بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 20.1°C
Thursday, 01 October 2026 | پاکستان: 20 ر بیع الثانی 1448

کشمیر کا مسئلہ حل طلب

Thursday, 1 October, 2026

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی محدود خودمختاری ختم کیے جانے کے سات سال بعد بھی،اس متنازع خطے میں موجودہ صورتحال پر بے چینی پائی جاتی ہے۔یہاں تک کہ بھارت کی نظر میں’وفادار’سمجھی جانے والی جماعتیں بھی اس صورتحال سے خوش نہیں ہیں۔اس کا اظہار پیر کے روز مقبوضہ علاقے کی اسمبلی میں منظور کی گئی ایک قرارداد سے ہوا،جس میں’ریاستی حیثیت’ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔یہ حیثیت 2019 میں بھارتی آئین کی دفعہ 370 کی منسوخی کے وقت ختم کر دی گئی تھی۔مقبوضہ علاقے کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے دعوی کیا کہ ریاستی حیثیت”ہمارا حق”ہے۔بی جے پی کے قانون سازوں نے اس قرارداد کو”ملک دشمن” قرار دیا۔اس سے قبل بھی مقبوضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی جانب سے ایسی ہی دو قراردادیں منظور کی جا چکی ہیں۔یہ مسئلہ اگست 2019 سے قبل کی حیثیت کی بحالی سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔اصل مسئلہ کشمیریوں کا حقِ خود ارادیت ہے، جسے بھارت برصغیر کی تقسیم کے وقت سے ہی روکتا چلا آ رہا ہے۔جب تک اس بنیادی مسئلے کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا،یہ مسئلہ برقرار رہے گا کیونکہ مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا اور کہا کہ کشمیری”آٹھ دہائیوں”سے اقوام متحدہ کی جانب سے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے منتظر ہیں ۔ انہوں نے کشمیری آبادی کے خلاف بھارت کی جانب سے کی جانیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی بھی کی۔اسی طرح،ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے”متعلقہ قراردادوں”کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کا مطالبہ کیا۔متنازعہ خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔نومبر 2025 کی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں من مانی گرفتاریوں،حراست کے دوران مشکوک اموات، تشدد اور “کشمیری اور مسلم برادریوں کے ساتھ امتیازی سلوک” کی مذمت کی گئی ہے۔مقبوضہ کشمیر کے زخموں کو ناسور بننے کیلئے نہیں چھوڑا جا سکتا۔کشمیری عوام،بشمول وہ سیاست دان جو نئی دہلی کے قریب رہے ہیں یا اب بھی ہیں،مقبوضہ خطے میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد نافذ نظام کے تحت شدید بے چینی اور کوفت کا شکار ہیں۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ، مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں پر بھی تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔اس کا منصفانہ حل یہ ہے کہ بھارت کشمیری عوام کے جائز نمائندوں اور پاکستان کو شامل کرتے ہوئے سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرے ۔ بھارت کے حکمران اس مفروضے پر یقین رکھ سکتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر ان کے ملک کا ‘اٹوٹ’ حصہ ہے لیکن اس سے بھارتی حکمرانی کے خلاف عام کشمیریوں اور خطے کے سیاسی اشرافیہ میں پائے جانیوالے عدم اطمینان کا کوئی حل نہیں نکلتا۔اس تنازع نے جنوبی ایشیا میں حالات کی بحالی کے تمام امکانات کو زہر آلود کر دیا ہے۔آزادی کے مطالبے کو تکبر کے ساتھ مسترد کرنے کے بجائے بھارت کے حکمرانوں کو مقبوضہ کشمیر سے اٹھنے والی آوازوں کو سننا چاہیے اور پاکستان کے ساتھ مل کر اس تنازع کے منصفانہ حل کے لئے کام کرنا چاہیے۔
پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں
راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرزمیں امریکہ کے ‘افغانستان وار کمیشن’ کے وفد اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ملاقات ایسے وقت میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے جب امریکہ افغانستان میں اپنی دو دہائیوں پر محیط موجودگی کا جائزہ لے رہا ہے۔شریک سربراہان شمیلہ این چوہدری اور ڈاکٹر کولن ایف جیکسن کی قیادت میں آنیوالے وفد نے تنازع کے دوران پاکستان کے دیرینہ کردار اور قربانیوں کا اعتراف کیا اور علاقائی امن و استحکام کیلئے اس کی خدمات کو سراہا۔ملاقات کے دوران،چیف آف ڈیفنس فورسز نے ان سیکیورٹی عوامل کے حوالے سے پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا جنہوں نے افغان جنگ کی نوعیت کا تعین کیا،اور افغانستان میں امریکہ کی طویل شمولیت کے دوران پاکستان کو درپیش سنگین چیلنجوں کو اجاگر کیا۔تنازعے کے کسی بھی جائزے میں علاقائی تناظر کو شامل کرنے پر ان کا زور خاص اہمیت کا حامل ہے۔پڑوسی ممالک،بالخصوص پاکستان پر مرتب ہونیوالے اثرات کو مدنظر رکھے بغیر افغان جنگ کو مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو بھاری قیمت چکانا پڑی۔ہزاروں پاکستانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جبکہ ملک کو شدید معاشی، سماجی اور سیکیورٹی اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ساتھ ہی امریکہ کی قیادت میں چلائی جانے والی مہم اور افغانستان سے اس کے حتمی انخلا میں پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اور تعاون کلیدی حیثیت کا حامل رہا۔تاہم، امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے سے پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز ختم نہیں ہوئے۔افغانستان میں پیچھے رہ جانیوالے ہتھیاروں اور عسکری سازوسامان نے خطرے کی نوعیت میں ایک نئی جہت کا اضافہ کر دیا ہے ، کیونکہ دہشتگرد گروہ انہیں پاکستان کیخلاف استعمال کر رہے ہیں۔دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں؛یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جس کیلئے اجتماعی ردعمل کی ضرورت ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے بارہا پاکستان کو دہشتگردی اور باقی دنیا کے درمیان ایک رکاوٹ قرار دیا ہے۔یہ نکتہ بین الاقوامی سطح پر سنجیدہ توجہ کا مستحق ہے۔یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان اکیلے اس بوجھ کو اٹھائے گا ۔امریکہ اور وسیع تر عالمی برادری کو پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے اور دہشتگردی کیخلاف اس کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کیلئے بامعنی مالی، تکنیکی اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنی چاہیے۔اس طرح کی حمایت نہ صرف پاکستان کے مفادات کیلئے بلکہ علاقائی اور عالمی سلامتی کے وسیع تر مقصد کے حصول کیلئے بھی سودمند ثابت ہوگی۔افغانستان کے تجربے سے دنیا کو یہ سبق ملنا چاہیے کہ فوجوں کے انخلاء سے تنازعات ختم نہیں ہوتے؛ان کے اثرات باقی رہتے ہیں اور اکثر نسلوں تک برقرار رہتے ہیں۔
عالمی یوم قلب اورصحت کے مسائل
عالمی یومِ قلب کا دن تو گزر گیا ہے لیکن اس کا پیغام اس کے ساتھ ہی ماند نہیں پڑنا چاہیے ۔ یہ موقع عوام کیلئے ایک مفید یاد دہانی ہے کہ دل کی بیماری صرف ان لوگوں کا مسئلہ نہیں جن میں اس کی تشخیص ہو چکی ہے۔اس کی بنیادیں اکثر برسوں پہلے ہی پڑ جاتی ہیں۔پاکستان میں صحت کے ماہرین نے بچوں اور نوجوانوں کی جانب خصوصی توجہ مبذول کرائی ہے اور خبردار کیا ہے کہ غیر صحت بخش غذائیں اور جسمانی سرگرمی کا فقدان ان میں دل کی بیماری اور دیگر غیر متعدی امراض کے خطرے کو بڑھا رہا ہے جو زندگی کے بعد کے حصے میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔یہ گفتگو میں ایک اہم تبدیلی ہے۔دل کی بیماری اچانک ادھیڑ عمری میں شروع نہیں ہوتی۔خطرہ بڑھانے والی بہت سی عادات اور حالات جیسے کہ ناقص خوراک، موٹاپا، ورزش کی کمی اور تمباکو کا استعمال، بہت پہلے ہی جڑ پکڑ سکتے ہیں۔بچے تیزی سے پیک شدہ اسنیکس، میٹھے مشروبات اور انتہائی حد تک پروسیس شدہ غذائوں کے گھیرے میں آ رہے ہیںجبکہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی کے مواقع اکثر محدود ہوتے ہیں ۔لہٰذادل کی صحت کا تحفظ اس وقت سے شروع ہونا چاہیے جب تک کہ کسی کو دل کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جو خوراک خرید رہے ہیں اس میں کیا شامل ہے خاص طور پر جب مصنوعات میں ضرورت سے زیادہ چینی، نمک یا غیر صحت بخش چکنائی موجود ہو۔صحت کے ماہرین نے ایسی مصنوعات پر پیکٹ کے سامنے واضح انتباہی لیبل لگانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ سکول بھی جسمانی سرگرمی کی حوصلہ افزائی اور بچوں کی غیر صحت بخش غذاں اور مشروبات تک رسائی کو محدود کر کے زیادہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔والدین کو بھی مناسب غذائیت اور صحت بخش کھانوں کے بارے میں سادہ اور قابلِ اعتماد معلومات کی ضرورت ہے۔اگر ملک آنیوالی دہائیوں میں دل کے دورے اور فالج کے واقعات میں کمی چاہتا ہے تو اسے آج کے نوجوانوں کے دلوں کی حفاظت سے شروعات کرنی ہوگی۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *