بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 26.8°C
Saturday, 11 July 2026 | پاکستان: 26 محرم 1448

بھارت کی بین الاقوامی دہشت گردی

Saturday, 11 July, 2026

امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور یورپ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انڈیا سے تعلق رکھنے والے جرائم پیشہ 24 افراد کو گرفتار کیا ہے، ان افراد پربھارت میں قائم تین بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں سے تعلق رکھنے کا الزام ہے۔ ان گروہوں پر کئی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے جن میں 2023 میں کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں ایک گرودوارے کے باہر سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کی مبینہ سازش کا معاملہ بھی شامل ہے۔لاس اینجلس میں وفاقی استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں کئی برس پر محیط ایک تفتیش کے نتیجے میں عمل میں آئیں، جس میں انڈین جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا جائزہ لیا گیا۔ ان نیٹ ورکس پر ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور منشیات کی سمگلنگ کے الزامات ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں لارنس بشنوئی گینگ کے ارکان بھی شامل ہیں۔ اس گینگ کے بھارت سے روابط بتائے جاتے ہیں۔ ایف بی آئی کے لاس اینجلس فیلڈ آفس کے انچارج اسسٹنٹ ڈائریکٹر پیٹرک گرانڈی نے کہا کہ یہ کارروائی تین ایسے بین الاقوامی گروہوں کے خلاف کی گئی ہے جن پر امریکہ اور دیگر ممالک میں تشدد کے ذریعے لوگوں کو خوفزدہ کرنے کا الزام ہے۔ منظر عام پر آنے والی تین فردِ جرموں میں مجموعی طور پر 37 افراد پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان میں دو ایسے افراد بھی شامل ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ بھارت میں قید ہونے کے باوجود اپنے جرائم پیشہ نیٹ ورکس چلا رہے تھے۔ حکام 10 مفرور افراد کی تلاش بھی کر رہے ہیں جن میں ممکنہ طور پر سات امریکہ، دوبھارت اور ایک یورپ میں موجود ہے ۔ فرسٹ اسسٹنٹ امریکی اٹارنی بل ایسلے نے کہا کہ ‘خوف، منشیات اور تشدد پھیلانے والے بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کو قانون کی پوری طاقت اور وفاقی حکومت کے مکمل اختیارات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بشنوئی نے اسمگل کیے گئے موبائل فونز کے ذریعے بھارتی جیل سے کارروائی کی ہدایات دیں اور ایک ساتھی کو ہردیپ سنگھ نجر کی تصویر اور متعدد پتے فراہم کیے۔ یہ فرد جرم ایک بڑے بین الاقوامی آپریشن کا حصہ ہے، جس میں امریکا، کینیڈا اور یورپ کی ایجنسیوں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 37 ملزمان کو گرفتار کیا۔یہ ملزمان مبینہ طور پر اغوا، بھتہ خوری، اسلحے اور منشیات کی اسمگلنگ اور قتل جیسے جرائم میں ملوث 3 بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے ہیں۔خیال رہے کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد کینیڈا اور بھارت کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور اْس وقت کے کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی حکومت کے ملوث ہونے کے ‘قابلِ اعتبار شواہد’ موجود ہیں۔ ہردیپ سنگھ نِجر انڈیا کو کئی کیسوں میں مطلوب تھے کیونکہ وہ بھارت کی مغربی ریاست پنجاب میں ایک علیحدہ سکھ ریاست کے حامی تھے اور وہ دنیا بھر میں اس کی حمایت میں آن لائن ریفرینڈم میں پیش پیش رہتے تھے۔نجر کو تین سال قبل دو نقاب پوش حملہ آوروں نے وینکوور سے تقریباً 30 کلومیٹر مشرق میں سرے کے گرو نانک سکھ گوردوارے کی مصروف پارکنگ میں انھی کی کار میں گولی مار کرہلاک کیا گیا تھا۔نجر نے ایک آزاد سکھ ریاست خالصتان کے لیے تحریک چلائی تھی اور جولائی 2020 میں بھارت نے انھیں ‘دہشت گرد’ قرار دیا تھا اور ان کی گرفتاری کیلئے 10 لاکھ روپے کی انعامی رقم رکھی گئی تھی۔امریکا میں مجرمانہ سرگرمیوں کیخلاف کارروائیوں کے دوران مزید بھارتی شہریوں کی گرفتاری سامنے آئی ہے جس کے بعد امریکی حکام نے ان کے خلاف ملک بدری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ گرفتار ہونے والے بھارتی شہری کی شناخت جسکرن سنگھ کے نام سے ہوئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق انفورسمنٹ اینڈ ریموول آپریشنز نے کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص مختلف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا جس کے باعث اس کیخلاف قانونی کارروائی کی گئی ۔ امریکی حکام کے مطابق جسکرن سنگھ کو ”کرمنل ایلین” قرار دیا گیا ہے اور اس کے خلاف حتمی طور پر ملک بدری کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ ایسے افراد کے خلاف کارروائی امریکی قوانین کے مطابق کی جاتی ہے اور انہیں ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔عالمی امور کے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک میں منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس سرگرم ہو رہے ہیں جو سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ان نیٹ ورکس کے خلاف مربوط اور مؤثر عالمی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں دیگر ممالک کو بھی سیکیورٹی کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے واقعات کی مکمل تحقیقات اور بین الاقوامی سطح پر تعاون انتہائی ضروری ہے تاکہ منظم جرائم کے نیٹ ورکس کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکے اور عالمی سطح پر سیکیورٹی کو درپیش خطرات کم کیے جا سکیں۔ مودی سرکار کی سرپرستی میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہوگیا۔بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی “را” ریاستی سرپرستی میں پاکستان سمیت مختلف ممالک میں دہشت گردی پھیلانے میں سرگرم رہی ہے، جبکہ بھارتی دہشتگردی اوراسکے زیرِ سایہ فتنہ الہندوستان کو بھارتی فنڈنگ کے متعدد ناقابل تردید شواہد عالمی منظر نامہ پر پہلے ہی آشکار ہو چکے ہیں۔پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث بھارتی خفیہ ایجنسی را کے افسر کلبھوشن یادو بھی بھارتی دہشت گردی کا برملا اعتراف کر چکا ہے، بھارتی مشیر برائے قومی سلامتی اجیت دوول بارہا بلوچستان کو توڑنے کی کھلے عام دھمکی دے چکا ہے۔بلوچستان سے گرفتار دہشت گردوں نے بھی بھارت کی جانب سے مالی، تربیتی اور انٹیلی جنس معاونت کی فراہمی سے متعلق ہوشربا انکشافات کیے ، جس میں کینیڈا ، امریکا اور دیگر ممالک میں بھارتی ریاستی سرپرستی میں سکھ رہنماؤں کے بہیمانہ قتل بھی بھارتی ریاستی دہشتگردی کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان بارہا بھارتی ریاستی سرپرستی میں پھیلائی جانے والی دہشت گردی کے ناقابل تردید شواہد اقوام عالم کے سامنے رکھ چکا ہے، تاہم بھارت بیرون ممالک دہشت گردی اور خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کیلئے منظم حکمتِ عملی کے تحت مہم سازی کر رہا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *