نام نہاد امارت اسلامی افغانستان اس وقت ہندوستان اور اسرائیل کی پراکسی بن چکی ہے، اسلام اور پاکستان دشمن یہود ہنود ہی کی شہ پر افغان طالبان جمعرات اورجمعہ کی درمیانی شب پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا ۔ پاکستان کا افغان طالبان رجیم کی جانب سے بلااشتعال کارروائی کے جواب میں آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا گیا، پاک فضائیہ اور بری افواج کے حملوں میں افغان طالبان کے 331کارندے ہلاک اور 500سے زائد زخمی ہو گئے، 104 افغان چوکیاں مکمل تباہ اور 22افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا پرچم لہرا دیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی میں متعدد افغانی بٹالین اور سیکٹر ہیڈ کوارٹر مکمل تباہ اور اسلحہ ڈپو کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا، موثر جوابی کارروائی میں 80سے زائد ٹینک، توپخانہ اور بکتر بند تباہ کر دیں، وطن کا دفاع کرتے ہوئے پاک فوج کے 2 جوان شہید اور 3زخمی ہوئے ہیں ۔پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغان طالبان فورسز کو آرٹلری اور کواڈ کاپٹر کے ذریعے موثر انداز میں نشانہ بنایا ہے۔پاکستان کی مسلح افواج کی فیصلہ کن کارروائی میں افغان طالبان کی متعدد اہم پوسٹس کو مکمل تباہ کرنے کے بعد افغان طالبان نے متعدد بار پوسٹوں پر سفید جھنڈا بھی لہرایا۔ پاکستان نیافغانستان کے پکتیا کے علاقے میں 5 افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا جھنڈا لگا دیا۔ملکی سلامتی اور خود مختاری یقینی بناتے ہوئے افغان طالبان کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا،افغان قیادت جو کل تک گز گز لمبی زبانیں نکال کر پاکستان پرخودکش حملوں اور قبضے کی باتیں کررہی تھی ، وہ پاکستان کی اسلامی فوج کے جراتمندانہ حملوں سے بچنے کیلئے زیر زمین محفوظ پناہ گاہوں میں جاچھپے۔ پاک فوج نے افغانستان کے صوبے قندھار میں افغان طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کو کامیابی سیتباہ کیا، اس کے علاوہ قندھار میں افغان طالبان کے ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹکس بیس بھی تباہ کر دیے ۔ننگرہار میں بڑا ایمونیشن ڈیپو تباہ کر دیا گیا، ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹیں ہدف بنائی گئی ہیں۔ انگور اڈہ میں ایک اور افغان پوسٹ کو تباہ کر دیا، جبکہ افغان صوبے پکتیکا کی پوسٹ پر بھی قبضہ کر لیا ہے،افغان طالبان پوسٹس چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔جنوبی وزیرستان میں پاک فوج نے کارروائی کر کے افغان طالبان کی داود پوسٹ تباہ کر دی، افغان طالبان کی جانب سے کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کی تمام کوششیں ناکام بنا دی گئیں، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام کواڈ کاپٹرز گرا دیے گئے۔ چترال سیکٹر پر افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، افغان طالبان نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی اور شہری آبادی کو بھی نشانہ بنایا ۔پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے جواب میں ناوگئی سیکٹر، باجوڑ، تیراہ اور خیبر میں بھرپور جواب دیا ہے، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ضلع مہمند اور ارندو سیکٹر چترال میں بھی بھرپور جواب دیا ہے، فورسز نے باجوڑ میں افغان طالبان کی 2 چوکیاں تباہ کر دیں۔ افغان طالبان کی جانب سے فتنہ خوارج اور اس قبیل کی دیگر دہشتگر تنظیموں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی اور فساد فی الارض کا سلسلہ تو پہلے سے ہی جاری تھا جس پر دونوں ملکوں کے درمیان شدید تناو چل رہا تھا لیکن یہ ان کی کھلی جارحیت تھی جس کا انہیں منہ توڑ جواب دیا ۔ پاک فوج کے اس جواب نے یہ بات ثابت کردی کہ لاتوں کے بھوت کبھی باتوں سے ماننے والے نہیں تھے۔ افغان طالبان اس وقت کرائے کی قاتل فورس بنی ہوئی ہے جو خود اور فتنہ خوارج جیسی دہشتگرد تنظیموں کے ذریعے مسلسل پاکستان میں بے گناہ انسانوں کا خون بہا رہے تھے ۔مساجد ، مدارس ، ہسپتالوں ، تعلیمی اداروں سکیورٹی فورسز کی چوکیوں ، پولیو ٹیموں سب پر حملے کررہے تھے کوئی ان کے شر سے محفوظ نہیں تھا۔ اس سارے کھیل کے پیچھے اسرائیل اور ہندوستان کار فرما ہے جس انہیں پیسہ اور اسلحہ فراہم کرتے ہیں۔ افغان طالبان کی اس کھلی جارحیت سے ایک روز قبل تل ابیب میں کھڑے ہو کر نریندرا مودی اورنیتن یاہو نے افغانستان سے یکجہتی کا اظہار کیا اور نام نہاد امارت اسلامیہ افغانستان کے امیر ملا ہیبت اللہ کو اپنا دوست قرار دیا اور اگلے ہی روز انہوں نے اپنے آقاوں کو خوش کرنے اور ان سے ملنے والے پیسے کو "حلال” کرنے کیلئے پاکستان کی خود مختاری پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی جسے افواج پاکستان نے توڑ دیا۔ یہ بات روز روشن کی طرح حقیقت ہیکہ جب سرحد پار سے آنے والی دہشتگردی مسلسل دروازہ کھٹکھٹائے تو ریاست کے لیے خاموش رہنا ممکن نہیں رہتا۔چند روز قبل بھی پاکستان نے افغانستان کے مختلف سرحدی علاقوں میں فضائی کارروائیاں کی تھیں۔ ان کارروائیوں کا ہدف فتنہ خوارج اور داعش کے ٹھکانے تھے،جو پاکستان میں مسلسل حملوں کے ذمہ دار ہیں۔ یہ کارروائیاں اس پس منظر میں ہوئیں جب خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے حملے ،یہ سب محض اعداد و شمار نہیں، یہ ایک اسلامی ریاست پر مسلسل حملوں کی ناپاک جسارت ہے ، یہ گھروں کے چراغ بجھنے کی کہانیاں ہیں، ماوں کی آہوں اور بچوں کی چیخوں کی صدائیں ہیں۔ان حملوں کے ناقابلِ تردید شواہد اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ حملے افغانستان میں موجود د فتنہ خوارج ، داعش اور اس قبیل کی دہشت گرد تنظیموں کی قیادت اور ہینڈلرز کے ایما پر کئے گئے۔ ذمہ داری قبول کرنے والوں میں افغانستان میں موجود فتنہ خوارج ، ان کے اتحادی عناصر اور داعش خراسان شامل ہیں۔
(……جاری ہے)
کالم
افغان طالبان کیخلاف آپریشن غضب لِلحق
- by web desk
- مارچ 11, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 141 Views
- 2 مہینے ago

