پاکستان مصنوعی ذہانت کے عالمی تعاون میں شامل ہو گیا نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے چین میں ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو آپریشن آرگنائزیشن کے قیام کے معاہدے پر بطور بانی رکن دستخط کر دئیے اس موقع پر اسحاق ڈار نے مصنوعی ذہانت کے شعبے بالخصوص گلوبل ساتھ کے تناظر میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت تک مساوی رسائی اور عالمی اے آئی تقسیم کم کرنے کے لئے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا چین کے شہر شنگھائی میں منعقدہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو آپریشن آرگنائزیشن (وائیکو)کے قیام کی تقریب میں پاکستان سمیت 29 ممالک نے اس تنظیم کے قیام کے معاہدے پر دستخط کئے تقریب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ بھی نائب وزیراعظم کے ہمراہ چین گئی ہیں وہ اہم تکنیکی مذاکرات کا حصہ بنیں گی اور مختلف ممالک کے وزرا اور ٹیکنالوجی سے وابستہ اعلی حکام سے ملاقاتیں بھی کریں گی دنیا بھر میں تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کرتے ہوئے شعبے مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) کا اثر زندگی کے ہر پہلو میں نظر آنے لگا ہے آر ٹیفیشل انٹیلی جنس کمپیوٹر سائنس اور ریاضی کے اصولوں کو استعمال کر کے ایسی مشینوں کو بنانے پر توجہ مرکوز کر تی ہے جو انسانی ذہانت کی طرح سیکھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں یہ مشینیں بڑے پیمانے پر موجودہ ڈیٹا کا تجزیہ کرکے اشیا کو سمجھنے اور اس کے مطابق ردعمل کا مظاہرہ کرتی ہیں سادہ لفظوں میں اگر اس کو بیان کیا جائے تو کمپیوٹر سائنسز ترقی کا جزو لانیفک اور مصنوعی دہانت اس کا وسیلہ ہیں یہ ٹیکنالوجی اس وقت کارکردگی اور پیداوار بڑھانے درست فیصلے کرنے اور نئی دریافت کرنے میں ہماری مدد کر رہی ہے صحت تعلیم مصنوعات بنانے موسمیاتی تبدیلی جیسے مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت انقلاب برپا کر رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ نئی ملازمتیں بھی پیدا کر رہی ہے الغرض مصنوعی ذہانت کو عقل مندی دور اندیشی اور ذمہ داری سے استعمال کرکے ہم ترقی اور خوش حالی کا زینہ بنا سکتے ہیں جدید دنیا میں اس وقت ترقی کا پیمانہ علمی سرمایہ اور پیدواری صلاحیت ہے وہ ممالک جنہوں نے اس راز کو چند دہائیوں پہلے پالیا وہ آج مضبوط معیشتوں میں شمار ہوتے ہیں قرآن کریم میں ہے اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے(سب کو)پیدا کیا اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا آپ پڑھیے! آپ کا رب ہی سب سے زیادہ کریم ہے جس نے قلم سے (لکھنا)سکھایا انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا(العلق: 1 تا 5) ہم قلم کو ان تمام آلات کیلئے استعارے کے طور پر لے سکتے ہیں جو آج حصولِ علم میں معاون ہیں خلافتِ اسلامیہ کے غلبے کے دور میں مسلمان ہر شعبہ علم میں سرخیل تھے مسلمان سائنسدانوں نے فلکیات طب ریاضی ہندسہ اور دیگر علوم میں انقلابی کام کیا تھا مغرب نے ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی کی بنیاد مسلمانوں کی انہی تحقیقات پر رکھی اور پھر انہیں عروج تک پہنچایا ہے لیکن افسوس دین سے دوری اختیار کرنے کی وجہ سے مسلمان ہر شعبے میں پیچھے رہ گئے عصرِ حاضر میں مصنوعی ذہانت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج وہی ممالک اور ادارے ترقی کی راہ پر گام زن ہیں جو اپنے انتظامی معاشی اور تعلیمی ڈھانچے میں اے آئی کو بروئے کار لا رہے ہیں اور اس ضمن میں پاکستان کا مقام اور مستقبل ملک کے پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے 2025 میں جاری ہونے والی مائکرو سافٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا مجموعی استعمال 15 فی صد سے بھی کم ہے اور یہ استعمال بھی محض سوشل میڈیا فلٹرز اور دیگر غیر اہم کاموں تک محدود ہے پاکستان میں اس کم شرح کے تین بڑے اسباب انٹرنیٹ کی محدود دستیابی ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی اور مقامی زبانوں میں مصنوعی ذہانت کے ٹولز کی عدم موجودگی ہیں جب تک ان رکاوٹوں کو دور نہیں کیا جاتا پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا موثر استعمال ابتدائی اور محدود ہی رہے گا اے آئی کے موثر استعمال کے ضمن میں متحدہ عرب امارات اور سنگاپور سرِفہرست ہیں جہاں نصف سے زیادہ افراد روزمرہ کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں اور یہ استعمال فیصلہ سازی ٹریفک کے نظام امراض کی تشخیص اور عدالتی و انتظامی امور تک پھیلا ہوا ہے پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا ڈھانچا ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے یہاں بڑے پیمانے پر ڈیٹا پالیسی موجود ہے، نہ معیاری عوامی ڈیٹا پورٹلز اس کے علاوہ سرکاری سطح پر بڑے ماڈلز کی تیاری اور کلاڈ انفرااسٹرکچر بھی غیر معیاری ہے تاہم پاکستان کی موجودہ پالیسی اس ضمن میں حوصلہ افزا ہے لیکن اس کے موثر ہونے کیلئے فنڈنگ تربیت ڈیجیٹل رسائی تحقیق اور ایک مکمل ایکو سسٹم ضروری ہے آئی ٹی کے شعبے میں پاکستان کی سالانہ برآمدات چار ارب ڈالر تک ہیں تاہم اس میں نمو کی شرح تسلی بخش ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی کی صلاحیتوں سے پورا فائدہ اٹھایا جائے تو اس کی برآمدات میں اضافے کی رفتار نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہیں اور اس کا ملکی برآمدات میں حصہ دیگر تمام شعبوں سے بڑھ سکتا ہے ملکی سطح پر آئی ٹی کی مضبوط بنیاد نہ صرف برآمدی معیشت کو ترقی دے گی بلکہ ملکی سطح ان مصنوعات سے فائدہ اٹھانے اور نجی و سرکاری شعبوں میں نظام کو جدید تقاصوں سے ہم آہنگ کرنے میں بھی مدد ملے گی ملک میں اے آئی کی ترقی کے حوالے سے ضروری ہے کہ حکومت اپنی افرادی قوت کو اگلے پانچ سے سات برسوں میں مکمل ڈیجیٹل تربیت فراہم کرے اور مقامی زبانوں میں ماڈلز ڈیٹا اور ٹولز تیار کرے اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا کے دیگر ممالک مقامی زبان سے فوائد حاصل کرتے رہیں گے جب کہ پاکستان میں ایک بڑا طبقہ اس سے محروم رہ جائے گا پاکستان میں مصنوعی ترقی کے امکانات روشن ہیں ملک کی نوجوان آبادی اور ان کی ٹیکنالوجی میں بڑھتی دل چسپی بین الاقوامی کمپنیز کی توجہ اور بڑھتے ہوئے اسٹارٹ اپس اے آئی کیلئے ایک قدرتی ماحول فراہم کرتے ہیں حکومت اگر صحت زراعت ٹرانسپورٹ انصاف اور تعلیم کے شعبے میں ابتدائی عملی پروگرام شروع کرے مقامی ڈیٹا کے اصول بنائے اساتذہ اور طلبہ کیلئے تربیت لازمی قرار دے جامعات میں تحقیقاتی مراکز قائم کرے اور انٹرنیٹ کی رفتار اور رسائی کو ترجیح دے تو پاکستان چند برسوں میں اے آئی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرسکتا ہے اس وقت مسئلہ رفتار کا نہیں ترجیحات کا ہے دنیا مصنوعی ذہانت کو آج وہی اہمیت دے رہی ہے جو کبھی صنعتی انقلاب بجلی انٹرنیٹ اور موبائل فون کو حاصل تھی اور جن اقوام نے ان مواقع کو نظرانداز کیا وہ کئی دہائیاں پیچھے رہ گئیں 2025 کے عالمی جائزے یہ واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اب بہت کم وقت بچا ہے حکومت کو آئندہ دس برسوں میں اے آئی کو قومی پالیسی معاشی منصوبہ بندی تعلیمی نصاب حکومتی خدمات اور عوامی استعمال کا لازمی حصہ بنانا ہوگا وگرنہ ہم معیشت سمیت تمام میدانوں میں دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے دوسری جانب اگر پاکستان نے اے آئی کو ریاستی ترقی کی حکمتِ عملی کے بنیادی ستون کے طور پر اپنایا تو یہ ٹیکنالوجی انتظامی نظام شفاف تعلیم معیاری معیشت کو مسابقانہ اور نوجوان نسل کو باصلاحیت بنا سکتی ہے اسلام ہمیں علم اور ٹیکنالوجی کے حصول کی ترغیب دیتا ہے ہمیں چاہیے کہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھی آگے بڑھیں تاکہ ہم دوبارہ علم وفن کے میدان میں سرخیل بن سکیں مصنوعی ذہانت کے بہت سے فوائد ہیں لیکن اسکا بے دریغ استعمال انسانی بقا کیلئے ایک سنگین خطرہ بھی بن سکتا ہے برطانیہ کی تحقیقی ایجنسی ایڈوانسڈ ریسرچ اینڈ انوینشن ایجنسی کے اے آئی سیفٹی ماہر ڈیوڈ ڈیلرمپل کے مطابق اے آئی کی صلاحیتیں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور حکومتیں اس کی حفاظت کے حوالے سے پیچھے رہتی جا رہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں زیادہ تر معاشی طور پر قیمتی کام مشینیں انسانوں سے بہتر اور کم لاگت میں انجام دیں گی انہوں نے خبردار کیا کہ جدید اے آئی نظاموں کو قابلِ اعتماد سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے اس لیے ان کے نقصانات کو کنٹرول اور کم کرنے پر فوری توجہ ضروری ہے ماہرین کا ماننا ہے کہ جلد ہی اے آئی تحقیق اور ترقی کے عمل میں خود اپنا کردار ادا کرنے لگے گی جس سے اس کی صلاحیتوں میں مزید تیزی آئے گی کچھ لوگ اسے ترقی اور نئے مواقع کی علامت سمجھتے ہیں، جبکہ دیگر اسے انسانی کنٹرول کے لیے ایک بڑا چیلنج اور امتحان تصور کرتے ہیں مختصر تیزی سے بڑھتی ہوئی مصنوعی ذہانت نہ صرف انسانی کام کرنے کی صلاحیتوں کو بدل رہی ہے بلکہ معاشرے معیشت اور عالمی سلامتی کیلئے نئے چیلنج بھی پیدا کر رہی ہے وقت پر حفاظتی اقدامات اور موثر نگرانی کے بغیر یہ خطرات بڑھ سکتے ہیں اس لئے بین الاقوامی سطح پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کے قوانین بنانا اور حدود طے کرنا انتہائی ضروری ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں