تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ وہی قومیں ترقی، استحکام اور خوشحالی کی منازل طے کرتی ہیں جو اپنی انسانی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرتی ہیں۔ ان صلاحیتوں میں خواتین کا کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ایک تعلیم یافتہ، باوقار اور بااختیار خاتون نہ صرف ایک مضبوط خاندان کی بنیاد رکھتی ہے بلکہ ایک مستحکم معاشرے اور ترقی یافتہ ریاست کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی شمولیت کو ترقی کے بنیادی ستونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی نویں وزارتی کانفرنس، جس کی میزبانی پاکستان کو حاصل ہے، اسی حقیقت کی عکاس ہے کہ مسلم دنیا خواتین کی صلاحیتوں کو قومی ترقی کا لازمی حصہ سمجھتے ہوئے ایک مشترکہ اور مثر حکمت عملی اختیار کرنا چاہتی ہے۔اسلام آباد میں منعقد ہونے والی یہ اہم کانفرنس محض ایک سفارتی اجتماع نہیں بلکہ مسلم دنیا کے مشترکہ مستقبل کے حوالے سے ایک سنجیدہ مکالمہ بھی ہے۔ اس میں رکن ممالک خواتین کو درپیش سماجی، معاشی اور انتظامی چیلنجز کا جائزہ لیں گے اور ایسے عملی اقدامات پر غور کریں گے جن کے ذریعے خواتین کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ یہ کانفرنس اس امر کی بھی مظہر ہے کہ او آئی سی ممالک پائیدار ترقی کے سفر میں خواتین کے کردار کو مزید مضبوط اور مثر بنانا چاہتے ہیں۔ تعلیم خواتین کو بااختیار بنانے کی پہلی اور سب سے اہم سیڑھی ہے۔ جب ایک بچی معیاری تعلیم حاصل کرتی ہے تو اس کے اثرات صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خاندان اور آنے والی نسلیں اس سے مستفید ہوتی ہیں۔ تعلیم شعور پیدا کرتی ہے، اعتماد بخشتی ہے اور معاشی خودمختاری کی راہیں ہموار کرتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ او آئی سی کے تمام رکن ممالک لڑکیوں کی تعلیم، سائنسی تحقیق، فنی مہارتوں اور جدید علوم تک رسائی کو اپنی قومی ترجیحات میں شامل رکھیں تاکہ مسلم دنیا علم و تحقیق کے میدان میں مزید آگے بڑھ سکے۔ معاشی خودمختاری خواتین کے باوقار مستقبل کی بنیاد ہے۔ جب خواتین کو روزگار، کاروبار، سرمایہ کاری، مالیاتی خدمات اور ہنرمندی کے مساوی مواقع حاصل ہوتے ہیں تو نہ صرف ان کے خاندانوں کی زندگی بہتر ہوتی ہے بلکہ قومی معیشت بھی مضبوط ہوتی ہے۔ آج دنیا کی کئی کامیاب معیشتیں خواتین کی فعال معاشی شرکت کو اپنی ترقی کا اہم سبب قرار دیتی ہیں۔ او آئی سی ممالک بھی اگر خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دیں، انہیں آسان مالی سہولیات اور جدید تربیت فراہم کریں تو مسلم دنیا کی اقتصادی ترقی میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔سیاسی اور انتظامی شعبوں میں خواتین کی شرکت بھی جدید طرز حکمرانی کا اہم تقاضا ہے۔ فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی موجودگی سے پالیسیاں زیادہ متوازن، جامع اور عوامی ضروریات سے قریب تر ہوتی ہیں۔ مسلم دنیا میں بے شمار خواتین نے سیاست، تعلیم، سائنس، طب، قانون اور انتظامی امور میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ان کامیابیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تو خواتین قومی تعمیر میں مردوں کے شانہ بشانہ نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔جدید دور میں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور اختراع ترقی کی نئی سمتیں متعین کر رہے ہیں۔ ایسے میں خواتین کی ان شعبوں میں مثر شمولیت ناگزیر ہے۔ ڈیجیٹل تعلیم، آن لائن کاروبار، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، تحقیق اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں خواتین کی بھرپور شرکت نہ صرف انفرادی ترقی بلکہ قومی مسابقت کو بھی مضبوط بنائے گی۔ او آئی سی ممالک اس میدان میں مشترکہ تربیتی پروگرام، تعلیمی تبادلے اور تحقیقی منصوبوں کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔اگرچہ مسلم دنیا میں خواتین کی ترقی کے حوالے سے مختلف ممالک نے اہم پیش رفت کی ہے، تاہم بعض معاشروں میں اب بھی سماجی رویے، معاشی مشکلات اور بعض دیگر رکاوٹیں خواتین کی صلاحیتوں کے مکمل اظہار میں حائل ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے مربوط قانون سازی، مثر عمل درآمد، معیاری تعلیم، سماجی شعور اور مثبت رویوں کے فروغ کی ضرورت ہے۔ اسلامی تعلیمات بھی خواتین کی عزت، وقار، تعلیم اور معاشرتی احترام پر زور دیتی ہیں، اس لیے مسلم معاشروں میں ان اقدار کو مزید فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اس اہم وزارتی کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ موقع پاکستان کی فعال سفارت کاری، مسلم دنیا کے ساتھ مضبوط تعلقات اور خواتین کی ترقی کے لیے اس کے عزم کا مظہر ہے۔ گزشتہ برسوں میں خواتین کی تعلیم، صحت، ہنرمندی، مالی شمولیت اور کاروباری مواقع کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جنہیں مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ کانفرنس پاکستان کو یہ موقع بھی فراہم کرے گی کہ وہ اپنے تجربات سے دیگر رکن ممالک کو آگاہ کرے اور ان کے کامیاب ماڈلز سے بھی استفادہ کرے۔اس کانفرنس کا ایک اہم پہلو رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم بنانا بھی ہے۔ تجربات کا تبادلہ، مشترکہ تحقیق، تعلیمی روابط، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پالیسی سازی میں اشتراک ایسے اقدامات ہیں جو خواتین کی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔ اگر او آئی سی کے پلیٹ فارم سے ایک مثر اور قابلِ عمل روڈ میپ سامنے آتا ہے تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف خواتین بلکہ پورے مسلم معاشرے پر مرتب ہوں گے۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف صنفی مساوات کا تقاضا نہیں بلکہ پائیدار ترقی کی بنیادی شرط ہے۔ ایک بااختیار خاتون بہتر خاندان، مضبوط معیشت، صحت مند معاشرے اور روشن مستقبل کی ضمانت بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں ترقی کے تمام بڑے منصوبوں میں خواتین کی شمولیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں