بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Wednesday, 26 August 2026 | پاکستان: 15 ر بیع الاول 1448

موجودہ جنگ بندی میں پاکستانی قیادت کا کردار

Monday, 20 April, 2026

تا دم تحریر امریکہ ایران اور لبنان جنگ میں کافی حد تک سیز فائر سننے میں آرہا ہے اور اطلاعات کے مطابق آبنائے حرمز بلکہ ابنائے ایران مکمل طور پر بین الاقوامی تجارت کیلئے کھول دی گئی ہے اور ہماری پاک فوج کی کمانڈ وزیراعظم سمیت ایران کے خیر سگالی اور امن کی بحالی کے ایجنڈے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے بعد اپنے برادر اسلامی ملک ایران سے خانہ کعبہ شریف میں اللہ سے قربت کیلئے پہنچ چکی ہیں ۔ہماری یہ قیادت ایران امریکہ اور لبنان کے مابین کم و بیش 6 ہفتوں سے جاری خون ریز جنگ کے خاتمے کیلئے سرگرم عمل تھی جس کے نتائج دنیا باسانی بہ احسن طریقے سے ما نیٹر بھی کر رہی ہے اور دشمن انگشت بہ دندان بھی ہو چکے ہیں سیز فائر کے بعد دنیا بھر میں متعدد دہائیوں سے ایرانی منجمد اثا ثون کی بحالی ۔ایرانی شرائط کی امریکہ کی طرف سے خوش آئند قبولیت اور جنگ میں لبنان کی شمولیت سمیت دیگر اہم ترین سلگتے ہوئے مسائل کے خاتمے کیلئے امریکی اور اسرائیلی سابقہ روایات کے برعکس بھرپور معاونت کی یقین دہانی ہماری قیادت کی ہی مرہون منت بھی ثابت ہو چکی ہے اور ہماری قیادت کی قابلیت ذہانت۔ ڈپلومیسی اور دور اندیشی کی دنیا گرویدہ ہو کر تعلقات تجارت اور باہمی تعاون پر پاکستان کو امادہ کرنے کیلئے بانہیں پھیلائے کھڑی نظر آرہی ہے یعنی کہ ہماری پاک فوج اور سیاسی قیادت نے بین الاقوامی امن کی بحالی کیلئے باکمال صلاحیتوں کا مظاہرہ کر کے بہترین قیادت کا ثبوت دے دیا ہے ۔اگر غور سے پس منظر میں دیکھا جائے تو تاریخ کے ہر دور میں قیادت کا اصل امتحان یہی رہا ہے کہ وہ ذاتی مفاد وقتی دبا اور قومی ذمہ داری کے درمیان کیا انتخاب کرتی ہے ریاستیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب فیصلہ سازی شخصیات کے گرد نہیں بلکہ قومی مفاد اور ادارہ جاتی تسلسل کے اصول پر استوار ہو پاکستان کے تناظر میں اگر ریاستی استحکام اور نظم و ضبط کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ یہاں ادارہ جاتی ڈھانچہ محض افراد پر نہیں بلکہ ایک مستقل نظام اور قومی مفاد کے تسلسل پر قائم ہے فیصلے وقتی فائدے یا محدود زاویے کے بجائے طویل المدتی استحکام قومی سلامتی اور ریاستی بقا کے تناظر میں کیے جاتے ہیں شمشیر حیدر کرار اولاد علی علیہ السلام فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو اسی تناظر میں ایک ایسی ذمہ دار متوازن اور ادارہ جاتی فکر کی نمائندہ سوچ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس میں فرد نہیں بلکہ ادارہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے اس طرز قیادت میں اصل زور اس بات پر ہے کہ ریاستی فیصلے جذبات دبا یا ذاتی ترجیحات کے بجائے مکمل پیشہ ورانہ آئینی اور قومی مفاد کے مطابق ہوں یہی وہ سوچ ہے جو قیادت کو شخصیات سے بلند کر کے ریاستی نظام کے تسلسل سے جوڑتی ہے ہمارے ملک پاکستان میں جہاں چیلنجز پیچیدہ متنوع اور مسلسل نوعیت کے ہیں وہاں فیصلہ سازی میں تسلسل توازن اور ادارہ جاتی نظم ناگزیر ہو جاتا ہے یہی عوامل ریاست کو غیر یقینی صورتحال سے نکال کر استحکام کی طرف لے جاتے ہیں اور اسے داخلی و خارجی دباؤ کے باوجود قائم رکھتے ہیں اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ آج اگر پاکستان میں ریاستی نظام قائم زندگی معمول کے مطابق رواں اور عوام اپنے روزمرہ امور میں اطمینان کے ساتھ مصروف ہیں تو اس کے پیچھے ایک طویل خاموش اور مسلسل قربانیوں کی داستان موجود ہے، یہ وہ داستان ہے جو پاک افواج کے ان جوانوں نے لکھی ہے جو سرحدوں پر جاگ کر قوم کو سکون فراہم کرتے ہیں جو نامعلوم اور دشوار محاذوں پر اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر آنے والی نسلوں کے لیے امن کی فضا قائم رکھتے ہیں ریاستی ڈھانچے کی بقا اور معاشرتی تسلسل اسی ایثار اور قربانی کی مرہون منت ہے ،یہ ایک اجتماعی سچائی ہے کہ قومیں صرف وسائل یا نعروں سے نہیں بلکہ قربانی نظم اور شعور سے زندہ رہتی ہیں جب تک کسی ریاست کے محافظ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس کی سرحدوں کو محفوظ رکھتے ہیں تب تک اندرون ملک زندگی استحکام کے ساتھ آگے بڑھتی رہتی ہے یہ سکون کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ان لمحوں کی امانت ہے جو خاموشی سے قربانی میں ڈھل گئے اور اسی کیساتھ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ ریاست کی پائیداری صرف ایک طبقے کی قربانیوں پر نہیں بلکہ پورے معاشرے کے شعور ذمہ داری اور یکجہتی پر قائم رہتی ہے جب محافظ اور قوم ایک ہی احساس ذمہ داری میں جڑ جائیں تو ریاستیں صرف قائم نہیں رہتیں بلکہ مضبوط ہو کر آگے بڑھتی ہیں اور یہی پاکستان کی اصل طاقت ہے کہ یہاں قربانی کا جذبہ ایک محدود دائرے میں نہیں بلکہ ایک قومی شعور کی صورت میں موجود ہے پوری قوم اپنی پاک افواج اور ساتھ ہیں یہ تعلق الحمدللہ وقت کیسا تھ سا تھ مزید گہرا اور مضبوط بھی ہوتا جا رہا ہے۔اور یہ یگانگت اتحاد خلوص اعتماد اور احترام جس طرح اس وقت بین الاقوامی امن کی بحالی کے لیے اللہ کریم کی طرف سے پاکستان کے حصے میں ایا ہے انشااللہ اگر یہ تسلسل برقرار رکھا گیا تو کوئی عجب نہیں کہ مستقبل میں بھی پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک ذہین باکمال باصلاحیت باوقار اور انتہائی مخلص ملک کے طور پر ہر ایک ملک کیلئے دنیا بھر میں باعث تقلید بن سکتا ہے ۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *