بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 26.8°C
Saturday, 11 July 2026 | پاکستان: 26 محرم 1448

پانی: آنیوالی جنگوں کا اصل سبب یا آج کی غفلت کا نتیجہ؟

Saturday, 11 July, 2026

دنیا میں اگر کسی نعمت کو زندگی کی بنیاد قرار دیا جائے تو وہ پانی ہے۔ انسان، حیوان، نباتات، زراعت، صنعت، معیشت اور تہذیب، سب کی بقا پانی سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ “اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔” اس حقیقت کے باوجود آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، اقتصادی استحکام، سفارتی تعلقات اور انسانی بقا کا سب سے اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ اگر پانی کے وسائل کو محفوظ نہ بنایا گیا، انہیں منصفانہ انداز میں استعمال نہ کیا گیا اور ضیاع کو نہ روکا گیا تو آئندہ دہائیوں میں دنیا کے بڑے تنازعات تیل یا معدنیات پر نہیں بلکہ پانی پر ہوں گے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کا بحران تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے۔ آزادی کے وقت ملک میں فی کس پانی کی دستیابی ہزاروں مکعب میٹر تھی، مگر آبادی میں غیر معمولی اضافے، آبی ذخائر کی کمی، ناقص منصوبہ بندی، موسمیاتی تبدیلی اور پانی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے باعث یہ مقدار مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان پانی کی قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں یہ بحران صرف زرعی شعبے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ شہری زندگی، صنعت، توانائی، صحت اور قومی معیشت کو بھی شدید متاثر کرے گا۔ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ لاکھوں خاندانوں کا روزگار کھیتوں اور فصلوں سے جڑا ہوا ہے، لیکن جب پانی کی فراہمی غیر یقینی ہو جائے تو سب سے پہلے کسان متاثر ہوتا ہے۔ نہری نظام میں پانی کی کمی، زیر زمین پانی کی بے دریغ نکاسی، بارشوں کے غیر متوازن نظام اور جدید آبپاشی کے طریقوں سے دوری نے زرعی پیداوار پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ گندم، چاول، کپاس اور گنے جیسی اہم فصلیں مناسب پانی نہ ملنے کے باعث متاثر ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کبھی شدید بارشیں اور تباہ کن سیلاب آتے ہیں، تو کبھی طویل خشک سالی پورے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ شمالی علاقوں کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے ابتدائی طور پر پانی کی مقدار میں اضافہ محسوس ہوتا ہے، مگر طویل مدت میں یہی صورتحال دریاوں کے بہا میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ ایک طرف سیلاب اربوں روپے کا نقصان پہنچاتے ہیں اور دوسری طرف بارش کا یہی پانی مناسب ذخیرہ نہ ہونے کے باعث سمندر میں جا گرتا ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس سے بچنے کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں پانی کے ذخائر نہایت محدود ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی ضرورت کے مطابق بڑے اور درمیانے درجے کے ڈیم تعمیر کیے، بارش کے پانی کو محفوظ کیا اور مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کی، جبکہ ہمارے ہاں کئی منصوبے سیاسی اختلافات، انتظامی سستی یا وسائل کی کمی کی نذر ہوتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر سال قیمتی پانی سمندر میں چلا جاتا ہے اور خشک موسم میں قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پانی کا ضیاع بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ شہروں میں ٹوٹی ہوئی پائپ لائنیں، غیر قانونی کنکشن، کھلے نل، گاڑیاں دھونے میں بے دریغ پانی کا استعمال اور گھریلو سطح پر لاپروائی روزانہ لاکھوں گیلن پانی ضائع کر دیتی ہے۔ دیہی علاقوں میں بھی روایتی آبپاشی کے ایسے طریقے استعمال ہوتے ہیں جن میں پانی کی بڑی مقدار ضائع ہو جاتی ہے۔ اگر جدید ڈرپ اور اسپرنکلر آبپاشی جیسے نظام اپنائے جائیں تو پانی کی بچت کے ساتھ زرعی پیداوار میں بھی اضافہ ممکن ہے۔یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پانی صرف ماحولیات یا زراعت کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ بھی بن چکا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں دریاں کے پانی پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ اپنے آبی وسائل کے تحفظ، مثر سفارت کاری، بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری اور اندرونی انتظامی اصلاحات پر بھرپور توجہ دے، کیونکہ پانی کی ایک ایک بوندز مستقبل میں قیمتی سرمایہ ثابت ہوگی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، ماہرین، تعلیمی ادارے، میڈیا، مذہبی رہنما اور عام شہری سب مل کر پانی بچانے کی قومی تحریک شروع کریں۔ اگر آج ہم نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی، کیونکہ انہیں ورثے میں سرسبز کھیت، بہتے دریا اور صاف پانی نہیں بلکہ خشک زمین، پیاس اور بحران ملے گا۔پانی کے بحران کا ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے پانی کی حفاظت کو انفرادی ذمہ داری کے بجائے صرف حکومتی ذمہ داری سمجھ لیا ہے، حالانکہ دنیا کے وہ ممالک جو آج پانی کے بہترین انتظام کی مثال بنے ہوئے ہیں، وہاں حکومت کے ساتھ ساتھ ہر شہری بھی اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ گھروں میں پانی کی بچت، بارش کے پانی کو محفوظ کرنا، غیر ضروری استعمال سے گریز، درخت لگانا اور پانی کے بارے میں شعور پیدا کرنا ایک قومی ثقافت بن چکا ہے۔ پاکستان میں بھی یہی سوچ پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ اگر ہر شہری روزانہ چند لیٹر پانی بھی ضائع ہونے سے بچا لے تو مجموعی طور پر لاکھوں گیلن پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔پانی کی آلودگی بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صنعتی فضلہ، کیمیائی مادے، گندے نالوں کا پانی، اسپتالوں کا فضلہ اور گھریلو سیوریج بغیر مناسب صفائی کے دریاں، نہروں اور جھیلوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف پینے کا صاف پانی ناپید ہوتا جا رہا ہے بلکہ مختلف بیماریاں بھی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اور دیگر آبی امراض ہر سال ہزاروں افراد کو متاثر کرتے ہیں۔ صاف پانی تک رسائی صرف اہل سہولت نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور اس حق کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری بھی ہے۔لثہمارے شہروں میں زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں بورنگ کے ذریعے مسلسل پانی نکالا جا رہا ہے، لیکن زمین میں دوبارہ پانی جذب ہونے کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر نئی تعمیر، ہر پختہ سڑک اور ہر کنکریٹ کا جنگل بارش کے پانی کو زمین میں اترنے سے روکتا ہے۔ اگر بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے جدید نظام ہر سرکاری اور نجی عمارت میں لازمی قرار دیے جائیں تو زیر زمین پانی کی سطح کو بہتر بنانے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ اگر بچوں کو ابتدائی جماعتوں سے ہی پانی کی اہمیت، اس کی بچت اور ماحول کے تحفظ کا شعور دیا جائے تو آنے والی نسلیں اس قومی اثاثے کی قدر کرنا سیکھیں گی۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ صرف پانی کے بحران پر خبریں نشر کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ مسلسل آگاہی مہم چلائے تاکہ ہر فرد اس مسئلے کی سنگینی کو محسوس کرے۔پاکستان میں پانی کے انتظام کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ مانیٹرنگ، ڈیجیٹل واٹر مینجمنٹ، اسمارٹ آبپاشی اور جدید سرویلنس سسٹم کے ذریعے پانی کے ضیاع کو کم کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک ان طریقوں سے نہ صرف پانی کی بچت کر رہے ہیں بلکہ زرعی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ کر چکے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ روایتی طریقوں کے ساتھ جدید سائنسی حل اپنائے جائیں۔یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پانی کا بحران صرف مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہے۔ ملک کے کئی دیہی علاقوں میں لوگ آج بھی میلوں دور سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ بعض شہروں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ایک خواب بن چکی ہے۔ اگر صورتحال یہی رہی تو آبادی میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی صنعتی ضروریات اس بحران کو مزید سنگین بنا دیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ نئے آب ذخائر کی تعمیر، پرانے ڈیموں اور نہروں کی بحالی، پانی چوری کی روک تھام، واٹر ری سائیکلنگ، جدید آبپاشی، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور پانی سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو قومی ترجیح بنائے۔ اسی طرح ہر شہری کو بھی اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی، کیونکہ صرف حکومتی منصوبے اس مسئلے کا مکمل حل نہیں دے سکتے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ ہماری زندگی، معیشت، زراعت، صحت اور قومی سلامتی کی بنیاد ہے۔ اگر ہم نے آج پانی کی قدر نہ کی، اس کے ضیاع کو نہ روکا اور اس کے تحفظ کے لیے اجتماعی کردار ادا نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر یاد کریں گی جس کے پاس قدرت کی عظیم نعمت موجود تھی، مگر اس نے اپنی غفلت، نااہلی اور بے احتیاطی کے باعث اسے کھو دیا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم پانی کو قومی امانت سمجھیں، اس کی ہر بوند کی حفاظت کریں اور ایسی پالیسیاں اختیار کریں جو پاکستان کو ایک محفوظ، سرسبز اور خوشحال مستقبل کی طرف لے جائیں۔ یہی دانشمندی ہے، یہی قومی ذمہ داری ہے اور یہی آنے والی نسلوں کے ساتھ ہمارا حقیقی انصاف ہوگا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *