دنیا بھر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی بلندیوں کو چھورہی ہے اور تمام کاروبار زندگی ڈیجیٹیلائز ہوچکا ہے ، اس کی بدولت جہاں ایک جانب کام کی رفتار میں تیزی واقع ہوئی ہے تو دوسری جانب بڑے بڑے رجسٹروں اور دفتری کھاتوں سے بھی نجات ملی ہے ،پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا سہرا سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عطاءالرحمن کے سر جاتا ہے جنہوں نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں ملک میں پہلی بار انفارمیشن ٹیکنالوجی متعارف کروائی اور ملکی تاریخ میں پہلی بار اس کام کا آغاز کیا گیا ، یہ ایک مشکل چیلنج تھا جیسے پورا کرنا مشکل نظر آرہا تھا مگر ہمارا پڑوسی ملک اس کام میں بہت آگے جاچکا تھا ، اگر اس دور میں اس کی بنیاد نہ رکھی جاتی تو شاید آج بھی ہم 1960کی دھائی میں کھڑے ہوتے مگر الحمد اللہ مشرف کے بعد آنیوالی حکومتوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں مزید جدت پیدا کی اور اسے مزید آگے بڑھایا ، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بہت ساری یونیورسٹیوں نے آن لائن کلاسز کا اجرا شروع کر رکھا ہے جس کی بدولت نوجوان طالبعلموں کو نہ صرف مالی طور پر بچت ہوتی ہے بلکہ ان کا قیمتی وقت بھی ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے ، موجودہ حکومت آئی ٹی کی فیلڈ میں جدت لانے کیلئے کوشاں ہیں ، اب تو میڈیا بھی ڈیجیٹیلائز ہوچکا ہے اور سوشل میڈیا متبادل حیثیت اختیار کرچکا ہے ، موجودہ حکومت نوجوان طالبعلموں کو مفت لیپ ٹاپ کی فراہمی کرنے میں مصروف ہے، گزشتہ روز وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق متعدد منصوبوں کا اجرا کر دیا۔وزیراعظم نے آئی ٹی کو متحرک آمدن پیدا کرنے اور فروغ پذیر صنعت میں تبدیل کرنے کیلئے حکومت کی حمایت کا اعلان کیا اور آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے لگائے گئے بوتھ کا دورہ کیا، اس دوران وزیراعظم نے ٹیک ڈیسٹی نیشن پاکستان، ٹیک لفٹ بوٹ کیمپ، فرسٹ نالج پارک فار وومن باغ (آزاد جموں و کشمیر)، ایگری ٹیک انکیوبیٹر فیصل آباد اور سینٹر آف ایکسیلنس ان گیمنگ اینڈ اینی میشن کا افتتاح کیا۔تقریب سے خطاب میںوزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہمارے ملک کے نوجوان ذہین، محنتی اور باہمت ہیں، ہمارے نوجوان مختلف شعبوں میں بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں، ہمارے نوجوانوں میں بہت ٹیلنٹ ہے، پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، سہولیات، مواقعوں کی کمی کے باوجود نوجوان بہترین انداز میں پیشہ وارانہ کام کر رہے ہیں۔اگلے چند ماہ میں بہت سے منصوبے قومی دھارے میں شامل ہوں گے، برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے تمام وسائل برے کار لا رہے ہیں، معاشی بحالی کے قومی منصوبوں کو تمام اسٹیک ہولڈرز کی حمایت حاصل ہے، معاشی منصوبوں پر عملدرآمد سے ملک کو خوشحال بنائیں گے، سرمایہ کاروں کو ون ونڈو طریقہ کار سے تمام سہولیات فراہم کریں گے ۔ حکمت عملی کے تحت روزگار کے مواقع اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ترجیح ہے، آئی ٹی برآمدات کو 20ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں، نوجوانوں کو آئی ٹی کے شعبہ میں تمام سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں گے، سخت محنت اور لگن سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں۔نیز وزیر اعظم شہباز شریف کا منی لانڈرنگ کیس میں احتساب عدالت سے بری ہونے کے فیصلے پر ردعمل سامنے آ یا۔ اپنے ٹوئٹر پر وزیر اعظم شہباز شریف نے لکھا کہ الحمد اللہ، لاہور کی احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کے سیاسی انتقام پر مبنی جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں مجھے اور حمزہ شہباز کو بری کر دیا جس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے وہ کم ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ سیاسی انتقام میں لتھڑا یہ وہی مقدمہ ہے جس میں برطانیہ کی عالمی ساکھ رکھنے والی نیشنل کرائم ایجنسی نے تین ممالک میں 40 سال کا ریکارڈ دو سال تک کھنگالا اور کچھ نہ ملنے پر ہمیں کلین چٹ دی تھی۔ برطانیہ کے ڈیلی میل میں ڈیفیڈ کے فنڈز میں غبن کی جھوٹی خبر دانستہ شائع کرائی گئی تھی لیکن اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں سرخرو کیا اور ڈیلی میل کو معافی مانگنا پڑی، یہ وہی مقدمہ تھا جس میں ناحق مجھے دو مرتبہ گرفتار کیا گیا۔ سیاسی انتقام کی آگ میں جلنے والوں کو دنیا میں تو جواب مل گیا لیکن انہیں آخری اور سب سے بڑی عدالت میں ظلم کا حساب دینا پڑے گا۔
عام انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی تیاری
ملک میں عام انتخابات کی تیاریوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ، اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کی ممنوعہ اور غیر ممنوعہ فنڈنگ سمیت انتخابی اخراجات اور امیدواروں کے اثاثوں کی تفصیلات کےلئے ڈیجیٹل سسٹم تیار کر لیا ہے سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسمبلیاں12اگست کو تحلیل ہوئیں تو11اکتوبر کو انتخابات کرادینگے، انتخابی اخراجات سمیت امیدواروں کے اثاثوں کی تفصیلات اور سیاسی جماعتوں کے اثاثوں کی تصدیق کےلئے اسٹیٹ بنک اور ایف بی آر سمیت دیگر اداروں سے معلومات حاصل کریں گے ۔آنے والے انتخابات میں امیدواروں کے انتخابی اخراجات کی بھی سختی سے نگرانی کی جائے گی۔ موجودہ اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے بعد مقررہ تاریخ پر انتخابات کرائے جائیں گے تاہم اگر اسمبلیوں کو مقررہ وقت سے قبل برخاست کردیا گیا تو انتخابات آئین کے مطابق 90روز میں کرائے جائیں گے ۔ملک میں شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے اور اس کو پورا کرنے کےلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔دوسری جانب اقتصادی رابطہ کمیٹی نے عام انتخابات کیلئے 42.5 ارب روپے کی گرانٹ کی منظوری دے دی،گرانٹ کی پہلی قسط کے طور پر 10ارب روپے الیکشن کمیشن کو جاری ہونگے۔ عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہونے والے عام انتخابات منصفانہ ، آزادانہ اور غیر جانبدانہ ہوں گے ۔
پٹرول پمپ مالکان کا ہڑتال کا اعلان
ملک میں ایک جانب پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے جس کے باعث ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ، روزمرہ کی اشیائے صرف مہنگی سے مہنگی ہوتی چلی جارہی ہے ، دوسری جانب یہ اشیائے صرف غریب عوام کی دسترس سے دور ہوتی چلی جارہی ہے ، ایسے عالم میں پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے دیرینہ مطالبات کی عدم منظوری اور ایران سے بھاری مقدار میں پٹرول و ڈیزل کی سمگلنگ کے خلاف ہفتہ سے ملک بھر کے پٹرول پمپ بند کرنے کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں پٹرول کی سپلائی روک دی جائے گی ایسوسی ایشن کے چیئر مین عبدالسمیع خان کے مطابق گزشتہ سال کی کنزیومر پرائس انڈیکس کے مقابلے میں افراط زر کی شرح 38فیصد سے زائد ہو گئی ہے جبکہ بجلی ، یوٹیلٹی بلز ، مزدوری اور کائبر ریٹ ، مالی لاگت ودیگرضروریات کی وجہ سے موجودہ ڈیلر کمیشن میں آمدن نہ صرف ختم بلکہ منفی ہو گئی ہے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے ملک بھر میں 12ہزار سے زائد پٹرولیم ڈیلرزکو حکومت کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ 10ہزار سے زائد ممبران کی حامل ایسوسی ا یشن اورحکومت کے درمیان 1999میں طے ہوا تھا ڈیلروں کو 5فیصد کمیشن دیا جائے گا جو بعد ازاں 2004میں 4فیصد ہو گیااس کے بعد موجودہ حکومت نے6روپے فی لٹر یعنی2.40فیصد کر دیا جس سے ایسوسی ایشن اور دیلر برادری قطعی مطمئن نہیں ہے ۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے بار ہا وفاقی وزیر پٹرولیم مصدق ملک سے رابطہ اور اپیلیں کی گئیں جس پر انہوں نے کراچی آنے کا بھی وعدہ کیا لیکن وہ وعدہ ایفا نہ ہو سکا اور حکومت نے ابھی تک سنجیدگی کا کوئی عملی مظاہرہ نہیں کیا اس پر دوسرا بڑا مسئلہ ایران سے سمگل شدہ پٹرول و ڈیزل ہے جس کی کھلے عام اور بے انتہا ترسیل سے مقامی سطح پر ڈیلروں کی سیل میں30فیصد سے زائد کمی واقع ہو گئی ہے لہٰذا ایسوسی ایشن کے متفقہ فیصلے کے مطابق آج( ہفتہ )سے ملک بھر کے پٹرول پمپ بند کر دیئے جائیں گے ۔پیٹرول پمپ ڈیلرز کے مطالبات آئے روز بڑھتے چلے جارہے ہیں مگر پیٹرول پمپوں پر ہونیوالی بددیانتی کا کوئی علاج نہیں کیا جاتا ، پورے دام وصول کرکے پیٹرول پورا نہ کرکے دینا ان ڈیلروں نے اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے اور ملک بھر میں کوئی بھی ایسا پیٹرول پمپ نہیں جہاں سے پیٹرول پورا میسر آتا ہو مگر اوگرا یا کوئی اور ادارہ ایسا نہیں کہ جس نے ان پیٹرول پمپوں کے لائسنس کو کینسل کیا ہو ، حکومت کو چاہیے کہ وہ اس جانب بھی توجہ دے ۔





