ا فغان طالبان رجیم پر عالمی اعتراضات میں اضافہ ہوگیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں افغان رجیم کیخلاف میدان میں آگئیں۔ انٹرنیشنل فیڈریشن فارہیومن رائٹس سمیت 82 دیگرعالمی تنظیموں نے طالبان وفد کے جون میں ممکنہ دورہ برسلز پراظہار تشویش کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے یورپی یونین سے افغان طالبان کیساتھ سیاسی و سفارتی روابط قائم نہ کرنے کا زوردار مطالبہ کیا۔ تنظیموں نے زور دیا کہ طالبان افغانستان کے عوام کے نمائندہ نہیں اور نمائندہ عمل کے تحت اقتدار میں نہیں آئے ہیں۔ عالمی عدالت انصاف نے صنفی مظالم پر 2 سینیئر طالبان رہنماؤں کے وارنٹ جاری کررکھے ہیں جبکہ متعدد ارکان یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ یورپی سرزمین پر طالبان سے سرکاری رابطہ سنگین قانونی و سیاسی مضمرات کا حامل ہوگا، جس سے ان کی غیرقانونی حکومت تسلیم کرنے کا امکان بڑھ جائے گا۔طالبان رجیم کو اسپیس دینا افغانستان کے کروڑوں لوگوں کی آواز دبانے کے مترادف ہوگا۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے نشاندہی کی کہ خواتین کے حقوق، تعلیم، آزادیِ اظہار اور دیگر بنیادی انسانی حقوق سے متعلق طالبان کی پالیسیوں پر عالمی سطح پر مسلسل تشویش پائی جاتی ہے۔بین الاقوامی قانونی ادارے بھی طالبان قیادت کے بعض اقدامات پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں، جبکہ متعدد طالبان رہنما مختلف بین الاقوامی پابندیوں کی فہرستوں میں شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر منتخب حکومت کو بین الاقوامی سطح پر سیاسی اسپیس فراہم کرنا افغانستان کے لاکھوں شہریوں، خصوصا خواتین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی آواز کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ افغان عوام، بالخصوص خواتین کو بنیادی حقوق کی فراہمی، تعلیم اور روزگار تک رسائی، اور عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل تک طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنے کے مطالبات کو احتیاط سے دیکھا جانا چاہیے۔افغانستان کی اقتدار پر قابض غیر منتخب طالبان حکومت اپنی دہشت گردانہ سوچ اور ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسیوں کے باعث دنیا بھر میں سیاسی اچھوت بن چکی ہے، جس کے نتیجے میں کابل رجیم پر عالمی تنہائی کا گھیرا مزید تنگ ہو گیا ہے۔ بندوق کے زور پر آنے والی اس غیر منتخب رجیم کو کسی بھی قسم کا سفارتی اسٹیج یا بین الاقوامی اسپیس فراہم کرنا ایک بھیانک غلطی ہوگی۔ یہ اقدام افغانستان کے ان کروڑوں مظلوم مردوں اور حقوق سے محروم خواتین کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کے مترادف ہوگا جو اس وقت بدترین جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے ان عالمی اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ یورپی یونین اور بین الاقوامی برادری طالبان کے ساتھ پینگیں بڑھانے کے بجائے ان کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف سخت ترین موقف اختیار کرے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ جب تک افغان عوام کو ان کے بنیادی حقوق نہیں ملتے، تب تک طالبان کو کسی بھی عالمی فورم پر خوش آمدید کہنا انسانیت کے خلاف جرائم پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے کے برابر مانا جائے گا۔کابل میں انسانی حقوق کے کارکنان نے افغان طالبان کی جانب سے تعلیم، اظہارِ رائے اور فکری آزادی پر سخت پابندیوں کو دہشت گردی کے فروغ کیلئے خطرناک بنیاد قرار دیا ہے۔ کارکنان انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ طالبان ایک خاموش، خوف زدہ اور فکری طور پر محروم معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں افغانستان شدید تعلیمی و فکری دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔طالبان نے خواتین کی تعلیم پر سخت پابندیاں عائد کر کے نہ صرف لڑکیوں کے تعلیمی مستقبل کو تاریک بنا دیا ہے بلکہ خواتین اساتذہ کی بڑی تعداد بھی بے روزگار ہو چکی ہے۔ یونیورسکو اور یونیسیف کی تازہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ خواتین اساتذہ کی کمی، تعلیمی وسائل کی قلت اور اہم علمی شعبہ جات کے خاتمے نے افغانستان کے تعلیمی معیار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ طالبان کے دورِ حکومت میں سماجی علوم، قانون اور میڈیا اسٹڈیز جیسے شعبے بند کیے جا رہے ہیں، جو فکری سوچ کے خاتمے کا حصہ ہیں۔کئی یونیورسٹیاں بند ہونے سے ملک میں علمی سرگرمیاں تقریباً ختم ہو چکی ہیں اور نوجوانوں کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کی لپیٹ میں ہے۔ طالبان رجیم آزادی اظہار، تنقیدی سوچ اور تخلیقی فضا کو مکمل طور پر ختم کر کے ایسا معاشرہ تشکیل دے رہی ہے جو خوف، جبر اور خاموشی میں جکڑا ہوا ہو۔ عالمی سطح پر افغان طالبان کی پالیسیوں کو باعثِ شرم اور شدت پسندی کے فروغ کا ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں، افغان طالبان کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) جیسے گروپوں کے خلاف کارروائی کریں تو تعاون کے لیے تیار ہیں۔ پائیدار امن کا دارومدار کابل پر ہے کہ وہ افغان زمین سے سرگرم دہشت گرد گروپوں کو کنٹرول کرے۔ دنیا بھر میں جاری تنازعات نے امن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، پْرامن افغانستان خطے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ بدقسمتی سے دہشت گرد گروہ افغانستان کے ساتھ پاکستان میں بھی بدامنی کا سبب ہیں، افغان طالبان کالعدم تحریک طالبان پاکستان جیسے گروپوں کے خلاف کارروائی کریں تو ہم ہر طرح کے تعاون کیلئے تیار ہیں۔ پاکستان میں افغانستان سے دہشت گردی کرنے والوں کو سبق سکھایا گیا ہے، پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت کیلئے تمام ضروری اقدامات کرتا رہے گا۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں