بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Friday, 12 June 2026 | پاکستان: 28 ذوالحجۃ 1447

اے بسا آرزو کہ خاک شد

Monday, 7 August, 2023

تےسری صدی مےں چےنی بادشاہ نے اپنے بےٹے شہزادہ تائی کو مندر کے گرو ”جی پان کو “ سے تعلےم حاصل کرنے کےلئے اس وقت مندر بھےجا جب اس نے موت کے قدموں کی آواز اپنے قرےب محسوس کی ۔اسے فکر لاحق ہوا کہ مےرے مرنے کے بعد سلطنت کا نظم و نسق کون سنبھالے گا ”پان کو “ گرو جی نے لڑکے کو اےک اچھے حکمران کے بنےادی اصول سکھانے کےلئے جنگل مےں تنہا بھےج دےا ۔اےک سال کے بعد شہزادے نے کوئل کی گنگناہٹ ،پتوں کی سرسراہٹ ،پرندوں کی چہچہاہٹ ،گھاس کی سرسراہٹ اور مکھےوں کی بھنبھناہٹ کے بارے مےں بتاےا ۔استاد نے اسے جنگل واپس جانے کا حکم دےا ۔اب وہ بڑا پرےشان ہوا کہ وہ مزےد کس چےز کا مشاہدہ کرے اور کےا بتائے ۔کئی دن اور راتوں کی صعوبت اٹھانے کے بعد جب وہ آوازےں غور سے سن رہا تھا تو اسے چند غےر شناسا آوازےں سنائی دےں ۔اسے لگا ،ےہی وہ آوازےں تھےں جو گرو جی کی مطلوبہ تھےں ۔اس آگہی کے احساس کے ساتھ ہی وہ فوراً واپس گرو جی کی خدمت مےں حاضر ہوا ۔گرو جی نے پوچھا بتاﺅ اب کےا دےکھا اور کےا سنا؟ شہزادے نے بصد احترام جواب دےا مےں نے بہت قرےب ہو کر سنا تو مےں پھولوں کے کھلنے کی نہ سنائی دےنے والی آواز کو ،سورج کے زمےن گرم کرنے کی آواز کو اور صبح کی شبنم کے ساتھ گھاس کی آواز بھی سن سکتا تھا ۔استاد نے تصدےق کرتے ہوئے کہا کہ ”نہ سنائی دےنے والی آواز کو سننا “ اےک اچھا حکمران بننے کا سنہری اصول ہے ۔ معزز قارئےن رےاستوں کا زوال اسی وقت ہوتا ہے جب حکمران لوگوں کے دل کی آواز ،احساسات ،شکاےات اور تکلےفےں قرےب سے سننا نہےں سےکھ لےتے ۔انہےں معلوم ہو کہ کن گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہےں ۔کن بد قسمت والدےن کے بچے ننگے پاﺅں پھر رہے ہےں ۔رےاست مےں کون سے نادار بچے اےسے ہےں جن کے تن پر کپڑا اور سر پر چھت نہےں ۔ان کی کہےں شنوائی نہےں ۔ وطن عزےز کے شہری ہر دن کی ابتداءنئی امےدوں ،آرزوﺅں اور خواہشوں کے ساتھ کرتے ہےں کہ آج شاےد کوئی حوصلہ افزاءخبر سننے کو ملے لےکن ،اے بسا آرزو کہ خاک شد ۔اس تےز رفتار زمانے مےں عوام کے مشکلات و مصائب مےں اتنی تےز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے کہ ہماری حکومت،سےاستدان اور نوکر شاہی کو تو اس کا احساس ہی نہےں ہوتا ۔ہر روز نئی لرزا دےنے والی خبر غمگےن خبروں مےں اضافہ کا باعث بنتی ہے ۔ہر دن کے اختتام پر متاثرہ عوام اپنی امےدوں کو راکھ کے ڈھےر مےں تبدےل ہوتا دےکھتے ہےں لےکن خود کو بے بس پاتے ہےں ۔غربت ، بے روزگاری اور افرط زر مسلسل بڑھ رہا ہے ۔ لوگوں کی قوت خرےد جواب دےتی جا رہی ہے ۔ عوام مستقبل سے انتہائی دلبرداشتہ اور ماےوس ہو چکے ہےں ۔غرےب لوگ معاشی و دےگر مسائل کی وجہ سے پاگل پن کی حدود سے بھی تجاوز کر گئے ہےں ۔ان کا رونا دھونا صدا بصحرا ثابت ہوتا ہے ۔غرےب نواز منصوبہ سازوں کو کبھی فرصت ہی نہےں ملتی کہ جانوروں کی طرح زندگی گزارنے والے ان انسانوں کو کبھی بالمشافہ دےکھ ہی لےں ۔غربت کے ہاتھوں زندہ جل کر مرنے ،بچوں کو قتل کر کے خود کو ہلاک کرنے کی خبرےں روزانہ پڑھنے کو ملتی ہےں ۔آج آٹا ناےاب ہو گےا ہے ۔آٹے پر لڑائےاں ہو رہی ہےں ۔آٹے کا اےک ٹرک آتا ہے تو لوگوں کا بہت بڑا جلوس اس کے پےچھے ہوتا ہے ۔سندھ اور بلوچستان کے کئی شہروں مےں اےسے مناظر دےکھنے کو ملے ہےں کہ روح کانپ گئی اور انسانےت شرما گئی ۔وطن عزےز مےں جدھر نگاہ اٹھتی ہے ہنگامے اور افراتفری ہے ۔عوام دو وقت روٹی کےلئے آٹے کو ترس گئی ہے ۔مےر پور خاص مےں آٹے کا ٹرک آےا ۔سےنکڑوں افراد نے اس پر ہلہ بول دےا ۔بہت سے افراد ٹرک پر چڑھ گئے ،ڈرائےور نے ٹرک چلا دےا ۔سارے افراد گر گئے ۔بھگدڑ مچ گئی ۔اےک محنت کش ہر سنگھ کولہی ہجوم کے قدموں تلے آ کر جاں بحق ہو گےا ۔ےہ اپنے چھ بچوں کےلئے آٹا لےنے آےا تھا ۔اس نے سستے آٹے کے حصول کےلئے اپنی زندگی ہار دی ۔نواب شاہ مےں اسی طرح آٹے کے ٹرک مےں بھگدڑ مےں اےک بچی اور دو خواتےن قدموں تلے آ کر شدےد زخمی ہو گئےں ،تےنوں کو ہسپتال پہنچا دےا گےا ۔دو عورتوں ،اےک بچی کا شدےد زخمی ہونا اور اےک محنت کش کا موت کے منہ مےں چلے جانا نہ ہی خود کشی کا واقعہ ہے اور نہ ہی ےہ کوئی خود کش حملہ تھا بلکہ ےہ سب کچھ حصول رزق کی تگ و دو مےں ہوا ۔ےہ بدترےن اور ہولناک سانحات ہی نہےں بلکہ انوکھے حادثات ہےں ۔محنت کش اور اس کے چھ بچوں کا جرم کےا تھا جس کی اسے اتنی بڑی سزا ملی ےہ صرف زندہ رہنے کی خواہش تھی ۔ زندگی کی سانسوں کا رشتہ برقرار رکھنے کےلئے حصول رزق کی کوشش ہی اس کو تنگ وتارےک راستے پر لے گئی جو اس کےلئے مرگ ناگہانی ثابت ہوئی ۔زخمی ہونے والی ےہ مائےں اور چھ بچوں کا باپ اپنے بچوں کو بہلا کر نکلے ہوں گے کہ ہم تمہارے لئے آٹا لےکر آتے ہےں ،ناصر بشےر کس کی نظر کھا گئی ،ساےہ سا بچھ گےا مےرے آنگن مےں خوف کا۔اس ملک کی عورتےں ، بزرگ اور بچے سارا سارا دن سستے آٹے کے منتظر رہتے ہےں ۔لوگ ذلت کی تصوےر بن گئے ہےں ۔اےک وےڈےو مےں اےک عورت ہاتھوں مےں خالی برتن لےے غربت کا رونا جس بے چارگی سے رو رہی تھی وہ ہر دےکھنے والے کی آنکھےں اشکبار کرنے کا باعث تھا۔معزز قارئےن ےہ اکےسوےں صدی کے وہ شرمناک مناظر ہےں جو اسلامی جمہورےہ پاکستان مےں جگہ جگہ وقوع پذےر ہو رہے ہےں ۔افسوس کہ اےک زرعی ملک کو قحط زدہ ملکوں کی قطار مےں لا کھڑا کےا گےا ہے افسوس کہ ٹرکوں پر دھکوں اور پولےس کی مار پےٹ کےلئے عوام کی بے بسی کے تماشوں کی اےک نئی تارےخ رقم کر دی گئی ہے ۔انسانےت کی تذلےل کے اےسے مناظر دےکھنے کو ملے اگر ےہ کسی ےورپی ملک مےں ہوتے تو وہاں کہرام بپا ہو جاتا ۔آج وطن عزےز کا عام شہری نان روٹی کو ترستا ہوا نظر آتاہے ۔سچ ہے بھوک عقل ،دانائی ،شرم و حےا،انا و شرف اور عزت نفس کو کھا جاتی ہے ۔مفلسی حس لطافت کو مٹا دےتی ہے ،بھوک آداب کے سانچوں مےں نہےں ڈھل سکتی ۔قصور صرف غرباءکا ہی ہے ےا اس مےں قےادت اور ہوس کے مارے مافےاز کی بھی شراکت داری ہے ۔ڈنگ ٹپاﺅ پالےسےوں سے حالات کبھی بہتر نہےں ہو سکتے ۔وطن عزےز کے بدقسمت عوام کا شاےد مقدر ہی خود کشےاں کرنا ،بھوکوں مرنا اور بجلی کے بلوں کےلئے زندگی گروی رکھنا ہے ۔اگر وہ خوراک کے حصول مےں مر جائےں تو کوئی غم نہےں کرنا چاہےے کےونکہ روز روز کے مرنے سے اےک دن کا مرنا ہی ان کےلئے بہتر ہے ۔چلو ان کو قبر مےں تو آسودگی مل گئی ۔معزز و محترم قارئےن منصوبہ بندی کمےشن کی اےک رپورٹ کے مطابق وطن عزےز مےں غربت کی شرح 45فےصد سے زےادہ ہو گئی ہے ۔ملک مےں کسمپرسی کی زندگی گزارنے والوں کی تعداد 7 کروڑ 80 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے ۔اگر مستقبل مےں اس برے وقت سے بچنا ہے تو صاحبان اقتدار و اختےار کو سوچنا ہو گا کہ کےا ہم اپنے ملک کی وہ خدمت کر سکے ہےں جو عوام کا حق ہے ؟ اےک مجبور و مقہور ،غرےب انسان کو روٹی ،روزگار ،صحت ،تعلےم اور انصاف دےنے مےں کامےاب ہوئے ہےں ؟ کےا ہم نے اپنے اخرجات مےں کمی اور اپنی عےاشےاں کم کی ہےں ؟ اگر ان سوالوں کا جواب نفی مےں ہے تو پھر ہمےں برے وقت سے دنےا کی کوئی طاقت نہےں بچا سکتی ۔اے رب العالمےن ہمارے حال پر رحم فرما ۔(آمین)

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں