بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Friday, 12 June 2026 | پاکستان: 28 ذوالحجۃ 1447

وفاقی بجٹ2023-24 منظوری

Saturday, 1 July, 2023

قومی اسمبلی اور سینٹ نے آئی ایم ایف کی سخت شرائط مانتے ہوئے چودہ ہزار 480 ارب روپے کا وفاقی بجٹ منظور کر لیا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوے اختتامی خطاب کیا اور بتایا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر دو سو پندرہ ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے خسارہ تین سو ارب روپے ہو جائے گا اور حکومت کو پچاسی ارب روپے کی بچت ہو گی۔ پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی ساٹھ روپے کر دیا ہے ۔ چوبیس لاکھ سالانہ آمدن پر انکم ٹیکس بڑھا دیاہے سپرٹیکس کے سلیبز میں اضافہ کر دیاہے ۔ گریڈ سترہ سے بائیس کی ڈبل پنشن ختم کر دی گئی ہے ۔ ڈبل پنشن ختم کرنا پنشنرز کے ساتھ بہت بڑی نا انصافی ہے حکومت جانتی ہے کہ پنشنرز کا کوئی فورم نہیں ہے اور وہ سرکاری ملازمین کی طرح احتجاج کے لئے سڑکوں پر بھی نہیں نکل سکتے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت اس فیصلے کو واپس لے۔ ایف بی آر کے ٹیکس محاصل کا ہدف بانوے سو ارب روپے سے بڑھا کر چرانوے سو پندرہ ارب روپے کر دیاہے۔ ملک بھر میں صنعتیں بند ہو رہی ہیں معاشی حالات ٹھیک نہیں ہیں بیرونی سرمایہ کاری نہیں آرہی اس لئے ایف بی آر یہ غیر حقیقی ٹارگٹس حاصل نہیں کر پائے گا کیونکہ گزشتہ سال اس سے کم ٹارگٹس بھی حاصل نہیں کئے جا سکے تھے۔ کھاد میٹھے مشروبات پر ایکسائز ڈیوٹی اور پراپرٹی کی خریدو فروخت پر ٹیکس میں اضافہ کر دیاہے۔ بیرون ملک سے ایک لاکھ ڈالر بھیجنے پر ٹیکس ایمنسٹی اسکیم ختم کر دی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ممبران اور تاجر تنظیموں کی طرف سے پیش کی جانے والی کچھ ترامیم کو بجٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے بجٹ اجلاس کے دوران بحث میں حصہ لینے پر ممبران پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے درآمدا ت پر لگائی جانے والی پابندی ختم کردی ہے اور اسٹیٹ بینک نے نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے ۔ برآمدات کے فروغ کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں تا کہ زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پینشن میں اضافہ کیا ۔پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں ۔ حکومت کو چاہے کہ پنشنرز کی پنشن میں بھی 35فیصد اضافہ کرے اس کے علاوہ پنشنرز کے میڈیکل الاﺅنس میں بھی اضافہ کرنا چاہیے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ تین سو ساٹھ ارب روپے سے بڑھا کر چار سو چھیاسٹھ ارب روپے کر دیا ۔ عوام کو سستی اشیا کی فراہمی کے لئے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے لئے دس ارب روپے مختص کئے ہیں ۔ رمضان پیکج کے لئے بھی رقم رکھی گی ہے۔ گاﺅں کی سطح پر روزگار کی فراہمی کے لئے ایگرو بیسڈ انڈسٹری لگانے اور لیب ٹاپ اسکیم جاری ر کھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نان فائلرز کے بینک سے پچیس ہزار روپے سے زیادہ رقم نکلوانے پر زیرو اعشاریہ چھ فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی اچھا اقدام ہے جس سے فائلرز کی تعداد میں اضافے سے ریونیو بڑھے گا۔ ہمیں اس بجٹ میں ملک بھر میں بند ہونے والی انڈسٹری کی بحالی کے سلسلے میں ٹھوس اقدامات نظر نہیں آئے۔ وزیر خزانہ کو اس سلسلے میں بھی سپورٹ پروگرام کا اعلان کرنا چاہیے۔ وزیر خزانہ اور وزیڑاعظم شہباز شریف کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں آئی ایم ایف حکام نویں جائزے کی ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر قرضے کی قسط جاری کرنے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔پیرس میں مالیاتی فنڈ کی ایم ڈی سے وزیراعظم کی ملاقات میں معیشت کی بحالی کے لئے اٹھائے جانے والے حکومتی اقدامات کی تعریف کی گئی۔ آئی ایم ایف نے تقریبا ًتمام سبسڈیز ختم کروا دی ہیں اور ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھی ہے کہ حکومت کچھ رقم کا انتظام دیگر ذرائع سے کر ے امید ہے کہ چین سعودی عرب یو اے ای اور بحرین سے اس رقم کا انتظام ہو جائے گا۔ اس وقت ہماری معیشت اتنی خراب ہے کہ مالیاتی فنڈ کے قرضے کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں