بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Friday, 12 June 2026 | پاکستان: 28 ذوالحجۃ 1447

ماہ صےام مےں غذاﺅں اور دواﺅں مےں ملاوٹ

Monday, 17 April, 2023

نا معلوم ابھی ہم نے مزےد اخلاقی گراوٹ اور انحطاط کی عمےق کھائےوں مےں گرنا ہے ۔ہماری اخلاقی تباہی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ معاشرے مےں ملاوٹ ،ذخےرہ اندوزی ،گراوٹ جےسے جرائم اتنی دےدہ دلےری سے ہو رہے ہےں کہ انسانی اخلاقی اقدار دم توڑتی نظر آتی ہےں اور کوئی قانون و ضابطہ دکھائی نہےں دےتا جو بڑھ کر اےسے ہاتھوں کو کاٹ دے جو ےہ مذموم دھندہ کر رہے ہےں ۔حےوان بھی اپنی نسل کی بقا کو ملحوظ رکھتے ہےں اور اپنی نسل کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہےں کرتے ۔حرص عقل پر پردہ ڈال دےتی ہے ۔انہی دنوں روز نامہ پاکستان سے ڈےرہ اسماعےل خان کے بےورو کی خبر شائع ہوئی کہ رمضان المبارک مےں ڈےرہ شہر اور گردونواح مےں ناقص دودھ کی فروخت جاری ہے ۔دودھ دہی مےں ملاوٹ کی وجہ سے شہری مختلف امراض مےں مبتلا ہو رہے ہےں جس سے شہری سخت ذہنی اذےت کا شکار ہےں ۔عوامی حلقوں نے نگران وزےر اعلیٰ اور ڈی جی خےبر پختونخواہ فوڈ اتھارٹی سے نوٹس لےنے کا مطالبہ کےا ہے ۔مختلف شہروں سے رمضان المبارک مےں جعلی شربت تےار کرنے والی کمپنےوں کو بھی پکڑے جانے کی خبرےں شائع ہوئےں ۔ماضی مےں ماہ رمضان المبارک مےں ہی شےخوپورہ،گوجرانوالہ اور مرےد کے مےں جعلی اور غےر رجسٹرڈ ہربل شربت تےار کرنے کی خبرےں گونجتی رہےں جن کا حصہ ہربل سٹور مالکان بھی بن گئے ۔ہربل اور سٹور مالکان نے بھی سندےں کراےہ پر حاصل کرنا شروع کر رکھی ہےں ۔شےخوپورہ تھانہ صدر مرےد کے مےں پولےس نے چھاپہ مار کر اےک نجی فےکٹری مےں جعلی شربت تےار کرنے والے افراد کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے اےک ہزار جعلی شربت کی بوتلےں برآمد کر کے آلات بھی برآمد کئے ۔اطلاع کے مطابق راوی رےان مےں موت کا سوداگر شےخ سہےل احمد عرصہ دراز سے سٹےرائےڈ کی آمےزش سے اےک خاص شربت تےار کر کے اپنی تجوری کو بھرنے کےلئے کام کر رہا تھا ۔آج بھی کئی نےم حکےموں کی دکانوں سے اےسے خود ساختہ تےار شربت مرےضوں کو مل رہے ہےں ۔ےاد رہے کہ مغربی ممالک نے سٹےرائےڈ پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس کے استعمال سے انسانی گردے ناکارہ اور جسم پھول جاتا ہے ۔ جوڑوں مےں ورم سے درد کی شکاےت پےدا ہو جاتی ہے لےکن ہمارے ہاں نےم حکےم ہر پڑی مےں اس کی ٹےبلٹ ڈال دےتے ہےں اور ہر مرےض کو جسمانی کمزوری دور کرنے کےلئے بوتل لگوانے کی تجوےز دےتے ہےں اور اس مےں عارضی توانائی کے حصول کےلئے سٹےرائےڈ کا انجکشن ڈسکا ڈال دےتے ہےں۔معزز قارئےن راقم کے ملنے والے اےک ڈاکٹر صاحب رورل ہےلتھ سنٹر کے انچارج تھے ۔انہوں نے ڈےوٹی ٹائم کے بعدپرائےوےٹ مےڈےکل پرےکٹس کےلئے قصبہ مےں اپنا کلےنک رکھا ۔اےک دن راقم انہےں ملنے کےلئے ان کے پرائےوےٹ کلےنک پر گےا تو ملاحظہ کےا ان کے کلےنک پر صرف آٹھ دس مرےض بغرض چےک اپ آئے ۔اسی قصبے مےں اےک عطائی کا بھی کلےنک تھا جہاں مرےضوں کا بہت زےادہ رش تھا ۔مےرے استفسار پر ڈاکٹر صاحب نے بتاےا کہ وہاں مرےضوں کے ہجوم کی وجہ وقتی رےلےف کےلئے سٹےرائےڈ کا بے درےغ استعمال ہے اور وہ مرےض کےلئے تےار کردہ ہر خوراک کی پڑےا مےں سٹےرائےڈ کی ٹےبلٹ ضرور ڈالتا ہے لےکن مجھے اس کے نقصان کا اندازہ ہے مےں اس سے اجتناب کرتا ہوں ۔سابقہ رمضان مےں اےک رونگٹے کھڑے کر دےنے والی خبر ملی کہ فےصل آباد مےں چےنی مےں شےشہ پےس کر ملاےا جاتا ہے اس انکشاف سے عوام مےں بہت تشوےش پےدا ہوئی اور ڈاکٹروں نے اسے جسمانی جسم کےلئے خطرناک قرار دےا ۔ڈاکٹروں کے مطابق شےشہ انسانی جسم مےں جا کر معدہ اور جگر کاٹنے کا باعث بنتا ہے ۔معزز قارئےن وطن عزےز مےں ےوں تو کوئی شعبہ اےسا نہےں بچا جو ملاوٹ اور کرپشن سے پاک ہو ۔ہم آلودگی سے بچنے کےلئے رےسرچ کراتے ہےں لےکن ےہ فشار ،غبار اور آلودگی کےسی ہے ۔ےہ ہماری اپنی پےدا کردہ ہے ۔ہم اپنے آپ کو اپنے ہی ہاتھوں قتل کر رہے ہےں ،جہاں خود کشی جےسے اقدام کی ضرورت ہی نہےں رہتی ۔رمضان کا مہےنہ تو اپنے جلو مےں رحمتےں ،برکتےں اور مغفرتےں لاتا ہے ۔کہنے کو تو ہم مسلمان ہےں اور مسلمان کے ہاتھ ، زبان اور افعال سے دوسرے مسلمان محفوظ رہتے ہےں لےکن ہمارا کردار عجےب ہے ہم خصوصاً اس مہےنہ مےں ملاوٹ جےسے انسانےت سوز دھندے سے باز نہےں آتے اور ساتھ چےزوں کے نرخ بھی بڑھا دےتے ہےں ۔ہادی برحق حضرت محمد کا تو فرمان ہے کہ خرےد و فروخت مےں دھوکے اور فرےب سے باز رہو ۔اےک جگہ فرماےا کہ جو مسلمان کسی مسلمان کو دھوکہ دے وہ ہم مےں سے نہےں ۔آپ نے زےنب عطارہ حوالاءسے ارشاد فرماےا کہ جب تم فروخت کرو ،دھوکہ اور فرےب نہ کرو اس لئے کہ اس مےں پاکےزگی اور مال کی بقا ءہے ۔نےز آپ نے فرماےا جو شخص مسلمانوں کے ساتھ ملاوٹ ،دھوکہ اور فرےب کرے گا اس کا حشر قےامت کے دن ےہودےوں کے ساتھ ہو گا ،اس لئے کہ ےہ سب سے زےادہ دھوکہ اور فرےب دےنے والے ہےں ۔ہمارے وطن اسلامی جمہورےہ مےں ان جعلسازوں کو نہ خدا کا خوف ہے اور نہ ہی انسانےت سے محبت ۔ان کا مطمع نظراور مقصد اصلی صرف ناجائز دولت کا حصول ہی ہے ۔ضمےر نام کی کسی جنس سے ےہ آشنا ہی نہےں اگر ہےں بھی تو ےہ کب کی مر چکی ہے ۔ملاوٹ بہت بڑا جرم ہے جو غذا کھا کر زندہ رہا جاتا ہے اس مےں ملاوٹ کرنا اور شےشے جےسی خطرناک چےز ملانا انسانےت کا قتل ہے ۔جو دوائےں زندگی کی بقا ءکےلئے ضروری ہےں اور دم توڑتے ہوئے انسانوں کی سانسوں کو بحال کرنے مےں ممد و معاون ہےں ےعنی لائف سےونگ ڈرگز انہےں جعلی لےبل لگا کر فروخت کرنا انسانےت سے کھےلنا ہے ۔زمانہ ماضی مےں تو ہر چےز کے دو نمبر ہوا کرتے تھے ےعنی اےک نمبر اور دو نمبر لےکن شومئی قسمت کہ اب نمبروں کی تعداد مےں اضافہ ہو چکا ہے ۔وطن عزےز مےں کوئی بھی چےز اصلی نہےں ملتی ۔دودھ مےں پانی ملاےا جاتا ہے ،آٹے مےں پرانی روٹےوں کے ٹکڑے اور نہ جانے کےا کےا پسا جاتا ہے ۔غرض مرچےں نقلی ،ہلدی جعلی ،نمک ملاوٹ شدہ ،شربت نخالص،دام صرف اصلی ہےں باقی ہر شے نقلی ۔ غرےب جو سانس کا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہےں ۔معلوم نہےں ےہ کسی کی دعا کا اثر ہے ےا غرےب اتنے سخت جان ہےں کہ وہ اےسی ملاوٹوں کو برداشت کر لےتے ہےں ۔انتہائی مہنگائی کے کارن بھی عوام ناقص ،غےر معےاری اور گھٹےا خوراک کھانے پر مجبور ہو رہے ہےں ۔جو لوگ ےہ مکروہ دھندہ کرتے ہےں ان کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہےں اور قانون بے بس جو ،ان کو پکڑنے کی کوشش ہی نہےں کر سکتا ۔انکو انسانےت کے قتل کی کھلے عام اجازت ہوتی ہے ۔ےہ انسانےت کے دشمن راتوں رات امےر بننے کےلئے ملاوٹ جےسا مکروہ کاروبار کرتے ۔ےہ انسانےت کے چہرہ پر بد نما داغ تاجر جن کی بہت بڑی تعداد اس دھندے سے وابستہ ہے ان کے پلازے ،کوٹھےاں ،لمبی گاڑےاں اور دولت کے انبار اس نفع بخش کاروبار کی بدولت ہی ہےں ۔اگر ےہ اصلی چےزےں بےچےں تو راتوں رات امےر نہےں بن سکتے ۔مشاہدے مےں ےہ چےز بھی آئی ہے کہ دوا ساز کمپنےاں اشتہارات پر کروڑوں روپے خرچ کر کے غےر معےاری ادوےات بےچ رہی ہےں جن مےں ہر بےماری کا سو فےصد علاج ہوتا ہے ۔غرےب اور ان پڑھ لوگ ان کا آسان شکار ہوتے ہےں ۔تمام ادوےات والی کمپنےوں کو حکومت کی طرف سے چےک ہونا چاہےے اور ان اشتہارات کی عبارت کے سلسلے مےں وزارت صحت سے سرٹےفےکےٹ کا حصول لازمی قرار دےا جائے تا کہ اشتہاروں کی بنےاد پر دوائےاں خرےد کر لوگ اپنی صحت خطرے مےں نہ ڈالےں ۔جب کسی کا منشا ءو مقصد ہی دولت کا حصول ہو تو حےوانی جبلت اور جذبہ عود کر آتا ہے اور اسے اس کی پرواہ نہےں ہوتی کہ اس سے کےا نقصان ہو گا ۔زےاں کے احساس کی حس ختم ہو جائے گی اور وہ مسلسل انسانےت کو روندتا چلا جائے گا ۔ےہ بھی مشاہدے مےں آےا ہے اور ماضی مےں حکومت نے اس مسئلے پر چھان بےن بھی شروع کی تھی کہ کچھ بڑے ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے غےر قانونی طور پر ادوےہ ساز کمپنےاں بنا رکھی ہےں اور اےسی شکاےات بھی تھےں کہ وہ مرےضوں کو اپنی تےار کردہ ادوےات کے استعمال پر مجبور کرتے ہےں ۔حکومت اور متعلقہ محکموں کو مشروبات اور اشےائے خوردونوش مےں ملاوٹ کرنے والوں کےخلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے انہےں سخت ترےن سزائےں دےنی چاہئیں۔اس بات کا خےال رکھنا حکومت کا کام ہے کہ پرائےوےٹ اور سرکاری سےکٹر مےں تےار ہونے والی کھانے پےنے اور دےگر استعمال کی چےزےں خالص ہےں ےا نہےں لےکن افسوس کہ سابقہ تجربہ ےہ بتاتا ہے کہ اس طرف بہت کم توجہ دی جاتی ہے ۔

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں