اسلامی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہیں جو صرف اپنے زمانے تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ بن جاتے ہیں۔ واقع کربلا انہی عظیم اور لازوال واقعات میں سے ایک ہے۔ یہ صرف ایک جنگ یا سیاسی اختلاف کا نام نہیں بلکہ حق، انصاف، صبر، استقامت اور قربانی کی ایسی داستان ہے جس نے رہتی دنیا تک انسانیت کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا سبق دیا۔ 10 محرم الحرام 61 ہجری کو سرزمینِ کربلا پر پیش آنے والا یہ واقعہ تاریخ اسلام کا ایک اہم باب ہے جس کی یاد آج بھی مسلمانوں کے دلوں میں تازہ ہے۔رسول اکرم ۖ کے وصال کے بعد اسلامی ریاست مختلف ادوار سے گزری۔ خلافتِ راشدہ کے بعد اموی حکومت قائم ہوئی۔ جب امیرمعاویہ بن ابوسفیان کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے یزید بن معاویہ کو حکمران مقرر کیا گیا۔ یزید نے اپنی حکومت کے استحکام کیلئے مسلمانوں کی اہم شخصیات سے بیعت کا مطالبہ کیا۔ ان شخصیات میں سب سے نمایاں نام امام حسین بن علی کا تھا، جو رسول اللہ ۖ کے نواسے، حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت فاطمہ الزہرا کے فرزند تھے۔امام حسین نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا کیونکہ ان کے نزدیک خلافت کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عدل، دیانت اور اسلامی اصولوں کا نفاذ تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ یزید کی طرزِ حکومت اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتی، اس لیے خاموشی اختیار کرنا حق کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔ چنانچہ آپ نے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔اسی دوران اہلِ کوفہ نے امام حسین کو بے شمار خطوط لکھے اور انہیں کوفہ آنے کی دعوت دی۔ لوگوں نے یقین دلایا کہ وہ آپ کا ساتھ دیں گے اور ظلم کے خلاف آپ کی حمایت کریں گے۔ ان حالات میں امام حسین نے اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجا تاکہ وہاں کے حالات کا جائزہ لیا جا سکے۔ ابتدا میں اہلِ کوفہ نے مسلم بن عقیل کی بھرپور حمایت کی، لیکن بعد ازاں حکومتی دباؤ اور خوف کے باعث اکثر لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ مسلم بن عقیل کو گرفتار کر کے شہید کر دیا گیا۔امام حسین کو جب اس صورتِ حال کی خبر ملی تو وہ راستے میں تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے سفر کو جاری رکھا کیونکہ وہ حق اور اصول کے راستے سے پیچھے ہٹنے کو مناسب نہیں سمجھتے تھے۔ بالآخر 2 محرم 61 ہجری کو آپ اپنے اہلِ خانہ اور چند جانثار ساتھیوں کے ساتھ کربلا کے میدان میں پہنچے جہاں حکومتی لشکر نے ان کا محاصرہ کر لیا۔کربلا میں امام حسین کے قافلے کی تعداد بہت کم تھی جبکہ مخالف فوج ہزاروں افراد پر مشتمل تھی۔ محاصرے کے دوران دریائے فرات سے پانی حاصل کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ شدید گرمی اور پیاس کے باوجود امام حسین اور ان کے ساتھیوں نے صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ بچوں، خواتین اور بزرگوں نے بھی ان سخت حالات کا بڑی ہمت سے سامنا کیا۔10 محرم الحرام، جسے یومِ عاشورا کہا جاتا ہے، فیصلہ کن دن ثابت ہوا۔ امام حسین کے جانثار ساتھی یکے بعد دیگرے میدانِ جنگ میں اترے اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کا رتبہ حاصل کرتے گئے۔ آپ کے خاندان کے نوجوانوں نے بھی بے مثال قربانیاں دیں۔ حضرت عباس بن علی، علی اکبر بن حسین اور دیگر اہلِ بیت نے حق کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیں۔ حتیٰ کہ چھ ماہ کے معصوم علی اصغر بن حسین بھی اس سانحے کا حصہ بنے۔آخرکار امام حسین تنہا رہ گئے۔ آپ نے انتہائی بہادری اور استقامت کے ساتھ مقابلہ کیا اور پھر شہادت کا جام نوش کیا۔ آپ کی شہادت کے بعد اہلِ بیت کی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا اور انہیں کوفہ اور دمشق لے جایا گیا۔ اس طرح بظاہر ایک چھوٹا سا قافلہ عسکری اعتبار سے شکست کھا گیا، لیکن اخلاقی اور روحانی اعتبار سے وہ ہمیشہ کے لیے فاتح قرار پایا۔واقع کربلا کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس نے یہ ثابت کر دیا کہ حق کی خاطر قربانی دینا ہی اصل کامیابی ہے۔ امام حسین نے اقتدار، دولت یا ذاتی مفاد کے لیے جدوجہد نہیں کی بلکہ اصولوں اور انصاف کی سربلندی کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ اگر وہ چاہتے تو مصالحت یا خاموشی اختیار کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے یہ مثال قائم کی کہ ظلم کے سامنے سر جھکانا انکی شان نہیں۔کربلا کا پیغام صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق اور سچائی کے راستے پر چلنے کے لیے مشکلات، قربانیوں اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن اصولوں پر ثابت قدم رہنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں مختلف مذاہب اور اقوام کے لوگ بھی امام حسین کی قربانی کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔آج چودہ سو برس گزر جانے کے باوجود واقع کربلا انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ محرم الحرام کے دنوں میں مسلمان امام حسین اور ان کے رفقا کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں، ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور ان کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ کربلا ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ طاقت اور جبر وقتی ہو سکتے ہیں، لیکن حق، عدل اور سچائی ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسین کا نام آج بھی عزت، حریت، استقامت اور قربانی کی علامت ہے اور رہتی دنیا تک انسانوں کو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتا رہے گا۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں