بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Friday, 03 July 2026 | پاکستان: 19 محرم 1448

گلوبل وارمنگ سے گلوبل بوائلنگ تک

Thursday, 2 July, 2026

موسمیاتی بحران نے مغربی یورپ کو تندور بنادیا افریقے سے اٹھنے والے شدید ترین گرم ہوا کے طوفان نے 38 کروڑ سے زائد یورپی شہریوں کو جھلسنے پر مجبور کر دیا برطانیہ میں تاریخ کا گرم ترین دن ریکارڈ ہونے کے ساتھ ساتھ فرانس اور سپین میں ہلاکت خیز تپش نے درجنوں جانیں نگل لیں براعظم یورپ کے کئی حصوں میں اس وقت افریقہ سے بھی زیادہ گرمی پڑ رہی ہے جس نے ٹرانسپورٹ کے نظام سے لے کر ہنگامی امداد تک شعبوں تک متعدد چیلنجز کھڑے کردیئے ہیں تپتی گاڑیوں میں بچوں کی ہلاکتوں اور ہسپتالوں میں دل کے مریضوں کی قطاروں نے ہنگامی صورت حال پیدا کردی ہے اقوام متحدہ نے خبر دار کردیا ہے کہ یہ موسمیاتی تباہی کا واضح ثبوت ہے ہیٹ ویو کا یہ رخ اب مشرقی یورپ کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں کیلئے ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے ماہرین موسمیات کے مطابق اس ہیٹ ویو کی وجہ ایک مخصوص موسمی نظام ہے جسے اومیگا بلاک کہا جاتا ہے یہ نظام یونانی لفاظ اومیگا کی شکل میں گرم ہوا کو ایک خاص خطے میں مقید کر دیتا ہے جس سے درجہ حرارت معمول سے 18 ڈگری سیلسئیس تک زیادہ ہوجاتا ہے یورپی یونین کی کو پر ٹیکس کلائمیٹ چینج سروس کی ڈپٹی ڈائریکٹر سمانتھا برجس کا کہنا ہے کہ اس ریکارڈ توڑ گرمی کی وجہ شمالی افریقہ سے آنے والی گرم ہوا کا ایک کم دبا کا نظام ہے جس نے گرمی کو ایک ہیٹ ڈروم کی شکل میں منتقل کردیا ہے اور ٹھنڈی ہوا کو اندر نہیں آنے دے رہا دوسری جانب یورپ میں آسمان سے برستی آگ اور ریکارڈ توڑ ہیٹ ویو نے جہاں کروڑوں انسانوں کا جینا محال کردیا ہے وہیں ایشیا کی الیکٹرانکس کمپنیوں کے لئے یہ ہولناک گرمی ایک بڑا بزنس جیک پاٹ ثابت ہورہی ہے روایتی طور پر ٹھنڈے رہنے والے براعظم یورپ میں جہاں کبھی ایئر کنڈیشنر کو ایک غیر ضروری تعیش سمجھا جاتا تھا آج اسی اے سی کو خریدنے کیلئے دکانوں کے باہر لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کی مشہور کمپنی مڈیا کے پورٹیبل اے سیز کی مانگ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ مارکیٹ میں نیا سٹاک ختم ہوگیا ہے اور اب استعمال شدہ(سیکنڈ ہینڈ) اے سی اصل قیمت سے بھی مہنگے بک رہے ہیں مئی کے مہینے میں فرانس اور سپین جیسے ممالک میں اے سیز کی سہلائی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 108 فیصد کا ناقابل یقین اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ جرمنی میں آن لائن فروخت 37 فیصد بڑھ گئی ہے انٹر نیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق یورپ میں محض 20 فیصد گھروں میں اے سی نصب ہیں لیکن جس تیزی سے یورپ دنیا کے باقی حصوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ گرم ہو رہا ہے یہ رحجان اب مستقل طور پر بدل رہا ہے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ نے اب یورپی بازاروں کا رخ ہمیشہ کے لئے تبدیل کرکے رکھ دیا ہے دنیا بھر میں رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں زمین کا ماحول ماہرین کے اندازے سے زیادہ تیزی کے ساتھ گرم ہورہا ہے جو شاید پہلے کبھی نہیں ہوا اقوام متحدہ نے خبردار کر رکھا ہے کہ گلوبل وارمنگ کو 1.5 سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کا ہدف جلد ہی دم توڑ دے گا کیونکہ کرہ ارض پر کاربن کے اخراج میں ریکارڈ اضافہ ہوتا جارہا ہے موجودہ صورت حال میں ہمارے پاس صرف دو راستے ہیں یا تو رہنما کاربن کے اخراج میں کمی لائیں یا ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں کو دیکھتے رہیں اقوام متحدہ نے انتباہ جاری کر رکھا ہے کہ دنیا تیزی سے تباہ کن گرمی کے قریب بڑھ رہی ہے حالات گلوبل وارمنگ سے بڑھ کر گلوبل بوائلنگ کی طرف جا رہے ہیں اقوام عالم نے متحد ہو کر فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کئے تو کلائمیٹ چینج کنٹرول کرنے کے طے شدہ اہداف کا حصول مشکل ہو جائے گا دنیا کے سینکڑوں سائنسدانوں کا 8 برس کی محنت سے تیار کردہ رپورٹ میں کہنا ہے کہ کلائمیٹ چینج کے باعث فوسل فیول انڈسٹریز میں مرحلہ وار کمی نہ ہونے اور کاربن کا اخراج روکنے میں عزم کی کمی، قحط، خشک سالی، سیلاب، سطح سمندر میں اضافے ماحولیاتی عدم مساوات، غذائی عدم تحفظ، ورلڈ فوڈ مارکیٹ کے بحران، خوراک اور خصوصا زرعی پیداوار میں کمی، آبادیوں کی نقل مکانی پانی اور توانائی کی سپلائی چین متاثر ہونے اور گلیشیئرز پگھلنے سے دنیا کے لئے خطرات بڑھ گئے ہیں متوقع اثرات پہلے سے زیادہ شدید ہیں اور دنیا تیزی سے خطرناک نتائج کی طرف بڑھ رہی ہے غریب اور کمزور ممالک سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے بحران کے باعث عالمی امن اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں غریب یا کم آمدنی والے ممالک تو شاید اس حساسیت کو فی الحال نہ سمجھ سکیں لیکن اپنے عوام کی سکیورٹی فلاح و بہبود اور وسائل کے درست استعمال کو ترجیح بنانے والے ممالک کیلئے یہ سب سے بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے ان عوامل سے اقوام متحدہ خود بھی فکر مند ہے اسی لئے ہر روز دنیا کو احساس دلایا جا رہا ہے کہ تمام ممالک کو سوچ و بچار کر کے متحد ہو کر آگے بڑھنا ہو گا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بار بار انتباہ کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے ہم آہنگ ہونے کی کوششوں کے دوران ماحولیاتی مساوات نظرانداز نہیں ہونی چاہیے ماحولیاتی ماہرین کی بھی یہی رائے ہے کہ ماحولیاتی انصاف یا موافقت کا مسئلہ حل کئے بغیر ہماری معیشتیں، غذائی تحفظ اور عالمی استحکام خطرے میں ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ کلائمیٹ فنانس ناگزیر ہے ان کا کہنا ہے کہ کرہ ارض کوگرم ہوتے معدنیاتی ایندھن سے دور رکھنے میں مدد کرنے شمسی توانائی اور ونڈر انرجی جیسی صاف توانائی کی جانب منتقل ہونے کیلئے کم از کم 10 کھرب ڈالر کی ضرورت ہے موسمی تبدیلیوں کے باعث یکے بعد دیگرے بحرانوں سے ورلڈ فوڈ مارکیٹ میں بحران ، خطوں میں خوراک کی عدم دستیابی اور مقامی آبادیوں کی نقل مکانی جیسے پیدا ہونے والے مسائل مستقبل میں امن اور سلامتی کیلئے خطرات بن سکتے ہیں۔عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں اضافے سے دنیا بھر میں لوگوں کا بے گھر ہونے کا رجحان بھی زیادہ ہو گیا ہے غیر معمولی بارشوں، طویل خشک سالی ماحولیاتی انحطاط سطح سمندر میں اضافہ کے نتیجے میں ہونے والے خطرات اور طوفانوں سے متاثر ہو کر سالانہ 20 ملین سے زیادہ لوگ اپنے ملک چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جانے پر مجبور ہیں انہی وجوہات کے سبب عالمی سطح پر سکیورٹی خدشات بھی پیدا ہو رہے ہیں مستقبل میں کلائمیٹ چینج کے نیتجے میں خوراک، پانی اور توانائی کی فراہمی متاثر ہو گی قدرتی وسائل کے حصول کیلئے ممالک اور خطوں کے درمیان مقابلہ شروع ہو جائے گا معیشتیں شدید خسارے میں چلی جائیں گی قدرتی آفات کے تسلسل سے مختلف خطوں اور علاقوں کے لوگ ہجرت پر مجبور ہوں گے۔ دنیا بھر میں تقریبا پونے 8 کروڑ افراد بھوک و افلاس کا شکار ہیں اگر ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات کو کنٹرول اور عالمی درجہ حرارت میں اضافہ نہ روکا گیا تو مزید تقریبا 2 کروڑ لوگ بھوک کی وادی میں چلے جائیں گے ماہرین اور سائنسدان دنیا پر زور دے رہے ہیں کہ اب ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات روکنے کیلئے محض کاربن کا اخراج کم کرنا ہی کافی نہیں بلکہ کلائمیٹ چینج سے نمٹنے کیلئے حقیقی عمل کا وقت آن پہنچا ہے دنیا ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیوں کے عالمگیر مسئلے سے صرف متحد ہوکر ہی نمٹ سکتی ہے ماحولیاتی تبدیلیوں نے موجودہ اور آئندہ نسلوں کیلئے جو مسائل پیدا کر دئیے ہیں اس کا حل اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے ۔اگر اقوام متحدہ کے رکن ممالک انسانی بقا کے لئے سنگین خطرہ بننے والی ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے لئے جلد اقدامات کرلیں تو دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جاسکتا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *