بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 28.6°C
Wednesday, 24 June 2026 | پاکستان: 9 محرم 1448

ایران، نئی عالمی طاقتوں کا نظام اور امریکی بالادستی کا زوال!

Wednesday, 24 June, 2026

ایران ، امریکہ ،اسرائیل جنگ نے نئی تاریخ رقم کر دی ،عالمی سیاست کے افق پر بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض وقتی نوعیت کے نہیں ہوتے بلکہ آنے والے عشروں کی سمت متعین کرتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونیوالا ابتدائی معاہدہ بھی بظاہر ایک سفارتی پیشرفت ہے، لیکن اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے اور دور رس ہیں۔ اس معاہدے کو صرف دو ریاستوں کے درمیان تعلقات کے تناظر میں نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری کشمکش کے پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔اس نقطہ نظر کے مطابق یہ معاہدہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ایران شدید دباؤ، اقتصادی پابندیوں، عسکری دھمکیوں اور علاقائی محاذ آرائی کے باوجود نہ صرف اپنی بقا برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ ایک ایسی قوت کے طور پر ابھرا جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ایرانی انقلاب 1979ء سے ہی عالمی سیاست میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے ۔ اس انقلاب نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کی سیاسی حرکیات کو بدل دیا بلکہ امریکی اثر و رسوخ کو بھی چیلنج کیا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران کو اقتصادی پابندیوں، سفارتی تنہائی اور مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا رہا۔ تاہم ایرانی قیادت، ریاستی اداروں اور عوام نے مسلسل مزاحمت کی پالیسی اختیار کی۔ ایران کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ حالیہ پیش رفت دراصل اسی مزاحمت کی کامیابی اور ایران کی سیاسی استقامت کا نتیجہ ہے۔اس نقطہ نظر کے مطابق ایران کے خلاف جاری محاذ آرائی کا مقصد صرف تہران کی پالیسیوں کو تبدیل کرنا نہیں تھا بلکہ ایک وسیع تر جغرافیائی و سیاسی منصوبے کا حصہ تھا۔ اس منصوبے کے تحت روس، چین اور ایران جیسے ممالک کو محدود کر کے دنیا میں امریکی بالادستی کو برقرار رکھنا مقصود تھا۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران عالمی نظام میں آنے والی تبدیلیوں نے یہ ظاہر کیا کہ طاقت کا مرکز آہستہ آہستہ ایک خطے سے دوسرے خطوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ چین کی معاشی ترقی، روس کی عسکری و سفارتی واپسی اور ایران کی مزاحمتی پالیسی نے مل کر ایک نئی عالمی حقیقت کو جنم دیا۔آج “ملٹی پولر ورلڈ” یا کثیر قطبی دنیا کی اصطلاح عالمی مباحث کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ اس تصور کے مطابق دنیا اب کسی ایک سپر پاور کے زیر اثر نہیں رہے گی بلکہ مختلف طاقت کے مراکز وجود میں آئیں گے۔ چین، روس، بھارت، برازیل، جنوبی افریقہ اور ایران جیسے ممالک اس نئے عالمی منظرنامے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایران کے حامیوں کے نزدیک حالیہ معاہدہ اسی تبدیلی کا ایک مظہر ہے جہاں امریکہ کو اپنی سابقہ یکطرفہ پوزیشن سے پیچھے ہٹنا پڑ رہا ہے۔ایرانی قیادت اور بالخصوص پاسدارانِ انقلاب کو اس بیانیے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایرانی عوام اور ریاستی اداروں نے غیر معمولی قربانیاں دے کر ملک کی خودمختاری کا دفاع کیا۔ اقتصادی مشکلات، سیاسی دباؤ اور عسکری خطرات کے باوجود ایرانی معاشرے نے مزاحمت اور استقامت کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو محض ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور انقلابی ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔دوسری جانب امریکہ کی عالمی طاقت کا تصور بھی گزشتہ چند برسوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور بن کر ابھرا۔ عراق، افغانستان اور لیبیا میں مداخلتوں نے اس کی عسکری برتری کو مزید نمایاں کیا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان مہمات کے نتائج نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ طویل جنگوں، بھاری مالی اخراجات اور سیاسی پیچیدگیوں نے امریکی پالیسی سازوں کے لیے نئے چیلنج پیدا کیے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے مختلف خطوں میں امریکہ کی طاقت اور اثر و رسوخ کے بارے میں نئی بحثیں جنم لے رہی ہیں۔ایران کے حامی حلقوں کا خیال ہے کہ حالیہ صورتحال امریکہ کیلئے ایک بڑی سیاسی اور تذویراتی ناکامی کی علامت ہے۔ ان کے مطابق جس قوت نے ماضی میں دنیا کے مختلف حصوں میں حکومتیں تبدیل کیں اور اپنی مرضی کے سیاسی نظام قائم کیے، وہ آج ایران جیسے مزاحمتی ملک کے سامنے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ یہ مؤقف اگرچہ متنازع ہے، لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ عالمی طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔اس پورے عمل میں روس اور چین کا کردار بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک گزشتہ برسوں میں مغربی اثر و رسوخ کے مقابل متبادل سیاسی اور معاشی نظاموں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ توانائی، تجارت، سفارت کاری اور دفاعی تعاون کے میدانوں میں ان کا باہمی اشتراک بڑھتا جا رہا ہے۔ ایران بھی اس ابھرتے ہوئے تعاون کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین حالیہ عالمی تبدیلیوں کو صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی قرار دیتے ہیں۔مستقبل کے حوالے سے دو مختلف امکانات سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ امریکہ نئی عالمی حقیقتوں کو تسلیم کرتے ہوئے دیگر طاقتوں کے ساتھ اشتراک اور توازن کی بنیاد پر تعلقات استوار کرے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھے اور دنیا نئے تنازعات کی طرف بڑھ جائے۔ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ پائیدار استحکام طاقت کے یکطرفہ استعمال سے نہیں بلکہ باہمی احترام، مذاکرات اور تعاون سے حاصل ہوتا ہے۔اس تناظر میں بعض سیاسی مفکرین سرمایہ دارانہ نظام کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان کے نزدیک عالمی معاشی عدم مساوات، جنگی اخراجات اور سماجی بحران ایسے عوامل ہیں جو مستقبل میں بڑی نظریاتی تبدیلیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ کچھ حلقے سوشلسٹ نظریات کی واپسی کو بھی اسی پس منظر میں دیکھتے ہیں۔ اگرچہ ان پیش گوئیوں کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ تاریخ کرے گی، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔پاکستان کے تناظر میں بھی یہ بحث اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں عالمی طاقتوں کے مفادات باہم متصادم ہوتے ہیں۔ اس لیے عالمی نظام میں آنے والی ہر بڑی تبدیلی کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کا ادراک کرے اور اپنی خارجہ پالیسی کو قومی مفادات کے مطابق ترتیب دے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والا ابتدائی معاہدہ صرف ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ عالمی سیاست میں جاری بڑی تبدیلیوں کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ چاہے کوئی اس کی تعبیر ایران کی فتح کے طور پر کرے یا ایک عملی سفارتی ضرورت کے طور پر، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عالمی نظام ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا دنیا واقعی ایک مستحکم نئی طاقتوں کے نظام کی طرف بڑھ رہی ہے یا پھر طاقت کی نئی کشمکشوں کا میدان بننے جا رہی ہے۔ البتہ اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ دور بین الاقوامی سیاست کے ایک نئے باب کا آغاز ہے جس کے اثرات آنے والی نسلیں بھی محسوس کریں گی۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *