اقلیتوں پر بڑھتے مظالم نے نام نہاد عالمی رہنما کے دعویدار مودی کی بین الاقوامی حیثیت کو مٹی میں ملا دیا۔ مودی کے دورہ آسٹریلیا سے قبل ہی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مودی کے اقلیتوں پر بدترین مظالم کیخلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ آسٹریلیا میں مودی کی آمد کے چند گھنٹوں بعد ہی آسٹریلوی شہری نے ہوٹل میں داخل ہو کر نعرے بازی شروع کر دی۔ آسٹریلوی باشندے نے مودی کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ آسٹریلیا ہے، ہمیں مزید بھارتی نہیں چاہیے، یہ ملک آسٹریلوی شہریوں کیلئے ہے۔ مظاہرین نے محکمہ داخلہ کے دفتر سے مارچ کرتے ہوئے ریلی نکالی اور تقریب میں شرکت کیلئے آنے والے افراد کے خلاف نعرے بازی کی، سکھ فار جسٹس کے رہنما گرمیندر سنگھ نے مودی کی جانب تو اس مظاہرے کو بھارتی اقلیتوں کیخلاف استعمال ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں “بھارتی دراندازی بند کرو” اور “مودی واپس جاؤ” جیسے بینرز موجود تھے، مودی کے دورہ آسٹریلیا کے دوران انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج نے بھارت میں اقلیتوں پر بربریت کا اصلی چہرہ دکھا دیا۔ مودی کے خلاف دنیا بھر میں بڑھتی مزاحمت نے مودی کے عالمی رہنما کا مضحکہ خیز دعویٰ زمیں بوس کر دیا۔احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات پر عالمی سطح پر سنجیدہ توجہ دی جانی چاہیے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق سے متعلق معاملات کو بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھایا جائے۔واضح رہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں ماضی میں بھی تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں جبکہ بھارتی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتی ہے کہ ملک میں تمام شہریوں کو آئین کے مطابق برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کی ثالثی جبکہ بھارت پرامریکی پابندیوں نے مودی کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھا دیے۔امریکی جریدے فارن پالیسی کے مطابق بھارتی پالیسی سازوں نے امریکہ کی نظر میں چین کے مقابل بھارت کی اہمیت ختم ہونے کی نشاندہی کر دی۔امریکی تجزیہ کار ایڈورڈ لوس کا کہنا تھا کہ آنے والی کئی دہائیوں تک بھارت کے لیے چین کا ہم پلہ بننا ناممکن ہے۔امریکہ بھارت کو سخت محصولات ، ایچ۔ 1 بی ویزا فیس میں اضافے اور روسی تیل کی خریداری پر پابندیوں سے بری طرح جکڑچکا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ کا ایران جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات میں پاکستان کو بطور ثالث قبول کرنا بھارت کیلئے دھچکا تھا۔بھارتی تجزیہ نگارڈاکٹر ہریندر سیکھن کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے دوسرے دور بالخصوص آپریشن سندور کے بعد بھارت سخت امریکی پالیسیوں کے نشانے پر ہے۔ٹرمپ کابینہ کا رویہ، امریکہ کا پاکستان سے مسلسل رابطہ، اور آبنائے ہرمز بندش نے امریکہ بھارت تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔مودی کی پالیسی نے بھارت کو اہم وقت پرامریکہ ایران ثالثی کیلئے آگے نہیں بڑھنے دیا جبکہ پاکستان نے یہ کردار بخوبی نبھایا۔کشمیر کے معاملے میں بیرونی ثالثی کی مخالفت بھارت کی ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسی ہے۔بھارتی سینئر صحافی نیلو ویاس نے مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ایک کمپرومائز حکومت کے سربراہ مودی کا امریکہ کے خلاف مؤقف اختیار کرنا کیسے ممکن ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی متنازع خارجہ پالیسی اور خلیجی خطے کی صورتحال پر ان کی خاموشی نے ملکی سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا ہے۔اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں نااہل قرار دیا ہے۔راہول گاندھی نے کہا کہ بھارتی خارجہ پالیسی اب قومی مفادات کے تابع رہنے کے بجائے وزیر اعظم کی ذاتی پسند و ناپسند کا کھلونا بن چکی ہے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کے وقار کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ امریکی قیادت بھارتی وزیر اعظم کو اپنے اشاروں پر نچا رہی ہے جس سے ملک کی خودمختاری متاثر ہو رہی ہے۔ اگر وزیراعظم کا اپنا کردار کمپرومائزڈ ہو تو پھر ملکی خارجہ پالیسی کبھی بھی آزادانہ نہیں ہو سکتی۔ نریندر مودی اب بھارت کے وسیع تر قومی مفاد کی پروا کرنے کے بجائے صرف امریکا اور اسرائیل کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ یہ طرز عمل بھارت کو عالمی سطح پر ایک تنہا اور کمزور ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی کی جانب سے مودی کو کمپرومائزڈ قرار دینا انتہائی تشویشناک ہے جو حکومتی پالیسیوں کے بیرونی دباؤ میں ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھارت کی نام نہاد خود مختار خارجہ پالیسی اب درحقیقت بیرونی قوتوں کے تابع ہو کر رہ گئی ہے۔بھارت کی معیشت کا بہت بڑا انحصار خلیجی ممالک پر قائم ہے، لیکن مودی نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے ایران مخالف اسرائیلی اتحاد کا حصہ بن کر عوامی مفاد کو مکمل طور پر پسِ پشت ڈال دیا ہے جو مستقبل میں مزید بحران پیدا کرے گا۔اس صورتحال نے بھارت کے اندرونی سیاسی ماحول کو بھی گرما دیا ہے جہاں اپوزیشن جماعتیں حکومتی خارجہ پالیسی کو ملکی وقار کے منافی قرار دے رہی ہیں۔بھارتی حکومت کو اب داخلی و خارجی محاذوں پر سخت چیلنجز کا سامنا ہے جو اس کی ساکھ کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے اپنی سفارتی ناکامی چھپانے کے لیے غیر پارلیمانی اور توہین آمیز جملہ استعمال کیا۔یہ بازاری ردعمل دراصل اس حقیقت کا عکس ہے کہ نئی دہلی کو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری ثالثی عمل سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا، جہاں پاکستان، ترکی اور مصر ایک قابلِ اعتماد سفارتی پل کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔بلاشبہ جے شنکر کی ”بازاری زبان” ان کی گھٹیا ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے، ایسے ملک کے وزیر خارجہ کی جس کا شمار جسم فروشی، ریپ اور سماجی برائیوں میں سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے۔ بھارتی عوام کو گمراہ کرنا آسان ہے، یہی کام ان کے سیاستدان، فوجی جرنیل اور بالی وڈ انڈسٹری مسلسل کرتے رہے ہیں۔ جے شنکر کے بیانات انتہائی غیر سنجیدہ اور غیر مہذب ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر سفارتی آداب کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بیان دیا، جو دراصل بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔تنہا پڑنے والے بھارت میں بے چینی واضح ہے۔ موجودہ تنازع میں بھارت کی اہمیت صفر ہے۔ عوام خود مودی حکومت سے سوال کر رہے ہیں، جبکہ جے شنکر غیر سنجیدہ بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک بات سے ایران بحران میں ثالثی کرنے والوں کے لئے بازاری زبان استعمال کی۔اعلیٰ سطح کے سفارتی اجلاس میں ”بازاری الفاظ” کا استعمال بھارت کی شدید سفارتی مایوسی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا کھلا اعتراف ہے۔ جے شنکر کی سطحی زبان دراصل مغربی ایشیا کے امن عمل میں بھارت کی بے بسی چھپانے کی ناکام کوشش ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں