نائجیریا کی ایک وفاقی عدالت نے کوکین سمگلنگ کے جرم میں ١١ بھارتی ملاحوں اور ان کے مرچنٹ بحری جہاز کو6 ملین ڈالر کی سزا سنائی ہے۔ ان افراد کو نائیجیریا کی نیشنل ڈرگ لاء انفورسمنٹ ایجنسی نے گرفتار کیا تھا۔اس ہائی پروفائل سمگلنگ کیس اور عدالتی کارروائی کی اہم تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ حکام نے لاگوس کی آپاپا بندرگاہ پر کارروائی کرتے ہوئے اس بحری جہاز کے ہول سے اکتیس اعشاریہ پانچ کلو گرام کوکین برآمد کی تھی۔یہ منشیات مارشل آئی لینڈز سے نائیجیریا لائی گئی تھی، جس پر جہاز کے کپتان اور دیگر عملے کے ارکان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ لاگوس کی فیڈرل ہائی کورٹ نے پلی بارگین کے تحت ملزمان اور جہاز پر مجموعی طور پر تقریباً6 ملین ڈالر کے بھاری جرمانے عائد کیے ہیں۔ جہاز کے مالکان کوپانچ اعشاریہ تین ملین ڈالر کی ادائیگی کا حکم دیا گیا۔ تین اہم ترین افسران پر فی کس ١ لاکھ ڈالر، جبکہ باقی عملے پر پچاس ہزار ڈالر فی کس جرمانہ عائد کیا گیا۔ ہر ملزم کو نائیجیریا کی مقامی کرنسی میں بھی جرمانہ ادا کرنا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت دوسروں پر الزام تراشی میں مصروف، جبکہ خود منشیات اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے بحران سے دوچار ہے۔ملاحوں میں کپتان شرما ششی بھوشن سمیت دس دیگر افراد (بھارتی منوج کمار، نیواگے سندیش سریش، پانڈے پرشانت، نٹو آنند، آکاش بابو، نیلیش مکنو بھالیراد، میلیتھل انصاف رحمان، بارلا چیتنیا کرشنا، پربھاسوکھن سنگو اور جے پرکاش) شامل تھے، جنہیں دوجنوری دوہزارچھبیس کو نائیجیریا کی نیشنل ڈرگ لا انفورسمنٹ ایجنسی نے گرفتار کیا ۔ عدالت نے اپنا فیصلہ گیارہ تا بارہ جون دوہزارچھبیس کے دوران سنایا۔بھارت ہیروئن، بھنگ، میتھ ایمفیٹامین اور کوکین سمیت مختلف منشیات کی ترسیل اور سہولت کاری کا ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے، جبکہ بحرِ ہند کے بحری راستوں کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے ۔بھارت کے نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے دوہزارپچیس میں ایک سوتینتیس اعشاریہ نوسوپینسٹھ کلوگرام منشیات ضبط کیں جن کی مالیت تقریباً دوہزار کروڑ بھارتی روپے تھی۔ضبط شدہ منشیات میں سے ستتر اعشاریہ سات سوتہتر کلوگرام کو تلف کیا گیا۔بندرگاہوں اور سمندری راستوں پر منشیات کی بڑی کھیپوں کی ضبطگی مسلسل سامنے آ رہی ہے، جبکہ ڈارک نیٹ نیٹ ورکس کیخلاف کارروائیاں بھی جاری رہیں ۔ این ڈی پی ایس مقدمات اور گرفتاریاں مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں۔ صرف شمال مشرقی اور مشرقی علاقوں میں ریاست آسام میں حالیہ برسوں کے دوران بارہ اعشاریہ پانچ سوپچپن سے زائد این ڈی پی ایس مقدمات درج کیے گئے۔منی پور ہیروئن اسمگلنگ کا ایک نمایاں مرکز بن کر ابھرا ہے ۔ دوہزارچھبیس کے دوران شمال مشرقی علاقوں میں این سی بی کی کارروائیوں میں میتھ ایمفیٹامین اور ہیروئن کی بڑی مقداریں ضبط کی گئیں اور درجنوں نئے مقدمات درج ہوئے۔افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا اور بھارتی سمندری حدود میں تجارتی اور ماہی گیری کے جہازوں پر بھارتی عملے کے افراد کو کوکین، ہیروئن اور میتھ ایمفیٹامین اسمگلنگ سے جوڑے جانے کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔بھارتی سمندری حدود میں انڈمان و نکوبار کے قریب کئی ٹن میتھ ایمفیٹامین اور گجرات میں ہیروئن کی بڑی کھیپ ضبط کی جا چکی ہیں۔منشیات اسمگلنگ میں ملوث بھارتی شہریوں کو بیرون ملک سخت سزاؤں، حتیٰ کہ جنوب مشرقی ایشیا میں ممکنہ سزائے موت، کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اکثر حوالہ دی جانے والی ایک نمایاں مثال گجرات کی اڈانی کے زیرِ انتظام منڈرا بندرگاہ پر ریکارڈ ہیروئن ضبطگی کا واقعہ ہے۔ستمبر دوہزاراکیس میں بھارت کے ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس نے ایران اور افغانستان سے آنیوالے کنٹینرز میں چھپائی گئی ۔ اس کھیپ کی مالیت تقریباً اکیس ہزارکروڑ بھارتی روپے تھی، جو بھارت کی تاریخ کی سب سے بڑی منشیات ضبطگیوں میں سے ایک تھی۔نائجیریا کے حکام نے بھی اس نوعیت کے متعدد سابقہ واقعات کی نشاندہی کی ہے جن میں غیر ملکی عملہ ملوث تھا۔ یہ واقعات بھارتی بحری سرگرمیوں سے وابستہ عملے کی جانچ پڑتال، جہازوں کی نگرانی اور ریگولیٹری نظام میں موجود خامیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس اکثر مشترکہ راستوں، ساحلی آبادیوں، تارکین وطن اور بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔بھارت انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے ماخذ، راہداری اور منزل تینوں حیثیتیں رکھتا ہے، جہاں جبری مشقت، جنسی استحصال اور قرضی غلامی کے واقعات پائے جاتے ہیں جبکہ خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق اپریل دوہزارتئیس سے مارچ دوہزارچوبیس کے درمیان کم از کم تین سوسولہ انسانی اسمگلنگ تحقیقات کی گئیں۔مقدمات کے مقابلے میں سزاؤں اور کامیاب استغاثہ کی شرح نسبتاً کم رہی۔ سول سوسائٹی اور دیگر رپورٹس کے مطابق سالانہ سینکڑوں تحقیقات ہوتی ہیں لیکن سزا کی شرح اکثر بیس تاتیس فیصد سے کم جبکہ بریت کی شرح بلند رہتی ہے ۔ مغربی بنگال، راجستھان اور گجرات تاریخی طور پر انسانی اسمگلنگ کے زیادہ واقعات رپورٹ کرنے والی ریاستیں رہی ہیں۔بچوں کی اسمگلنگ اب بھی ایک سنگین مسئلہ ہے جو جبری مشقت، جنسی استحصال اور لاپتہ بچوں کے کیسز سے جڑا ہوا ہے۔دستیاب معلومات کے مطابق مسئلہ وسیع پیمانے پر موجود ہے، اگرچہ دوہزارپچیس۔ چھبیس کی جامع قومی رپورٹس مکمل طور پر دستیاب نہیں تھیں۔سرحد پار انسانی اسمگلنگ میں اکثر نیپال، بنگلہ دیش اور بحری یا ہجرتی راستے شامل ہوتے ہیں، جو بعض اوقات منشیات اسمگلنگ کے راستوں سے بھی منسلک ہوتے ہیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں