بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Saturday, 27 June 2026 | پاکستان: 12 محرم 1448

گیند کی سلائی سے امن کی بنائی تک

Wednesday, 17 June, 2026

ایک ایسی دنیا میں جو اکثر سیاست، جغرافیے اور باہمی مفادات کے تضادات کے باعث تقسیم در تقسیم دکھائی دیتی ہے، چند ہی ایسی قوتیں ہیں جو انسانیت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ فٹ بال انہی نادر قوتوں میں سے ایک ہے۔ بعض ممالک میں اسے ساکر کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک عالمگیر زبان ہے، جسے کروڑوں انسان سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ یہ زبان سرحدوں، ثقافتوں، نسلوں اور عقائد کی دیواروں کو عبور کر کے دلوں کو جوڑتی ہے۔ دنیا کے عظیم شہروں کی مصروف شاہراہوں سے لے کر دور افتادہ دیہات تک، یہ کھیل خوابوں کو جلا بخشتا، جذبات کو مہمیز دیتا اور انسانیت کے مشترکہ احساس کو فروغ دیتا ہے۔امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے سولہ شہروں میں منعقد ہونے والا فیفا ورلڈ کپ 2026 ایک بار پھر پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ قومیں عظمت و افتخار کے حصول کے لیے میدان میں ہیں، کھلاڑی اپنے نام کو تاریخ میں امر کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں اور اربوں شائقین ہر پاس، ہر ٹیکل اور ہر گول کو انہماک سے دیکھ رہے ہیں۔ افسوس کہ پاکستان ان ٹیموں میں شامل نہیں جو اس عالمی میلے میں شریک ہیں، لیکن اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ پاکستان اس عظیم منظرنامے سے غائب ہے تو یہ حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔اس عالمی مقابلے کے عین مرکز میں ایک ایسی چیز موجود ہے جس پر پاکستانی ہنرمندی کی واضح مہر ثبت ہے۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 کی سرکاری میچ بال، جسے ”ٹریونڈا” کا نام دیا گیا ہے، پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں تیار کی گئی ہے۔ سیالکوٹ وہ شہر ہے جس کا نام کھیلوں کا سامان بنانے میں معیار، مہارت اور اعتماد کی علامت بن چکا ہے۔ کئی دہائیوں سے اس شہر کے ماہر کاریگر اور جدید پیداواری ادارے دنیا کے معتبر ترین مقابلوں کے لیے فٹ بال تیار کر رہے ہیں۔ گزشتہ فیفا ورلڈ کپ مقابلوں، یوئیفا چمپئنز لیگ کے فائنلز اور متعدد بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں استعمال ہونیوالی گیندوں کی جڑیں بھی اسی زرخیز صنعتی شہر میں ملتی ہیں۔ سیالکوٹ کی داستان محنت، مہارت اور خاموش کامیابی کی داستان ہے۔اگرچہ تیار شدہ مصنوعات پر بعد میں عالمی کمپنیوں کے نام اور لوگو ثبت کر دیے جاتے ہیں، لیکن دنیا بخوبی جانتی ہے کہ ان گیندوں کی پیدائش کہاں ہوتی ہے۔ ہر سلائی، ہر پینل اور ہر باریک ڈیزائن پاکستانی کارکنوں کی فنی مہارت کا مظہر ہے، جن کے ہاتھ اس کھیل کی تشکیل میں حصہ لیتے ہیں جو اربوں دلوں کی دھڑکن ہے۔ پاکستان اگرچہ میدان میں مقابلہ نہیں کر رہا لیکن اس عالمی ٹورنامنٹ کا ایک ناگزیر شریک ضرور ہے۔ اس کی فیکٹریوں میں تیار ہونیوالی مصنوعات کے بغیر دنیا کے کئی عظیم کھیلوں کے مقابلے ناقابلِ تصور دکھائی دیتے ہیں۔تاہم یہ حقیقت صرف کھیل تک محدود نہیں۔ اقوام کی خدمات اکثر ان سرخیوں سے کہیں آگے ہوتی ہیں جو اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ آج دنیا ایک ایسے بحران سے دوچار ہے جو کسی بھی کھیل کے مقابلے سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ خلیجی خطے کا امن اور خوشحالی، جو عالمی اقتصادی استحکام کیلئے ناگزیر ہے بھی اس دباؤ کی زد میں آ چکی ہے۔ایسے نازک حالات میں پاکستان نے ایک تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ طویل محاذ آرائی کے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے ملکی سیاسی اور عسکری قیادت نے عزم و استقلال کے ساتھ مکالمے اور افہام و تفہیم کی حوصلہ افزائی کی۔ سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی، مشاورت کا سلسلہ جاری رہا اور فریقین کے درمیان رابطے کو آسان بنانے کیلئے سنجیدہ کوششیں کی گئیں۔ پاکستان کا مقصد نہ تو سیاسی فائدہ حاصل کرنا تھا اور نہ ہی عالمی شہرت؛ اس کی خواہش صرف یہ تھی کہ ایسے خطے میں امن قائم ہو جس کا استحکام پوری دنیا کیلئے اہم ہے۔ یہ کاوش صبر، استقلال اور مفاہمت کیلئے غیر متزلزل وابستگی کا تقاضا کرتی تھی۔ سفارتکاری عموماً شور و غوغا سے دور رہتی ہے۔ اس کی کامیابیوں کا پیمانہ جشن اور تقریبات نہیں بلکہ وہ بحران ہوتے ہیں جو ٹل جائیں اور وہ تصادم ہوتے ہیں جو رونما ہونے سے پہلے روک دیے جائیں۔ یہی وہ خاموش کامیابیاں ہیں جو قوموں کی حقیقی خدمت کا درجہ رکھتی ہیں ۔ اب اطلاعات یہ ہیں کہ متعلقہ فریقین کے درمیان مفاہمت کا راستہ ہموار ہو رہا ہے۔ حتمی معاہدے کیلئے سوئٹزرلینڈ کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ اصل اہمیت اس امن کی ہے جس کے حصول کیلئے مشترکہ کوششیں کی گئیں۔ پاکستان اس بات پر اطمینان محسوس کر سکتا ہے کہ اس نے اس عمل میں اپنا کردار ادا کیا اور مکالمے و باہمی اعتماد کیلئے سازگار فضا پیدا کرنے میں مدد دی۔پاکستان کے عالمی کھیل اور بین الاقوامی سفارت کاری میں کردار کے درمیان ایک دلچسپ مماثلت پائی جاتی ہے۔ دونوں میدانوں میں اس کی خدمات ہمیشہ مرکزِ نگاہ نہیں ہوتیں، مگر ان کی اہمیت اور افادیت مسلمہ ہوتی ہے۔ جس طرح ورلڈ کپ میں استعمال ہونیوالی گیند پر خواہ کسی بھی برانڈ کا نام درج ہو، اس کے اندر سیالکوٹ کی ہنرمندی موجود ہوتی ہے، اسی طرح امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کی قدر و قیمت اس بات سے کم نہیں ہوتی کہ معاہدے پر دستخط کہاں ہوتے ہیں یا داد و تحسین کس کے حصے میں آتی ہے۔عصرِ حاضر کی دنیا اکثر نمایاں کامیابیوں کو سراہتی ہے لیکن ان بنیادوں کو فراموش کر دیتی ہے جن پر وہ کامیابیاں استوار ہوتی ہیں۔ ان دونوں میدانوں میں پاکستان نے محنت، استقامت اور عالمی برادری کیلئے مثبت کردار ادا کرنے کے عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔آج جب دنیا فٹ بال کے عظیم ترین مقابلے میں ہونے والے گولوں پر خوشی منا رہی ہے اور بے یقینی کے شکار خطوں میں امن کی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے، پاکستان کی خدمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ بامعنی شراکت صرف اسپاٹ لائٹ تک محدود نہیں ہوتی۔ خواہ یہ سیالکوٹ کے کاریگروں کی مہارت ہو یا اقوام کے درمیان مکالمے کے فروغ کی کوشش، پاکستان مسلسل اس دنیا پر اپنے نقوش ثبت کر رہا ہے جو گیند اور پل—دونوں کی قدر سے بخوبی واقف ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *