جس مقصد کیلئے پاکستان بنایا گیا تھا وہ حاصل نہ ہو سکا ۔ صرف ساٹھ کی دہائی میں پاکستان معاشی طور پر خوشحال اور ٹیک آف پوزیشن میں تھا اور ایوب دور میں پاکستان نے جرمنی کو قرضہ دیا تھا ۔ پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی باری باری حکومت کرتی رہیں اور کچھ عرصہ پی ٹی آئی برسر اقتدار رہی اور اب بھی مختلف اتحادی جماعتوں کی حکومت ہیے۔ اس ملک کو ہم سب نے دل کھول کر لوٹا اور ملک کی اقتصادی حالت اس قدر خراب ہو گئی ہے کہ آئی ایم ایف کی امداد کے بغیر چلنا مشکل ہے۔ غریب آدمی انصاف کیلئے ترس رہا ہے اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن حکمران اور سیاست دان اپنی مراعات میں اضافے کے بارے میں ہی سوچتے ہیں ۔ ہم ہر سال یوم آزادی بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں ۔ ہمیں اس یوم آزادی پر عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس ملک کو قائد اعظم کا پاکستان بنائیں گے انصاف کا بول بالا ہو گا ۔ ملک کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات دلائیں گے غربت بیروزگاری کا خاتمہ کرینگے۔ صحت اور تعلیم کی سہولتیں سب کو ملیں گی ۔ جاگیر دارانہ نظام کا خاتمہ ہو گا ۔ دیہاتوں کے بااثروڈیروں چوہدریوں کی اپنے ڈیروں پر ہاریوں نوکروں پر ظلم اور تشدد کرتے ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں ۔ ان کو قانون کے شکنجے میں لانے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے ہمیں ہر صورت اس کی حفاظت کرنی ہے اس ملک کو ایک ویلفیر اسٹیٹ بنانا ہو گا تاکہ ہر شہری کو اس کی دہلیز پر انصاف مل سکے۔ زندہ قومیں اپنا یوم آزادی پر وقار طریقے سے مناتی ہیں۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں