بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Friday, 12 June 2026 | پاکستان: 28 ذوالحجۃ 1447

عالمی فنڈ کے ساتھ سٹاف لیول سٹینڈ بائی معاہدہ

Saturday, 1 July, 2023

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے مابین تین بلین ڈالر کا سٹاف لیول کا سٹینڈ بائی معاہدہ طے پا گیا ہے تاہم آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے ابھی اس معاہدے کی منظوری ہونی باقی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ کی طرف سے اس معاہدے کی منظوری جولائی کے وسط میں دیے جانے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق سٹینڈ بائی معاہدہ پاکستان کو حالیہ بیرونی دباو ¿ کی شکار معیشت کو استحکام کی طرف لے جانے میں مدد دے گا۔پاکستان کے معاشی حالات کے تناظر میں آئی ایم ایف کے پروگرام سٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کے تحت منظوری دی گئی ہے۔آئی ایم ایف کی ویب سائٹ کے مطابق سٹینڈ بائی ارینجمنٹ سے مراد ہے کہ قلیل مدتی فنانسنگ کے ذریعے کسی ملک کی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات پوری کی جائیں۔ ایسے میں کم آمدنی والے ممالک کی اسی صورت میں مدد کی جاتی ہے اگر وہ ان مشکلات کو دور کریں جن کی بدولت انھیں فنڈنگ کی ضرورت پیش آئی تھی۔ اس قسم کی فنانسنگ کی مدت 12 سے 24 ماہ تک ہوسکتی ہے مگر پاکستان کے ساتھ یہ معاملہ 9 ماہ کا طے ہوا ہے ۔پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے گذشتہ چند دنوں میں چند اقدامات اٹھائے گئے۔بجٹ میں اضافی ٹیکس جمع کرنے کے فیصلوں کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے آئی ایم ایف کے اعلی حکام سے رابطے بھی کیے گئے تھے۔ دوسی طرف آئی ایم ایف کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس معاہدے کے لیے پیشگی شرائط پر عملدرآمد کر چکا ہے۔ مشن نے اس حوالے سے ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھانے اور بجٹ کی منظوری کی مثالیں بھی دی ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستان سے افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات اٹھانے پر بھی زور دیا ہے تا کہ عام آدمی پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ مشن نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو متعدد جھٹکے لگے ہیں جس میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات نمایاں ہیں۔آئی ایم ایف نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ اب پاکستان مختلف دیگر فورمز سے بھی قرضے حاصل کر سکے گا جس سے اسے معاشی استحکام کی طرف بڑھنے میں مدد مل سکے گی۔اس پیش رفت پر حکومت نے سکھ کا سانس لیا ہے ،اس ضمن میںوزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہونا کوئی لمحہ فخریہ نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے، قوم دعا کرے کہ یہ آخری مرتبہ ہو کہ پاکستان قرض لے رہا ہو اور اس کے بعد خدا کرے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔خدا کرے ایسا ہی ہو مگر معیشت کا جو بھرکس ان چودہ ماہ میں نکلا ہے،اس میں کوئی معجزہ ہو تو ہو،ورنہ آئی ایم ایف سے جان چھڑانا ناممکن ہو چکا ہے خصوصاً اس بار جو اس نے ناک سے لکیریں لگوائی ہیں اس کا اعتراف گاہے گاہے پی ایم صاحب خود کرتے آئے ہیں۔لاہور میں وزیر خزانہ اسحق ڈار و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کئی ہفتوں سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ہونے والی بات چیت انتہائی مثبت نتیجے پر پہنچی ہے۔کافی عرصے سے شدید مالیاتی اور اقتصادی مشکلات کے شکار ملک پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین یہ معاہدہ سٹاف لیول کا ایک انتظامی اتفاق رائے ہے، جس کی مالیت تین بلین ڈالر اور جس کی مدت نو ماہ ہے۔ اس اتفاق رائے کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی طرف سے کہا گیا کہ یہ ایس بی اے معاہدہ پاکستان کےساتھ 2019 میں طے پانے والی مالی وسائل کی فراہمی کی اس توسیع شدہ سہولت یا ای ایف ایف کا متبادل ہے، جس کی مدت 30جون کے روز پوری ہو گئی ہے۔یہ معاہدہ فی الحال فریقین کے مابین ایک سٹاف لیول معاہدہ ہے، جس کی حتمی منظوری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا انتظامی بورڈ جولائی کے وسط میں دے گا۔دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے خاص طور پر ملک میں بجلی کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کو اس شعبے کے نرخوں میں اس طرح بروقت اصلاحات لانا ہوں گی، جن کی مدد سے کم از کم بجلی کی پیداوار پر اٹھنے والے اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ حکومت کو بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ کرنا ہو گا، وہ بھی ان حالات میں کہ جب ملک میں افراط زر کی شرح پہلے ہی ریکارڈ حد تک زیادہ ہے اور یہ سال اصولی طور پر پاکستان میں عام انتخابات کا سال بھی ہے۔اس لئے پاکستانی مرکزی بینک کو بیرونی ادائیگیوں کو کنٹرول میں رکھنے اور زر مبادلہ کے ذخائر کے مسلسل بہت کم ہونے کی وجہ سے عائد کردہ درآمدات پر پابندیوں میں نرمی کرنا ہو گی، تاکہ یوں بہت کم رفتار ہو جانے والی اقتصادی ترقی میں اضافہ کیا جا سکے۔ پاکستان کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر کی موجودہ مالیت محض 3.5 بلین ڈالر بنتی ہے، جو صرف ایک ماہ تک کی ملکی درآمدات کی ادائیگیوں کے لیے کافی ہوں گے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ملک میں افراط زر کی شرح میں کمی کے لیے تندہی سے جامع اور موثر اقدامات کرے۔پاکستانی مرکزی بینک آئی ایم ایف کے مطالبات پر پالیسی ریٹ کہلانے والی اپنی مرکزی شرح سود پہلے ہی 22 فیصد کر چکا ہے۔ ریاستی انتظام میں کام کرنے والے پاکستانی اداروں کی وجہ سے حکومت کو ہونے والا مالی خسارہ مسلسل بہت زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس میں کمی کے لیے حکومت کو زیادہ بہتر اور سخت گورننس کرنا ہو گی۔ آئی ایم ایف کا یہ نیا بیل آو ¿ٹ اگرچہ توقع سے بڑا ہے، تاہم اس معاہدے میں پاکستانی حکومت پر یہ زور بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنے لیے زیادہ سے زیادہ مالی وسائل کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اور زیادہ دوطرفہ اور کثیرالفریقی کوششیں کرے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو تین بلین ڈالر مہیا کرنے کے وعدے کر رکھے ہیں اور ان رقوم کی عملی ترسیل اب اس لیے متوقع ہے کہ اسلام آباد اور آئی ایم ایف کے مابین ڈیل طے پا گئی ہے۔ اس کے علاوہ چین کی طرف سے بھی، جو پاکستان کو قرضے دینے والا سب سے بڑا ملک ہے، قرضوں میں رول اوورکلیدی اہمیت کا حامل ہو گا۔ پاکستان کو اپنے ذمے بین الاقوامی قرضوں کی سروس اور دیگر غیر ملکی ادائیگیوں کے لیے مجموعی طور پر 22 بلین ڈالر درکار ہیں۔یہ رقوم مالی سال 2024 میں درکار ہوں گی، جو کل ہفتہ یکم جولائی سے شروع ہو کر 30 جون 2024 کو اپنے اختتام کو پہنچے گا۔
عوام کو کب ریلیف ملے گا؟
عالمی فنڈ کے ساتھ ایک عارضی ریلیف کے بعد حکومت تو خوش دکھائی دیتی ہے لیکن عوام کو کب ریلیف ملے گا یا اس کے چہرے پر طمانیت کے آثار کب نمودار ہو ں گے،اس کے دور دور تک آثار دکھائی نہیں دیتے،کیوںکہ ایک طرف آئی ایم ایف نے اعلان کیا تو دوسری طرف حکومت نے عوام پر ڈیزل کی قیمتوں میںاضافے کا اعلان کر کے قہر ڈھا دیا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے آئندہ پندرہ روز کے لیے ڈیزل کی قیمت میں ساڑھے سات روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔وزیر خزانہ نے وہی روایتی جواز تراشتے ہوئے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں گزشتہ چند روز کے دوران ڈیزل کی قیمتوں میں ساڑھے تین ڈالر کا اضافہ اوگرا نے رپورٹ کیا ہے، اسی طرح سے پیٹرول کی قیمت میں بھی رجحان اوپر کا ہے۔اسحق ڈار نے کہا کہ اوگرا نے پوری کوشش کی کہ حکومت اور وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق جتنی کم از کم قیمت میں اضافہ کرسکیں وہی کریں ،اس لئے ڈیزل کی قیمت میں چونکہ کافی زیادہ اضافہ ہوا، اس لیے انہوں نے حکومت کو کہا ہے کہ اسے ڈیزل کی قیمت میں کم از کم ساڑھے سات روپے اضافہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت کی ہر مہینے بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ عوام کے لیے زیادہ سے زیادہ ریلیف بین الاقوامی مارکیٹ کی بنیاد پر پاس کی جائے۔

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں