بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.6°C
Thursday, 23 July 2026 | پاکستان: 9 صفر 1448

آبنائے ہرمز سے باب المندب تک!

Thursday, 23 July, 2026

دنیا کی معیشتوں کیلئے ایک نئی مصیبت کھڑی ہوگئی ہے ، یمنی حوثیوں نے باب لمندب کوبند کرنے کی دھمکی دے دی ہے ، دنیا کیلئے آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات کا مقابلہ مشکل تھا اب یہ ایک اور رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے جس کے نتائج عالمی معیشت کیلئے ہولناک اور تباہ کن ہوں گے۔ ان دنیا دو سمندری گزرگاہوں کو عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت حاصل ہے۔ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو عالمی سیاست کا مرکز بنا دیا ہے۔ خلیج فارس سے نکلنے والا تیل ہو یا بحیرہ احمر کے راستے یورپ اور ایشیا کے درمیان ہونے والی تجارت، ان گزرگاہوں میں معمولی رکاوٹ بھی عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی بحری آمدورفت کو نشانہ بنانے اور باب المندب میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے اعلانات نے عالمی جہاز رانی اور توانائی کی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی بڑی مقدار میں برآمدات اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔ دوسری جانب باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور یہی راستہ نہر سویز تک پہنچنے والی عالمی تجارت کا بنیادی دروازہ ہے۔ اگر ہرمز اور باب المندب دونوں بیک وقت غیر محفوظ ہو جائیں تو عالمی معیشت کا پہیہ جام ہوسکتا ہے اور پاکستانی معیشت کا تیل تو پہلے ہی نکل چکا ہے اب روزانہ کی بنیاد پر پٹرول کی قیمتوں کی تعین کا اعلان ہوچکا ہے، بلکلفارمی مرغی اور سونے کی نرخوں کی طرح!امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، لیکن اسرائیل کے ساتھ ایران کی محاذ آرائی اور اس میں امریکی کردار نے اس تنازع کو علاقائی حدود سے نکال کر عالمی بحران کی شکل دے دی ہے۔ ایران طویل عرصے سے یہ پیغام دیتا آیا ہے کہ اگر اس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کر سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی اس اہم بحری راستے کو ہر قیمت پر کھلا رکھنے کی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ یہی کشمکش خلیج کو مسلسل فوجی تناؤ کا مرکز بنائے ہوئے ہے۔یمنی حوثی جن کی اپنی ایک تاریخ ہے اور سمندر میں ہمیشہ ان کو غلبہ رہا ہے، حوثیوں کی موجودہ تحریک جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، 1990 کی دہائی میں یمن کے شمالی علاقے صعدہ سے ابھری۔ ابتدا میں یہ ایک مذہبی اور سماجی تحریک تھی، تاہم وقت کے ساتھ یہ ایک منظم عسکری قوت میں تبدیل ہو گئی۔ 2014 میں حوثیوں نے صنعاء سمیت یمن کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا۔ آج ان کے زیر اثر علاقے یمن کی آبادی، اہم شاہراہوں اور بحیرہ احمر سے ملحق ساحلی پٹی کے ایک بڑے حصے پر مشتمل ہیں، جو انہیں غیر معمولی غلبہ عطاء کرتا ہے۔حوثیوں کی اصل طاقت صرف ان کی افرادی قوت نہیں بلکہ ان کی غیر روایتی بحری جنگی صلاحیت اور تجربہ بھی ہے۔ گزشتہ برسوں میں انہوں نے ڈرونز، اینٹی شپ میزائل، بارودی کشتیوں اور ساحل سے داغے جانے والے ہتھیاروں کے ذریعے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور جنگی بحری بیڑوں کو چیلنج کیا۔ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے ثابت کیا کہ جدید بحری جنگ صرف بڑے بحری بیڑوں کے ذریعے نہیں بلکہ کم لاگت اور مؤثر ہتھیاروں سے بھی لڑی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی بحری قوتوں کو بھی بحیرہ احمر میں اضافی وسائل تعینات کرنا پڑے۔ باب المندب کی اہمیت صرف اس کے جغرافیے تک محدود نہیں بلکہ اس کے معاشی کردار سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان لاکھوں کنٹینرز اور بڑی مقدار میں خام تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔سعودی عرب کیلئے یہ صورتحال غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ، بحیرہ احمر کے راستے برآمدات میں رکاوٹ اس کی توانائی کی تجارت اور عالمی منڈیوں میں رسد کو متاثر کر سکتی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں نے خطے میں ایک نئے بحری محاذ کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔عالمی معیشت پر اس بحران کے اثرات فوری بھی ہو سکتے ہیں اور طویل المدت بھی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ بجلی، ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت، فضائی سفر اور خوراک سمیت تقریباً ہر شعبے کی لاگت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں مہنگائی کا دباؤ بڑھتا ہے، مرکزی بینک شرح سود بلند رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں اور ترقی پذیر ممالک کو مزید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ایسے عالمی بحرانوں سے نسبتاً زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے درآمدی بل بڑھ جاتا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ آتا ہے، روپے کی قدر متاثر ہو سکتی ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے صنعتی پیداوار مہنگی ہوتی ہے، جبکہ برآمدی شعبہ بھی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگر بحری کرایوں اور انشورنس کی لاگت میں مزید اضافہ ہوا تو پاکستان کی درآمدات اور برآمدات دونوں متاثر ہوں گی ۔ اس بحران کا ایک اہم پہلو عالمی سپلائی چین بھی ہے۔ چین، یورپ، جاپان اور جنوبی ایشیا کے درمیان سامان کی ترسیل میں تاخیر صرف تجارتی مسئلہ نہیں بلکہ صنعتی پیداوار، دواسازی، آٹوموبائل ، الیکٹرانکس اور غذائی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ سمندری راستوں میں معمولی خلل بھی عالمی منڈیوں میں عدم توازن پیدا کر سکتا ہے۔ایران کیلئے حوثی صرف ایک علاقائی اتحادی نہیں بلکہ اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے وہ براہِ راست جنگ کے بجائے مختلف محاذوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتا ہے۔ اگر ایک طرف ہرمز میں کشیدگی بڑھے اور دوسری جانب باب المندب میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو عالمی تجارت پر دباؤ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔آبنائے ہرمز سے باب المندب تک پھیلا یہ سمندری خطہ محض دو آبی گزرگاہوں کا نام نہیں بلکہ اکیسویں صدی کی عالمی سیاست، توانائی، تجارت اور سلامتی کا مرکز ہے۔ امریکہ، ایران اور اسرائیل کی کشیدگی، حوثیوں کی عسکری حکمت عملی، سعودی عرب کے سلامتی خدشات اور عالمی طاقتوں کی موجودگی نے اس خطے کو ایک حساس مقام بنا دیا ہے، جہاں کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات پوری دنیا محسوس کر سکتی ہے۔پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ توانائی کے متبادل ذرائع، تجارتی تنوع اور معاشی استحکام پر مبنی ایسی حکمت عملی اختیار کریں جو عالمی بحرانوں کے اثرات کو کم سے کم کر سکے۔ کیونکہ جب ہرمز اور باب المندب بے چین ہوتے ہیں تو اس کی لہریں صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ کراچی سے لندن اور شنگھائی سے نیویارک تک ہر بندرگاہ اور معیشت کو متاثر کرتی ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *