بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Friday, 12 June 2026 | پاکستان: 27 ذوالحجۃ 1447

سائفرپروپیگنڈابے نقاب

Thursday, 20 July, 2023

سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے اسلام آباد کی مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں دفعہ164کے مطابق بیان دیتے ہوئے اعتراف کیاکہ سائفرخط کی کہانی سراسر جھوٹ پرمبنی ہے اوراسے سیاسی مقاصد کےلئے استعمال کیاگیااوراس کامقصدتحریک عدم اعتماد سے بچناتھا۔یہ بیان انہو ں نے وعدہ معاف گواہ بننے کے بعددیاہے۔عدالت میں دیئے گئے بیان کے مطابق ،اعظم خان نے 164 کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرایا ، 164 کے بیان میں چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف چارج شیٹ پیش کر دی گئی، اعظم خان نے سائفر کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیدیا اور کہا کہ سائفر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا، سائفر کا ڈرامہ سیاسی مقاصد کیلئے رچایا گیا،اعظم خان نے کہا کہ عمران خان نے تمام تر حقائق کو چھپا کر سائفر کا جھوٹا اور بے بنیاد بیانیہ بنایا،تحریک عدم اعتماد سے بچنے کےلئے سائفر کو بیرونی سازش کا رنگ دیا۔ سائفر کو غلط رنگ دے کر عوام کا بیانیہ بدل دوں گا،عمران خان نے9 مارچ کومجھ سے سائفر لے لیا اور بعد میں واپس مانگنے پر کہا کہ وہ سائفر گم گیا ہے،عمران خان نے سائفر ڈرامہ کے ذریعے عوام میں ملکی سلامتی اداروں کے خلاف نفرت کا بیج بویا،منع کرنے کے باوجود ، ایک سیکرٹ مراسلہ کو عوام میں ذاتی مفاد کےلئے لہرایا،سائفر کو ملکی سلامتی اداروں اور امریکہ کی ملی بھگت کا جان بوجھ غلط دیا گیا،سائفر ڈرامہ صرف اور صرف اپنی حکومت بچانے کےلئے رچایا۔اعظم خان کے بیان کے اہم نکات کے مطابق آٹھ مارچ 2022 کو سیکرٹری خارجہ نے محمد اعظم خان سے رابطہ کیا اور سائفر کے حوالے سے آگاہ کیا جسے اسی شام ان کی رہائش گاہ پر روانہ کر دیا گیا۔ سیکرٹری خارجہ نے انہیں بتایا کہ وزیر خارجہ قریشی پہلے ہی عمران کے ساتھ سائفر پر بات کر چکے ہیں جس کی تصدیق عمران خان نے اگلے روز اس وقت کی جب محمد اعظم خان نے انہیں سائفر پیش کیا۔ سائفر کو دیکھ کر عمران خان نے خوشی کا اظہار کیا اور اس زبان کو US بلنڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کے خلاف بیانیہ تیار کرنے کے لیے سائفر کو استعمال کیا جا سکتا ہے،عمران خان نے محمد اعظم خان کو یہ بھی بتایا کہ اپوزیشن کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک میں غیر ملکی شمولیت کی طرف عام لوگوں کی توجہ دلانے کے لیے سائفر کا استعمال کیا جا سکتا ہے، اس کے بعد عمران خان نے محمد اعظم خان سے سائفر ان کے حوالے کرنے کو کہا، جو انہوں نے کر دیا، جب انہوں نے اسے مانگا تو عمران خان نے جواب دیا کہ ان سے گم ہو گیا ہے ، محمد اعظم خان نے اعتراف کیا کہ عمران خان نے ان سے کہا تھا کہ وہ اسے عوام کے سامنے پیش کریں گے اور اس بیانیے کو توڑ مروڑکر پیش کریں گے کہ مقامی شراکت داروں کی ملی بھگت سے غیر ملکی سازش رچائی جا رہی ہے۔اس پر محمد اعظم خان نے مشورہ دیا کہ سائفر ایک خفیہ کوڈڈ دستاویز ہے: اور اس کے مواد کو ظاہر نہیں کیا جا سکتا اور اس کے بعد وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ سے باضابطہ ملاقات کی تجویز دی جہاں وہ MOFA کی کاپی سے سائفر پڑھ سکتے ہیں اور میٹنگ کے منٹس سے مزید فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ 28مارچ 2022 کو اجلاس بنی گالہ میں منعقد ہوا، جہاں سیکرٹری خارجہ نے وزارت خارجہ کی ماسٹر کاپی کا سائفر پڑھ کر سنایا اور اجلاس کے تمام مباحث اور فیصلوں پر غور کیا گیا اور اس معاملے کو وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، 30 مارچ 2022 کو کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جہاں وزارت خارجہ کے نمائندے نے دوبارہ سائفر پڑھا اور کابینہ کو بریفنگ دی۔ اس پر بھی منٹ ہو گئے۔ اس معاملے کو قومی سلامتی کمیٹی میں اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا، مارچ 2022 کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جہاں مذکورہ بالا عمل کو دوبارہ دہرایا گیا اور قومی سلامتی ڈویڑن کی طرف سے اس پر غور کیا گیا، محمد اعظم خان کے مطابق وزارت خارجہ سے موصول ہونے والے تمام سائفرز جے JS FSA کو واپس کردیئے گئے ہیں، تاہم، جب تک وہ پرنسپل سیکرٹری تھے، وزیراعظم عمران خان کا کھویا ہوا سائفر واپس نہیں کیا گیا۔ کیونکہ عمران خان نے اسے کھو دیا تھا اور بار بار کہنے کے باوجود واپس نہیں کیا۔ سائفر وآڈیو لیکس پر کابینہ کی سب کمیٹی کے فیصلے کے تناظر میں ایف آئی اے کی تحقیقات میں تیزی آگئی اور تفتیشی ٹیم نے سابق وزیر اعظم و تحریک انصاف کے سربراہ سمیت اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کو طلب کرلیا۔ تحقیقاتی ٹیم سائفر اور اسکی کاپی غالب ہونے سمیت آڈیو لیک اور دیگر حوالوں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔اب سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا سائفر کے حوالے سے بیان بھی سامنے آچکا ہے تو ٹیم نے تحقیقات میں تیزی لاتے ہوئے سابق وزیراعظم کوطلبی کا تیسرا نوٹس جاری کرکے 25جولائی کو ایف آئی اے ہیڈکوارٹر میں بجے طلب کرلیا ہے۔ایف آئی اے نے شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کو متعلقہ ریکارڈ اور شواہد ساتھ لانے کی ہدایت کی ہے۔
مون سون ۔۔۔۔ادارے الرٹ رہیں
مون سون کی بارشوں نے ایک بارپھرملک میں ہیجانی کیفیت پیداکردی ہے ،بارش کے باعث ہونے والے حادثات اوردیواروں کے گرنے سے کئی افراداپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے جس کے باعث ناقابل تلافی نقصان اٹھاناپڑرہاہے مگرسمجھ نہیں آتی کہ ہمارے ادارے کیاکررہے ہیں بارشیں ہرسال آتی ہیں اوراس سے بچاﺅ کے لئے باقاعدہ ایک پلان وضع ہوناچاہیے مگر افسوس اس بات کاہے کہ ان محکموں کے اہلکارمحض اپنی تنخواہیں وصول کرنے کے علاوہ کوئی اورکام نہیں کررہے کسی کی جان چلی جائے یاکسی کاگھرگرجائے یانالے بلاک ہوں ،اس امر کی کوئی پرواہ نہیں بلکہ وہ الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیا میں اپنی تصویریں کھینچواکرکارگزاری کاسلسلہ ہرسال چلالیتے ہیں اوریہی کچھ اس سال بھی دیکھنے میں آرہاہے۔اب تک موصول ہونیوالی اطلاعات کے مطابق لاہور، اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں موسلا دھار بارش ہوئی جس کے بعد نشیبی علاقے زیر آب آ گئے جبکہ مختلف واقعات میں 3 بچوں سمیت 17 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ لاہور کے علاقوں قرطبہ چوک ، شادمان، جیل روڈ، مال روڈ، کینال روڈ ، گڑھی شاہو، اقبال ٹان، وحدت روڈ، مصطفی ٹان اور دیگر مقامات پر کئی گھنٹوں تک بادل وقفے وقفے سے برستے رہے۔لاہور میں مسلسل بارش کے بعد متعدد علاقے زیر آب آگئے جس کے بعد سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ اہم شاہراہوں پر بارش کا پانی جمع ہونے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر ہوئی، موسلادھار بارش کے باعث کئی فیڈرز ٹرپ ہونے سے متعدد علاقے بجلی سے محروم رہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔صوبائی دارالحکومت میں کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات میں 2 بچوں سمیت 5 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک بچے سمیت 2 افراد زخمی ہوئے۔اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلا دھار بارش کے باعث دیواریں گرنے کے نتیجے میں بچی سمیت 12 افراد جاں بحق ہو گئے، دیوار گرنے سے11افراد کی ہلاکتیں تھانہ نون کے علاقے میں ہوئیں جبکہ 4کو زخمی حالت میں ملبے کے نیچے سے نکال لیا گیا۔ ادھر تھانہ کھنہ کے علاقے محمد ٹان میں بھی 11سالہ بچی دیوار گرنے سے جاں بحق ہو گئی۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں دیواریں گرنے سے قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا، وزیراعظم نے مرحومین کیلئے مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی، وزیر اعظم نے بارش کے سبب انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کردی۔ راولپنڈی میں نالہ لئی کی سطح 15 فٹ سے اوپر ہو گئی، نالہ لئی میں سیلابی کیفیت کے پیش نظر خطرے کے سائرن بجاگے گئے جبکہ نشیبی علاقوں سے شہریوں کی نقل مکانی شروع کردی گئی ہے ۔پاک فوج سمیت تمام اداروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ادھربھارت نے نالہ ڈیک میں پانی چھوڑ دیا، نالہ ڈیک میں اونچے درجے کا سیلاب ہے، چناب اور راوی میں بھی طغیانی ہے۔نالہ ڈیک میں اس وقت 32 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے، سیلابی پانی دیہاتوں میں داخل ہو گیا، کسانوں کی ہزاروں ایکڑ فصل زیر آب آ گئی۔سیلابی پانی کی وجہ سے 10دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، گاو ¿ں رپووالی، سیداوالی، کھیرے تمبوہ سمیت 10 دیہات کو جانےوالے راستے بند ہو گئے، لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں