صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 27 اکتوبر 2022 ء کو کشمیر پر یوم ِ سیاہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج بھارتی زیر تسلط جموں و کشمیر پر ہندوستان کے غیر قانونی قبضے کے75 سال مکمل ہو چکے ہیں ہم گزشتہ ساڑھے سات دہائیوں سے بھارتی قابض افواج کے جاری مظالم کی مذمت کرنے اور حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی قربانیوں کو یاد کرنےکیلئے آج کے دن یوم سیاہ مناتے ہیں اس دن پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی آزادی کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتی ہے بے گناہ کشمیری مردوں، عورتوں اور بچوں کی کئی نسلوں نے بھارتی بربریت، خونریزی اور تشدد کے سوا کچھ نہیں دیکھا مقبوضہ جموں و کشمیر بھارتی فوجی محاصرے میں ہے اور اس میں مقبوضہ خطے کے لوگوں کی بنیادی آزادیوں پر سخت پابندیوں کی وجہ سے مزید شدت آئی ہے 5 اگست 2019 ء کے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات سے گزشتہ تین سالوں میں صورتحال مزید خراب ہوئی ہے ان اقدامات کی مدد سے بھارتی آئین کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا گیا ہے بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں ریاست جموں و کشمیر کی تقدیر کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کے تحت ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کی مدد سے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی کیا جائے گا آج جموں و کشمیر آزادی اظہار پر پابندیوں اور محکوم بنانے کی دیگر کاروائیوں کی زد میں ہے 5 اگست 2019 ء سے اب تک بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں 690 سے زائد بے گناہ کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل ہو چکے ہیں پچھلی سات دہائیوں سے جموں و کشمیر کا تنازع زبردست مشکلات کے خلاف امید، خوف کے خلاف ہمت اور ظلم کے خلاف قربانی کی جنگ کی علامت بنا ہوا ہے ہمارے کشمیری بھائیوں اور بہنوں نے ظلم و ستم کی بدترین صورتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مثالی ہمت اور برداشت کا مظاہرہ کیا ہے ہم ان ہزاروں کشمیریوں کے خون کی قدر کرتے ہیں کہ جنہوں نے بھارت کے ناجائز قبضے سے آزادی کے حصول کیلئے کئی دہائیوں تک اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا پاکستان ہر عالمی فورم پر تنازعہ جموں و کشمیر کے حل کیلئے اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے حق میں ہمیشہ آواز اٹھاتا رہے گا پاکستان، بھارتی حکومت کے 5 اگست 2019 ء کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتا ہے پاکستان عالمی برادری سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے بھارت کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے عملی اقدامات کرے عالمی برادری سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کے منصفانہ اور پرامن حل کیلئے اپنا کردار ادا کرے





