بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Friday, 12 June 2026 | پاکستان: 28 ذوالحجۃ 1447

کپتان کے اپنی سیاست اورریاست پر خود کش حملے

Tuesday, 29 August, 2023

راقم نے کپتان سے بار بار کہا تھاتکبر نہیں تدبر کاراستہ اختیار کرولیکن وہ انتقام کی تاریک اوربندگلی میں جاپہنچا۔اس نے جس انداز بلکہ منتقم مزاجی کے ساتھ احتساب شروع کیا وہ ہمارے سیاسی نصاب کاسیاہ باب بن گیا۔اُسے سمجھایا تھا سیاسی امتحان یابحران میں بزدار نہیں بردبار کام آتے ہیں لیکن وہ نہیں مانا،اسے کہا تھا اپنی اہلیہ نہیں اپنے اہل سیاسی مشیروں کے مشوروں پردھیان دومگر وہ نہیں مانا۔ وہ اپنی دھن میں تھا ،اس کے نزدیک سیاست محض عداوت کادوسرا نام تھی۔چور مچائے شور کے مصداق چور چورکی گردان نے کپتان کوبھی چوربنادیا اوراٹک کے زندان میں پہنچادیا ۔جس وقت پاکستان میں عمرانی آمریت کاسورج سوانیزے پرتھااس وقت پی ٹی آئی میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہوگئی تھی پھر جب وقت آیا تو منتخب ایوان میں پی ٹی آئی کے متعدد ارکان نے ووٹ کی پرچی سے تبدیلی سرکار کے پرخچے اڑادیے ، منتقم مزاج عمران خان کے آمرانہ رویوں سے بیزار پی ٹی آئی کے بیسیوں منتخب ارکان نے بھی بغاوت کرتے ہوئے کپتان کی بینڈ بجادی۔چیئرمین یاچورمین پی ٹی آئی پاکستان کاواحدوزیراعظم ہے جس کیخلاف عدم اعتماد کامیاب ہوئی اوراپنے مخالفین کیخلاف ناپسندیدہ زبان استعمال کرتے کرتے وہ خود زندا ن میں جاپہنچا۔میں سمجھتا ہوںجو سیاسی خود کشی کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے اسے سیاسی طورپر تختہ دار پر لٹکانا نہیں پڑتا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اپنی سیاسی ناکامی اوربدنامی کے محرکات پرغور جبکہ سیاسی غلطیاں دہرانے سے گریزکرنے کی بجائے اپنی توپوں کارخ پاکستان کی زیرک اورانتھک دفاعی قیادت کی طرف موڑدیا ۔اس نے ایوان میں آئینی تبدیلی کوتسلیم کرنے اوراپوزیشن میں اپنا فعال کرداراداکرنے کی بجائے اپنی اقتدار سے بیدخلی کوامریکا اوردفاعی قیادت کی سازش کاشاخسانہ قراردیتے ہوئے اپنے مخصوص حامیوں کوگمراہ کرناشروع کر دیا اورسوشل میڈیا پرریاست اورریاستی اداروں کیخلاف ناپسندیدہ مہم جوئی کاآغاز کردیا ۔چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنی بدترین سیاسی غلطیوں پرقوم سے معذرت کرنے اورقومی معاملات بارے سنجیدہ رویہ ا پنانے کی بجائے الٹا طوطاچشمی اوراحسان فراموشی کامظاہرہ کرتے ہوئے دفاعی قیادت پرذاتی حملے شروع کردیے،موصوف نے اپنی سیاست کے ساتھ ساتھ ریاست پربھی خود کش حملے کئے جبکہ سیاسی طورپراپوزیشن کیخلاف انتہاپسندانہ اور انتہائی جارحانہ رویہ اختیار کیا ۔نادان اوربدزبان کپتان کے ذاتیات پراتر آنے اوراس کی طرف سے بیہودہ دشنام طرازی اوراشتعال انگیز ی کے باوصف بحیثیت آرمی چیف جنرل (ر)قمر جاویدباجوہ نے قومی مفاد میں مثالی صبر وتحمل اوربرداشت کامظاہرہ کیا۔میں سچائی بتانااپنافرض سمجھتا ہوں ، پاک فوج کے سابق سپہ سالار جنرل (ر)قمر جاویدباجوہ نے پاکستان میں سیاسی ومعاشی استحکام اورجمہوریت کے دوام کیلئے کپتان کی کمزورترین اتحادی حکومت کوبھرپور انداز سے سپورٹ کیا لیکن کپتان اپنی رعونت اور اپنے اتحادیوں کی طرف سے فرینڈلی فائرنگ کانشانہ بنا۔کپتان نے باری باری اپوزیشن قیادت کواپنا دشمن بنالیا اوروہ کمزور حکومت کی عمارت گرانے کیلئے میدان میں اتر آئے توپھراس صورتحال کودیکھتے ہوئے جنرل (ر)قمرجاویدباجوہ نے کپتان اوراپوزیشن اتحاد کوان کے حال پرچھوڑدیا تھا۔کپتان کے اپنے ارکان اس کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کاہراول دستہ تھے۔ جنرل (ر)قمر جاویدباجوہ نے توپاکستانیت کاحق اداکرتے جبکہ جمہوریت اورقومی معیشت کی مضبوطی کیلئے اپنا آئینی کرداراداکرتے ہوئے متعدددوست ملکوں کوپاکستان میں بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کرنے اورپاکستان کوقرض حسنہ دینے پرآمادہ کیا ۔اگر جنرل (ر)قمر جاویدباجوہ کی شخصیت پراعتماد کرتے ہوئے دوست ملک ہماری قومی معیشت کوسہارا نہ دیتے توشاید پاکستان ڈیفالٹ کرجاتا ۔کپتان نے جنرل (ر)قمر جاویدباجوہ کے سلسلہ میں بھی بڑا یوٹرن لیا ،وہ اپنے دوراقتدارمیں جنرل (ر)قمر جاویدباجوہ کوجمہوریت پسند قراردیتا،ان کے گیت گاتا اوران کی تیسری بار ایکسٹینشن کاحامی تھا لیکن اپنے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کے بعداس نے اپنے محسن پرکیچڑاچھالنا شروع کردیا تاہم اعلیٰ ظرف جنرل (ر)قمر جاویدباجوہ نے کسی مرحلے پرنادان کپتان کواس کی زبان میں جواب نہیں دیا۔تبدیلی سرکار کاسورج غروب ہونے کے بعد کپتان کے ان دعوﺅں سے متعلق سوالات اٹھتے ہیں جن میں اس نے تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے کی بات کی تھی۔ اگرچہ پارلیمانی عمل کوعارضی طورپر الٹا یا اور ایک آئینی بحران پیداکیاگیا لیکن اس کے باوجود شکست خوردہ کپتان کوایوان سے جانا پڑا۔کپتان کاشمار پاکستان کے ان چند حکمرانوں میں شمار ہوتا تھا جو اپنے اقتدار کے آغاز میں مقتدرقوتوں کے حمایت یافتہ اورمنظورنظرتھے۔ اسے اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور مدد حاصل تھی، عوامی حمایت بھی اس کے ساتھ تھی، تخت لاہور پر کپتان کامعتمدبزدار براجمان تھا، تبدیلی سرکار کی اپوزیشن منقسم اور مایوس تھی ۔لیکن کپتان کی ناقص کارکردگی،مسلسل عہدشکنی ، دشمنی،تعصب اورنفرت کی سیاست اسے عوام سے دورکرتی چلی گئی ۔ کپتان کو درپیش اعتماد کے بحران نے تبدیلی سرکار کی مدت کو مختصر کردیا اور اس کے پیچھے کپتان کے متنازعہ طرز سیاست سمیت کئی عوامل کارفرما ہیں۔کپتان کی شخصیت اور سیاست میچورٹی جبکہ ایوان میں اس کے پاس ضروری میجورٹی نہیں تھی لیکن اس کے باوجود اس کے لہجے میں رعونت اورفرعونیت تھی اسلئے وہ دوسرے سیاسی کرداروں کے مفادات اور خیالات کو کچلتا جارہا تھا ۔ اقتدار کے باوجود سیاسی اتحاد برقراررکھنے کیلئے انکساری ، بردباری اور اتحادیوں کی عزت افزائی ضروری ہوتی ہے۔ اس کے برعکس کپتان آمرانہ انداز سے تنہا فیصلے کر تارہا، اس نے اتحادیوں کو نظر انداز کردیا اوروقت آنے پرحکمران اتحادزمین بوس ہوگیا ۔پھر ذاتی اقتدار کے بوجھ سے اتحادی ساتھ چھوڑگئے کیونکہ اس قتدار میں طاقت کا مرکزومحور ایک ضدی شخص تھا جو اہم فیصلے بھی اپنے سیاسی اتحادیوں کی طرف سے دی گئی تجاویز کی بجائے اپنی مرضی سے کرتاتھا۔مطلق العنانیت کا مطلب یہ ہے کہ پالیسی تجاویز کے ایک ادارہ جاتی نظام کے بجائے کسی عہدیدارکی جبلت اور انا پر انحصار کیا جائے۔ اس وجہ سے بار بار پالیسی یوٹرن لیاگیا جو ندامت کا سامنا کرنا پڑا اورعالمی برادری کے سامنے ایک ایسی حکومت کی شبیہ گئی جس کے پاس کوئی مستقل سمت ،انتظامی بصیرت اوراستقامت نہیں تھی۔ اس کی وجہ کسی حد تک کپتان کی ناتجربہ کاری،اہلیہ سے مشاورت اور ریاستی امور سے ان کی ناواقفیت کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ تاہم اپنے اقتدار کے چوتھے سال میں بھی ان کا کسی زیرک سیاسی شخصیت یا اتحادی جماعت سے مشاورت نہ کرنا اور الٹامتکبرانہ رویہ اپنانا ان کی راہ میں بارودی سرنگیں بچھاتا جبکہ اقتدار پران کی گرفت دن بدن کمزور کرتا گیا جس ک کے نتیجہ میں حکمران جماعت سمیت حکمران اتحاد کے اندرانتہائی مایوسی ،بددلی اور عوام میں بڑھتی ہوئی ناامیدی سے بے خبر رہے۔ بنیادی وجوہات میں سے ایک بنیادی سبب پارٹی میں موجود خدشات کے باوجود تخت لاہور کیلئے کمزور ترین عثمان بزدار کا انتخاب تھا اورجماعت کے اندرونی دباﺅ کے باوجوداسے تبدیل نہ کرنے کی ضد تھی۔ اس متنازعہ فیصلے سے پنجاب میں متعدد سیاسی وانتظامی تنازعات پیداہوئے اوران کے اثرات سے اسلام آبادبھی متاثر ہوا ۔ پنجاب حکومت کی ناقص کارکردگی جماعت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کے سبب اور سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی مقبولیت میں کمی ہوتی چلی گئی اوراس کے نتیجہ میں عثمان بزدارکی سیاسی پوزیشن کمزور ہوتی چلی گئی ۔ اسی وجہ سے منحرف ارکان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا جو اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک میں بہت اہمیت کے حامل تھے۔ مرکز میں کمزور حکومت کی وجہ سے حکمران جماعت کو متعدد ضمنی انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن بلدیاتی انتخابات اور ضمنی انتخابات میں شکست کی وجوہات پر غور کرنے کے بجائے وزیراعظم اخلاقیات کا درس دیتے رہے۔کپتان خود بھی سیاسی طورپرنادان اوربدزبان تھے اوپر سے ان کے چاروں طرف نادانوں ،بدزبانوں اوربزداروں کاحصار تھا ۔کپتان آج جہاں ہے اس انجام کاانتخاب اس نے خود کیا،وہ کسی دوسرے کودوش نہیں دے سکتا۔
٭٭٭٭

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں