ہنگری یورپ کا ایسا ملک ہے جس کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت اور مالی استحکام نے اسے دنیا بھر میں ممتاز حیثیت کا حامل بنادیا ہے ۔ حال ہی میں امریکہ اور روس جیسی عالمی طاقتوں نے یوکرین جنگ نیوی کیلئے مجوزہ مذاکرات کی میزبانی کیلئے ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ کا انتخاب کیا گو کہ یہ مذاکرات چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر منعقد نہ ہوسکے لیکن ہنگری کا انتخاب اس کی مضبوط سیاسی اہمیت کی عالمی سطح پر قبولیت کا آئینہ دار ہے ۔ اسی طرح یورپی پارلیمنٹ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اربوں یورو مالیت کی یوکرین کیلئے مالی امداد منظور نہ کرسکی کیونکہ ہنگری نے اس پر اعتراض کیا تھا کہ پہلے یوکرین اس تباہ شدہ گیس پائپ لائن کی مرمت ارو بحالی کرے جس کو یوکرین نے نشانہ بنایا تھا ۔ ان واقعات اور حالات سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ ہنگری عالمی سیاسی امور میں نہایت فعال کردار کا حامل ہے اور دنیا بھر کے خواہ وہ سپر پاور ہی کیوں نہ ہو اس کی اہمیت اور تاریخی کردار کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ہنگری میں جمہوری نظام عرصہ دراز سے نہایت مستحکم ہے اور اس کی ہر حکومت ہمہ تن عوامی فلاح و بہبود کیلئے کوشاں رہتی ہے ، شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں کے عوام معاشی مشکلات و سماجی تکالیف کا شکار نہیں بنتے۔ اسکی واضح مثال حال ہی میں جاری امریکہ ، اسرائیل اور ایران تنازعے ہے جس کی طوالت نے عالمی معیشت میں بھونچال برپا کردیا ہے اور متاثرہ خطہ کے علاوہ دیگر ممالک بھی اس کے منفی اثرات سے متاثر ہورہے ہیںلیکن اس دوران بھی ہنگری میں توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا اور عوام کیلئے ضروریات زندگی کی اشیاء کا حصول آسان ہے ۔ عرصہ دراز سے ہنگری میں سیاسی افق پر دو پارٹیاں عوام الناس کیلئے اپنی خدمات پیش کر رہی ہیںجسمیں حکمران جماعت Fides2 پارٹی جسکی قیادت موجودہ وزیر اعظم Viktor orleouکررہے ہیں اور حزب مخالف کی جماعت Tiszaپارٹی جسکی قیادت اپوزیشن رہنما pefer magyar کررہے ہیں اور انکے درمیان طویل عرصہ سے سیاسی زور آزمائی اور رسہ کشی جاری ہے ، گزشتہ الیکشن میں FIFESZ پارٹی نے اکثریت حال اور VIKTOR ORLEANنے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا ، یاد رہے کہ یہی وہی وکٹر اور زبان ہیں جنکی سیاسی بصیرت اور فہم وفراست کا گرویدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ہے اور کئی مرتبہ اپنی تقاریر و پریس کانفرنسز میں فخریہ انداز میں ان سے دوستی کا اظہار کرچکا ہے ۔اس سال بھی 12اپریل2026میں ہنگری میں عام انتخابات منعقد ہورہے ہیں جن میں دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اپنے چیدہ چیدہ امیدواروں کے ہمراہ میدان میں اتریں گی اور سیاسی زور آزمائی کریں گی۔
وزیر اعظم VIKTOR ORLEANکی موجودہ حکومت مسند اقتدار سنبھالتے ہیں عوامی فلاح وبہبود کیلئے متعدد اہم اور دورس اقدامات کیے ہیں جنہیں عوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے خاص طور پر تارکین وطن کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ان کی جامع حکمت عملی کہ نہ صرف ملکی سطح پر سراہا گیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی پذیرائی کی گئی ارو اس طرح ہنگری کے عوام
تارکین وطن کیلئے بے ہنگم سیلاب کی وجہ سے ممکنہ سماجی و معاشرتی اثرات سے محفوظ رہے جبکہ برطانیہ ، جرمنی ، فرانس اور اٹلی وغیرہ خطے کے دیگر ممالک اپنی نرم پالیسیوں کی وجہ سے ایسے کرنے میں ناکام رہے اور ان ملکوں میں بے شمار مسائل نے جنم لیا، اسی طرح حاہی میں ہنگری کے وزیر اعظم وکٹراوریان کی قیادت میں یورپی یونین کی جانب سے اربوں یورو ز کی کثیر مالی امداد کی مخالفت اس بناء پر کی گئی کہ یوکرین نے اس مثارہ گیس پائپ لائن جس کو اس نے تباہ کیا تھا اور جس سے ہنگر ی اور سلوالیہ کو گیس کی سپلائی کی جاتی ہے کی ضروری مرمت ارو بحالی نہیں کی ، انکا یہ اصولی موقف بھی عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہے اور اسے عوام الناس نے کافی پسند کیا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے عام انتخابات میں عوام کی اکثریت کس پارٹی کے حق میں فیصلہ دیتی ہے ، چند سیاسی مبصرین نے ان انتخابات میں وزیر اعظم وکٹراوریان کی جماعت FIDESZ پارٹی کے جیتنے کے امکانات زیادہ بتاتے ہیں ارو اس طرح VIKTOR ORLEAN کی حکومت کا تسلسل جاری رہے گا۔ ہنگری کے دارالحکومت بڈاسٹ میں قائم شدہ ایک تحقیقی ادارہ POLICY SOLUTION RESEARCH ORGANISIOTIONسے منسلک ایک سیاسی تجربہ کار کا کہنا ہے کہ FIDESZپارٹی بظاہر غیر جانبدار لوگوںکا ووٹ حاصل کرتے ہیں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس الیکشن میں اس کی جیت کے روشن امکانات ہیں۔
کالم
ہنگری کے عام انتخابات
- by web desk
- اپریل 8, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 48 Views
- 1 مہینہ ago

