بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 31.6°C
Monday, 15 June 2026 | پاکستان: 30 ذوالحجۃ 1447

چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر کا شاندار فیصلہ

Monday, 15 June, 2026

کہا جاتا ہے کہ آجکل جو کچھ آزاد کشمیر میں ہو رہا ہے اس سے ملتی جلتی ایک عوامی ایکشن کمیٹی مقبوضہ کشمیر میں بھی بنی تھی۔اب کہا جاتا ہے کہ آزاد کشمیر میں بھارت نے بھی اسی طرز کی ایکشن کمیٹی لانچ کی جو کشمیر کی ایکشن کمیٹی کا تعارف کچھ یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ عوامی ایکشن کمیٹی ایک سیاسی و مذہبی تنظیم کی تھی جو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم رہی۔اس کی بنیاد 1960 کی دہائی میں رکھی گئی۔ اس کا تعلق سرینگر کی مذہبی اور سیاسی قیادت سے تھا اور یہ تنظیم کشمیری سیاسی حقوق اور مختلف عوامی مسائل پر سرگرم رہی۔اس تنظیم کے سب سے معروف رہنما میر واعظ عمر فاروق تھے، جو کشمیر کے میر واعظ اور حریت کانفرنس کے ایک اہم رہنما بھی سمجھے جاتے ہیں۔اس تنظیم کے مقاصد نیک تھے اور اچھے تھے جسے مارچ 2025 میں بھارتی حکومت نے اس ایکشن کمیٹی پر 5 سال کی پابندی عائد کر دی تھی۔ بھارتی وزارت داخلہ نے الزام لگایا کہ یہ تنظیم علیحدگی پسندی کی حمایت کرتی ہے بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے بعض عناصر دہشت گردی کی حمایت اور فنڈنگ سے وابستہ ہیں ملکی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف سرگرمیوں میں شامل ہے۔ جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی اور اسکے حامی ان الزامات کو مسترد کرتے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پابندی سیاسی نوعیت کی ہے اور کشمیریوں کی سیاسی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔ اب کہا جاتا ہے کہ بھارت نے وہی کام اپنی فنڈنگ سے آزاد کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بنانے میں کردار ادا کیا ہے انکی مالی مدد کی۔ بظاہر کہا جاتا ہے یہ ایک سیاسی جماعت نہیں ہے مختلف ذرائع کے مطابق یہ اتحاد 2023 میں منظم شکل میں سامنے آیا اور شروع میں مہنگی بجلی، آٹے کی قیمتوں، ٹیکسوں اور دیگر عوامی مسائل کیخلاف تحریک چلانی شروع کی ۔ 2024 میں اسکی احتجاجی تحریک نے پورے آزاد کشمیر میں خاصی توجہ حاصل کی ۔کہا جاتا ہے اسکے مطالبات ابتدائی طور پر بجلی کے نرخ کم کرانا ، آٹے پر سبسڈی دلوانا اور مہنگائی کے خلاف تھے جب کہ یہ وہاں کے مسائل ہی نہیں تھے پھراچانک آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرینِ کشمیر کیلئے مختص 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ شروع کر دیا جس سے یہ بے نقاب ہو گئے۔عوام کو تشدد پر اکسانا شروع کر دیا۔ اسکے نتیجے میں ان پر پابندی جون 2026 میں حکومتِ آزاد کشمیر نے JAAC کو انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت انہیں کالعدم قرار دے دیا گیا۔ سرکاری موقف یہ ہے کہ تنظیم امن و امان کے لیے خطرہ تھی، ریاست میں انتشار پیدا کر رہی تھی ۔سوال یہ ہے کہ جب یہ تنظیم بن رہی تھی سر اٹھا رہی تھی تو اس وقت اداروں کی آنکھیں کیوں بند تھی۔ چلو دیر آید درست آید۔بعض سرگرمیاں ریاستی سلامتی کے خلاف پر تشدد سمجھیں گئیں اور پرتشدد احتجاجی واقعات سے ان کا تعلق تھا۔کہا جاتا ہے ایکشن کمیٹی میں فارن فنڈنگ اور دشمن ملوث ہے۔ ان کا موقف اور اس کے حامیوں کہنا ہے کہ وہ عوامی حقوق، سستی بجلی، آٹے اور مہنگائی پر بات کرتے ہیں جبکہ انکا یہ کہنا درست نہیں آج بھی بجلی آٹا پاکستان سے کئی گنا وہاں سستا عوام کو مل رہا ہے ۔پھر یہ شور کیسا۔ یہ کس کے ایجنڈے کام کر رہے تھے۔ اسکے قصور وار وہ ادارے ہیں جنھوں نے اس عرصے میں آنکھیں بند کئے رکھیں۔ آزاد اسمبلی میں 12 مہاجرینِ جموں و کشمیر نشستوں کی قانونی بنیاد صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974 (Interim Constitution Act, 1974) میں موجود ہے۔آئین کا آرٹیکل 22 آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی تشکیل اور نشستوں کی تقسیم سے متعلق ہے۔ اسی آئینی فریم ورک کے تحت مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مخصوص نشستیں برقرار رکھی گئی ہیں۔ حال ہی میں آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ جس کے سربراہ چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان اورجسٹس خواجہ محمد نسیم اس بنچ کے ممبر تھے۔ایک خوبصورت فیصلہ دیا کہ یہ 12 نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں۔ آرٹیکل 33 سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اگر ان نشستوں کو ختم کرنا، کم کرنا یا ان کی نوعیت تبدیل کرنا ہو تو یہ صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ممکن ہے۔ حکومت یا کسی انتظامی حکم کے ذریعے ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ آرٹیکل 46- A کے 2026 میں آزاد کشمیر حکومت نے اس معاملے پر آئینی تشریح حاصل کرنے کیلئے صدرِ آزاد کشمیر کے ذریعے سپریم کورٹ آزاد کشمیرکو ریفرنس بھیجا تھا، جو آرٹیکل 46-A کے تحت دائر کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اسی ریفرنس پر اپنی رائے اور فیصلہ دیتے ہوئے لکھا کہ سپریم کورٹ کیمطابق ان نشستوں کی بنیادصرف 1974 کے آئین میں نہیں بلکہ 1960، 1964 اور 1970 کے سابقہ قوانین اور آئینی انتظامات میں بھی موجود ہے، جنہیں بعد میں 1974 کے عبوری آئین اور متعلقہ انتخابی قوانین میں شامل رکھا گیا۔ 12 نشستوں کا مقصد ان کشمیری مہاجرین کی نمائندگی تھا جو 1947 اور بعد کے ادوار میں بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر سے ہجرت کرکے پاکستان کے مختلف علاقوں میں آکر آباد ہوئے۔ انکے لیے الگ حلقے بنائے گئے جن سے اسمبلی کے 12 ارکان منتخب ہوتے ہیں۔ اس پر عوامی ایکشن کمیٹی کا موقف یہ تھا کہ چونکہ ان نشستوں کے ووٹر آزاد کشمیر میں مقیم نہیں، اس لیے انہیں آزاد کشمیر کی حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری طرف حکومت اور متعدد آئینی ماہرین کا موقف ہے کہ یہ نشستیں کشمیر تنازع اور مہاجرین کی نمائندگی کی وجہ سے آئینی تحفظ رکھتا ہے۔مہاجرین کی 12 نشستوں کے حق میں میرے بطور وکیل کے یہ دلائل ہیں کہ آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین 1974 میں مہاجرین کی نمائندگی کو تسلیم کیا گیا ہے۔ جب کوئی نشست آئین کا حصہ بن جائے تو اسے صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔دوم یہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے پاکستان کامقف یہ ہے کہ پورا جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے۔ لہٰذا جو کشمیری مختلف ادوار میں ہجرت کرکے پاکستان آئے، وہ بھی ریاست جموں و کشمیر کے باشندے ہیں اور نمائندگی کے حق دار ہیں۔سوم 1960 کی دہائی سے مختلف آئینی اور انتخابی انتظامات میں مہاجرین کو نمائندگی دی جاتی رہی ہے۔ یہ کوئی نئی یا عارضی شق نہیں۔نمبر چار حقِ نمائندگی میں مہاجرین کا مقف ہے کہ ان کی جائیدادیں، خاندان اور قانونی حقوق مقبوضہ کشمیر میں موجود ہیں، اس لیے انہیں سیاسی نمائندگی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔اگریہ نشستیں ختم کرنی ہوں تو قانونی طور پرآزاد کشمیر اسمبلی میں آئینی ترمیمی بل پیش ہوگا۔ آئین میں مقررہ اکثریت سے منظوری درکار ہوگی۔ متعلقہ آئینی دفعات میں ترمیم پھر ہوسکے گی۔سپریم کورٹ کا ممکنہ نقط نظراب تک عدالتی رجحان یہی ہے کہ جب تک آئین میں ترمیم نہیں ہوتی، مہاجرین کی 12 نشستیں آئینی طور پر جائز ہیں۔ عدالت عموما آئین میں درج نشستوں کو انتظامی یا سیاسی بنیادوں پر ختم کرنے کی اجازت نہیں دیتی سوال یہ ہے کہ جب سے یہ ایکشن کمیٹی وجود میں آئی ہے۔ ادارے کیا اس دوران سو رہے تھے۔ اسکے وہ لوگ زمہ دار ہیں جنھوں نے اس عرصے میں آنکھیں بند رکھیں ۔ آج پاکستان کی موجودہ حکومت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دنیا کے ہیرو بن چکے ہیں۔ لہذا دشمن کو تکلیف ہے کہ پاکستان کا نام ایران امریکا جنگ کے خاتمے میں سنہری لفظوں میں کیوں لکھا جا رہا ہے۔ پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرنے میں کیوں کامیاب ہے۔ اسکی بھی دشمن کو تکلیف ہے کہ گلگت کے حالیہ الیکشن خونریزی کے بغیر کیسے ہو گئے۔ پاکستان کا بجٹ کیسے بن گیا۔یہ وہ باتیں ہیں جو دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں ۔دشمن چالاک ہے شاطر ہے عوام کو اداروں کو اس موقع پر آنکھیں کھول کر رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں