بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Friday, 12 June 2026 | پاکستان: 28 ذوالحجۃ 1447

تعلےم برائے فروخت

Thursday, 10 August, 2023

ہمارے اراکےن اسمبلی نے بوقت رخصت قانون سازی اور جامعات کے چارٹر منظور کرنے کا جو رےکارڈ قائم کےا ہے اس کی مثال دنےا کی تارےخ مےںنہےں ملتی ۔اےک ہی دن مےں 26جامعات کے چارٹر منٹوں مےں منظور کرا دےے گئے ۔وزےر تعلےم موجود ہی نہےں تھے ۔دو دن بعد ان مےں سے کچھ مزےد 14جامعات کے بل لےکر آگئے ،پاس کرنے کی کوشش کی تو وزےر تعلےم رانا تنوےر حسےن نے رکاوٹ ڈال دی کہ کچھ خدا کا خوف کرو ،اےک اےک کمرے کی جامعات بن رہی ہےں ۔چند ماہ قبل رانا تنوےر صاحب نے اسلام آباد مےں اےک تقرےب مےں دوران خطاب فرماےا تھا کہ ہم نے مزےد ےونےورسٹےوں کی اجازت نہےں دےنی ۔ےہ کاروبار بن چکا ہے اور غےر ضروری طور پر پھےل چکا ہے ۔ رانا صاحب کے رکاوٹ ڈالنے پر اسمبلی مےں ہنگامہ کھڑا ہو گےا ۔رانا صاحب پر تعصب رکھنے کے الزامات لگنے لگے اور اجلاس اگلے دن کےلئے ملتوی ہو گےا ۔اےوان مےں کھڑے اےک رکن نے کہا کہ صرف ٹوکےو شہر مےں اےک ہزار جامعات ہےں تو ہمےں پاکستان مےں قائم کرنے کی اجازت کےوں نہےں دی جا رہی ۔پورے جاپان مےں تو صرف 607جامعات ہےں ۔نجی ےونےورسٹےوں کے قےام کی اتنی بڑی قانون سازی پر وزےر تعلےم رانا تنوےر بھی بے بس نظر آئے ۔اس سے تو وطن عزےز مےں تعلےم برائے فروخت کے کاروبار کو ہی تقوےت ملے گی ۔مغربی ممالک مےں جامعات رےاست ،مخےر علم دوست رکھنے والے لوگوں نے قائم کی ہےں ۔ان امراءنے دولت بنانے کےلئے نہےں بلکہ اپنی کمائی ہوئی دولت کو عوامی مفاد کےلئے خرچ کرنے کےلئے ۔وطن عزےز مےں تو ےونےورسٹےوں اور کالجوں کا اےک سےلاب بلا انگےز آےا ہوا ہے ۔ہر صاحب استطاعت خواہش رکھتا ہے کہ اگر ےونےورسٹی نہےں تو کالج ضرور کھولے ۔وزراء، بےوروکرےٹ ،ڈاکٹرز ،اےم پی اے ،اےم اےن اےز اس بزنس مےں کود چکے ہےں ۔ہر صاحب استطاعت خواہش رکھتا ہے کہ اگر ےونےورسٹی نہےں تو کالج ضرور کھولے ۔ملک مےں لاکھوں پرائےوےٹ سکول کالج اور ےونےورسٹےاں کھل چکی ہےں ۔ےہ سارے ادارے خود چل رہے ہےں اور سودے بازی بھی ۔اب اس مصےبت مےں کون پڑے اور دےکھے کہ ےہ ادارے ےہ بزنس کےسے چلا رہے ہےں ۔ہر کام کی طرح تعلےم بھی تجارت بن گئی ہے ۔پےسہ پلاٹوں کی خرےداری کےلئے انوےسٹ نہ کےا مےڈےکل کالج ےا ےونےورسٹی بنا لی ۔تعلےم کو ہمارے ہاں تاجرانہ بنا دےا گےا ہے ۔حکومت کو تو چاہےے کہ وہ مزےد ےونےورسٹےاں کھولنے کی اجازت نہ دے ۔تعلےم ےافتہ نوجوانوں کی کھپت ےوں توملک مےں بھی نہےں ہے جو طلبہ ےونےورسٹےوں سے نکلےں گے تو انہےں کوئی نہےں پوچھے گا ۔حکومت ےا تو کھپت کے مطابق ےونےورسٹےاں کھولے ےا ملازمت کے علاوہ مےدانوں مےں کام کرنے کے مواقع فراہم کرے ورنہ تعلےم دلا کر بے روزگار بنانا نہ ملت کےلئے نہ ملک کے واسطے مفےد ہے ۔ہمارا پےارا ملک پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود مےں آےا تھا ۔رےاست مدےنہ کے دور کا جائزہ لےں تو ےہ واضع ہو جاتا ہے کہ عوام کے مفادات کا تحفظ اور ان کی دےکھ بھال کرنا حاکم کی ذمہ داری ہے لےکن ہمارے ہاں جہاں سرکاری اداروں مےں صورت حال اس کے برعکس ہے وہاں پرائےوےٹ ادارے بھی لوٹ کھسوٹ کے عمل مےں پورے زور و شور سے شامل ہےں ۔کچھ لوگوں نے تعلےم و تدرےس کے شعبے مےں اےسے برقعے زےب تن کر لےے ہےں جن کی قابلےت صرف اور صرف مالی لحاظ سے آسودہ ہونا ہی ہے ۔تصور رےاست ارتقائی سفر طے کر کے welfare stateکے تصور تک پہنچا تو اےک social contractمتعارف ہوا جس کے مطابق رےاست کے فرائض مےں جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ صحت ،تعلےم اور باقی بنےادی سہولےات زندگی بہم پہنچانا بھی رےاست کی ذمہ داری مےں شامل ہو گےا ۔جدےد قومی اور بےن الاقوامی تقاضوں کے تحت ان بنےادی حقوق کی حفاظت اقوام متحدہ بھی انٹر نےشنل لاءکے تحت کرتی ہے ۔درجہ دوم کے شہرےوں کی معےشت ان کالجوں مےں پہنچنے کی اجازت نہےں دےتی ۔وہاں پر جاگےر دار ،دولت مند اور صنعت کاروں کے بچے ہی داخلہ لے سکتے ہےں ۔جو بولی زےادہ لگائے گا داخلے کا حقدار ٹھہرے گا ۔ےہ سرماےہ دار تعلےم کو اچک لےتے ہےں اور ےہ صنعت کار اور جاگےر دار اسمبلےوں مےں اپنی ہی بنائی ہوئی تعلےمی سکےموں کا گلا گھونٹ دےتے ہےں ،اس شعر کی صورت دےکھا تو پھر وہےں تھے چلے تھے جہاں سے ہم کشتی کے ساتھ ساتھ کنارے چلے گئے،ہمارے ہاں تو گزشتہ تےن دہائےوں سے دو قسم کے کاروبار نے بہت ترقی کی ہے ۔نجی ہسپتال اور نجی سکول اکےڈمےاں ۔نجی ہسپتال بنانے سے محفوظ بزنس کوئی اور نہےں بس جگہ لےں اور پرائےوےٹ ہسپتال قائم کرلےں ۔آپ پر کوئی قانون لاگو نہےں ہوتا ۔پرائےوےٹ مےڈےکل ،ڈےنٹل کالج کی بنےاد تجارت و بزنس انڈسٹری کی ہے ۔وہ زےادہ سے زےادہ اس لےے پھےل رہے ہےں کہ ان کے مراسم اعلیٰ سطح کے با اثر افراد کے ساتھ ہےں ،کئی اےک مےں با اثر افراد کے شئےر ہےں ۔مےڈےکل کالج مافےا نے چھوٹی چھوٹی بلڈنگوں مےں اشتہاروں کے ذرےعے مےڈےکل کالج کا اجراءکر رکھا ہے لےکن بہت سے مےڈےکل کالجوں مےں نہ پراپر بلڈنگ ہے ،نہ اچھے لےکچرز روم ہےں نہ ورکنگ کنڈےشن مےں مختلف شعبہ کی کلےنےکل اور پرےکٹےکل لےبارٹرےز کے سازو سامان مےں پختگی ہے ۔لائبرےری مےں کتابےں کم ،پروفےسرز کم اور طالب علم زےادہ ہےں کےونکہ کالج اتھارٹےز نے روپےہ کمانا ہوتا ہے ۔کہتے ہےں علم انسان کو جہالت کے غار اور اندھےروں سے نکال کر روشنی عطا کرتا ہے ،وسعت نظر عطا ہوتی ہے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحےتوں مےں اضافہ ہوتا ہے لےکن اگر ان پر طاقت و دولت کے پہرے ہوں تو پھر اسے عام کےسے کر سکےں گے ۔اب تو ےہ احساس پےدا ہو گےا ہے کہ آج کل تعلےم دی نہےں جاتی ،فروخت کی جاتی ہے ۔مول لگاےا جاتا ہے ،باقاعدہ بھاﺅ تول ہوتا ہے ۔تعلےم کا کاروبار اور علم کی لوٹ سےل ہو گئی ہے ۔جس کے پاس دولت ہے ،روپےہ ہے ،وسائل ہےں اس کے بچے علم حاصل کر لےں اور جو افورڈ نہےں کر سکتے ان کےلئے علم کے حصول کے راستے محدود ہی نہےں معدوم کر دےے گئے ہےں ۔ےہ کہاں کا انصاف ہے ،کہاں کی مساوات ہے ،کس مذہب کا سبق ہے اور کس مقدس کتاب مےں لکھا ہے کہ جےب مےں سکے ہوں تو ہر سہولت موجود ہے ۔ہمارے ہاں ےہ مےڈےکل کالج بنے ہی اس طبقے کےلئے ہےں جو مجبور طبقات کی توانائی چوس کر اپنے معاشی خزانوں کو وسعت دےتے اور جن کے مےن گےٹ کے باہر تک تمام قوانےن اور حدےں سکڑ جاتی ہےں اور اندر داخل ہونے والوں کو پےسے کے بل بوتے پر سب کچھ مہےا کر دےا جاتا ہے ۔ےہ ادارے تو اب کھلے عام تعلےم فروشی کا کاروبار کر رہے ہےں ۔معزز قارئےن ےہ تعلےمی ادارے جو تہذےب و علم کا گہوارہ ہونے چاہےےں وہاں بھی کرپشن کی دےوی نے اپنے خونی اور پر ہوس پنجے گاڑ رکھے ہوں تو دوسرے باقی نظاموں کی بہتری کی توقع کےسے کی جا سکتی ہے ۔اس کے بارے مےں بس ےہی سوچا جا سکتا ہے کہ انسان اپنی ہوس کے گھوڑے پر اس وقت سوار ہے اور قدرت نے بھی ان کی لگامےں جان بوجھ کر ڈھےلی چھوڑ رکھی ہےں ۔غالباً وہ دےکھنا چاہتی ہے کہ آخر انسان جاتا کہاں تک ہے؟انسان دنےا اور ماورائے دنےا کو نچوڑ رہا ہے ،چوس رہا ہے ،ادھےڑ رہا ہے ۔انسان جو ہوا ،مٹی اور آگ کا ملغوبہ ہے لےکن اس کا کےا علاج کہ دولت کی ہوس مےں انسان وہ سارے نشانات روند رہا ہے جو زندگی اور تہذےب کے سنگ ہائے مےل ہےں ۔افسوس کہ ان کالجوں اور ےونےورسٹےوں کے بارے مےں جب کوئی نحےف آواز اٹھائی جاتی ہے لےکن اس آواز کو اقتدار کی راہدارےوں مےں اےسا گم کر دےا جاتا ہے کہ کوئی بھول کر بھی انہےں تلاش کرنے کی زحمت گوارا نہےں کرتا ۔راقم کی ارباب اختےار و اقتدار سے درد مندا نہ اپےل ہے کہ تعلےم جےسے مقدس پےشے کے ذرےعے مفلسی اور بھوک کی پنےری نہ اگاﺅ ،تارےخ اس قسم کے مذاق برداشت نہےں کرتی ۔تعلےم کو جاگےردار اور دولت مندوں کے چنگل سے آزادکروائےں ورنہ تعلےم سب کےلئے مقصدےت اورا فادےت اپنی موت آپ مر جائے گی ۔ شخصےات کی بجائے پالےسی ساز اداروں کو فعال بناےا جائے تا کہ ذاتی مفادات قومی مفادات کے نگلنے سے باز رہےں ۔

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں