اسلام آباد: چینی نائب وزیراعظم ہی لینفنگ نے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کے نئے دور کا آغاز ہے، پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری ہے۔سی پیک کی دس سالہ تقریبات کے سلسلے میں اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چین کے نائب وزیراعظم ہی لی فینگ نےکہا کہ چین پاکستان کی قومی خود مختاری، آزادی، علاقائی سالمیت کے تحفظ، قومی اتحاد، سماجی استحکام اور اقتصادی خوشحالی کی کاوشوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے، سی پیک چین اور پاکستان کی دوستی کے نئے دور کا آغاز ہے، سی پیک نے دونوں ممالک کے باہمی مفاد کو نئی جلا بخشی ہے.چین کے نائب وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا اہم منصوبہ ہے، یہ پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے، سی پیک سے خطہ میں سماجی ترقی کا آغاز ہوا ہے، پاک۔چین دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری ہے، دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستانہ تعلقات ہیں، سی پیک کے تحت سڑکوں کی تعمیر اور دیگر منصوبے مکمل کئے گئے ہیں، انڈسٹری، کلچر اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے، ساہیوال کول پاور پراجیکٹ مقررہ مدت سے پہلے پنجاب سپیڈ کے تحت مکمل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک علاقائی ترقی کیلئے اہم منصوبہ بن چکا ہےانہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستان میں 25 ارب ڈالر سے زائد کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی ہے، سی پیک کے تحت اربن ریلوے، فائبر آپٹک سمیت مختلف منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا گیا، سی پیک نے دونوں ممالک کے باہمی مفاد کو نئی جلا بخشی ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں، چینی انجینئرز اور پاکستانی کارکنوں نے ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بشانہ کام کیا ہے اور بعض ناممکن مقامات پر بھی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے اور مل کر مشکلات اور رکاوٹوں پر قابو پایا ہے۔چین کے نائب وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک کے تحت توانائی، زراعت، ریلوے اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں منصوبے شروع کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ لئے وہ سی پیک کے منصوبوں کو آگے بڑھانے اور علاقائی ترقی کی تجاویز پیش کرتے ہیں کہ پاکستان اور چین کو مل کر ترقی کا کوریڈور بنانے کی ضرورت ہے جس کے تحت سی پیک کے طویل مدت کے منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے، اس سلسلہ میں ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن، ایگرو فارمنگ اور باغبانی کے شعبہ میں مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں، اس سے پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی، دوسرا ہمیں مل کر روزگار کے مواقع بڑھا نے ہوں گے اور اس سلسلہ میں عوام کو مقدم رکھا جائے گا اور اس کیلئے زراعت، صنعت، تعلیم، صحت، تربیت اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیح دینا ہو گی۔





