بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.9°C
Friday, 24 July 2026 | پاکستان: 10 صفر 1448

جدید ٹیکنالوجی کا فروغ، دفاعی خود کفالت اور قومی مستقبل

Friday, 24 July, 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو کی تقریب سے خطاب میںملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کیلئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور بیس ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرزسوفیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں،ڈرونز کی ساٹھ فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے، پاکستان دیگر ممالک کی ٹیکنالوجی کا محتاج نہیں،مسلح افواج نے معرکہ حق میں اٹانومس سسٹمز اور سائبر سکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا ۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو میں شرکت اور اس موقع پر اہم اعلانات پاکستان کی دفاعی اور معاشی پالیسیوں میں ایک اہم پیشرفت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ملکی خودمختاری، سلامتی اور دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنانے کا عزم وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ آج کی دنیا میں روایتی جنگی حکمتِ عملی اور دفاعی ڈھانچے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، جہاں محض فوجی عددی عددی طاقت کے بجائے آرٹیفیشل انٹیلیجنس، روبوٹکس، ڈرون ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبے کسی بھی ملک کی برتری اور بقا کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کی جانب سے خودکار سسٹمز اور روبوٹکس کی ترقی کیلئے “سپارک اینڈ ایلیویٹ” پروگرام کا آغاز اور بیس ملین ڈالر کا وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان ایک انتہائی دور اندیشانہ اور تعمیری قدم ہے۔ یہ فنڈ نہ صرف مقامی سطح پر جدید تحقیقات اور ایجادات کی سرپرستی کریگا بلکہ ملک کے باصلاحیت نوجوانوں اور سٹارٹ اپس کو بین الاقوامی معیار کے مطابق پیش رفت کرنے کیلئے ضروری مالی و فنی وسائل بھی فراہم کرے گا ۔ پاکستان نے گزشتہ چند دہائیوں کے دوران شدید سیکیورٹی چیلنجز اور غیر معمولی حالات کے باوجود دفاعی شعبے میں جو مقامی صلاحیتیں پیدا کی ہیں، وہ بلاشبہ قابلِ فخر ہیں۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت کو بروئے لاتے ہوئے اسے اپنی آپریشنل صلاحیتوں کا حصہ بنایا ہے۔ اس کی سب سے بڑی اور روشن مثال ملکی سطح پرسوفیصد سیمولیٹرز کی تیاری اورساٹھ فیصد سے زائد ڈرونز کی مقامی پیداوری حاصل کرنا ہے۔ یہ کامیابیاں نہ صرف اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اب دفاعی صلاحیتوں کے معاملے میں دیگر ممالک پر انحصار یا ان کی محتاجی سے باہر نکل رہا ہے بلکہ اس سے ملکی زرمبادلہ کی بھی ایک بڑی بچت ممکن ہو رہی ہے۔ معرکہ حق اور سرحدوں کی حفاظت کے دوران سائبر سیکیورٹی اور اٹانومس سسٹمز کے موثر استعمال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہماری دفاعی فورسز دنیا کی جدید ترین افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہونے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔تاہم اس حقیقت کو مدِنظر رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کا حصول اور اس کا فروغ صرف دفاعی یا سیکیورٹی مقاصد تک محدود نہیں رہنا چاہیے ۔ روبوٹکس، ڈیٹا سائنس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی حقیقی طاقت تب سامنے آتی ہے جب اسے معاشی اور سماجی بہتری کیلئے استعمال کیا جائے۔ جیسا کہ وزیراعظم نے اشارہ کیا، خودکار سسٹمز اور ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے زراعت، صنعت، صحت، اور آفات سے نمٹنے کے شعبوں میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ اگر ڈرونز کا استعمال فصلوں کی نگرانی، ادویات کی فوری رسائی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے کیا جائے تو اس سے ملکی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور عام شہری کی زندگی میں براہِ راست آسانیاں پیدا ہوں گی۔ اس لیے ٹیکنالوجی کے اس سفر میں سول اور ملٹری شعبوں کا باہمی تعاون ایک ایسا کلیدی عنصر ہے جو پاکستان کو ایک جدید علمی معیشت میں ڈھال سکتا ہے۔اکیسویں صدی میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہونے کا خواب صرف پالیسی اعلانات اور بجٹ کی تخصیص سے تعبیر نہیں پا سکتا، بلکہ اس کیلئے ایک دیرپا اور پائیدار ماحول یعنی ایک ایکو سسٹم کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بیس ملین ڈالر کے اس وینچر فنڈ کو مکمل شفافیت، میرٹ اور تیز رفتار طریقہ کار کے ساتھ فعال کرے تاکہ یونیورسٹیوں، تحقیقاتی اداروں اور پرائیویٹ سیکٹر کے درمیان مضبوط رابطہ قائم ہو سکے۔ ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں روبوٹکس اور سائبر سیکیورٹی کے معیار کو عالمی تقاضوں کے مطابق بنانا ہوگا تاکہ ہماری اگلی نسل اس ٹیکنولوجیکل انقلاب کی قیادت کر سکے۔ جب تک مقامی سطح پر ہنر مند افرادی قوت تیار نہیں ہوگی، تب تک پائیدار ترقی کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔حرفِ آخر کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اس وقت ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انتہائی اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ دفاعی میدان میں حاصل کی جانیوالی خود کفالت اور روبوٹکس جیسے پیش رس شعبوں میں حکومتی سرپرستی بلاشبہ ایک مثبت راستے کا تعاقب کرتی ہے۔ اگر ان اقدامات پر تسلسل کے ساتھ عملدرآمد کیا گیا اور سیاسی و معاشی استحکام کو یقینی بنایا گیاتو وہ دن دور نہیں جب پاکستان نہ صرف اپنے دفاع میں مکمل طور پر خود کفیل ہوگابلکہ اکیسویں صدی کی اس جدید ترین ٹیکنولوجیکل دوڑ میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں اپنا لوہا منوا رہا ہوگا۔
مستونگ میںمسافروں کی ٹارگٹ کلنگ کاافسوسناک واقعہ
مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں این 25 قومی شاہراہ پر کوئٹہ سے کراچی جانیوالی السیف کمپنی کی مسافر بس پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ اور اس کے نتیجے میں چار مسافروں کے جاںبحق اور دو کے زخمی ہونے کا دلخراس واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ کوئٹہ ایئرپورٹ روڈ سے روانہ ہونیوالی اس بس کے بے گناہ اور نہتے مسافروں کو دن دہاڑے نشانہ بنایا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شاہراہوں پر شریر عناصر اور مسلح گروہ کس قدر بے خوف ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے صوبے میں جہاں پہلے ہی مختلف سیکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں، قومی شاہراہوں پر اس قسم کے خونریز واقعات کا رونما ہونا عوام میں شدید خوف و ہراس اور بے چینی پھیلا رہا ہے، جس کا فوری اور سخت نوٹس لیا جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔این 25 شاہراہ، جسے عام طور پر “قاتل شاہراہ” بھی کہا جاتا ہے، نہ صرف کراچی اور کوئٹہ کو ملانے والی مرکزی تجارتی و عوامی شریان ہے بلکہ یہ ملک کے ایک بڑے حصے کی معاشی و سماجی آمدورفت کا ذریعہ بھی ہے۔ تاہم، یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس شاہراہ پر مسافر بسوں کو یوں فائرنگ یا لوٹ مار کا نشانہ بنایا گیا ہو۔اس افسوسناک واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کا لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال مستونگ اور بعد ازاں کوئٹہ منتقل کرنا ایک لازمی انتظامی اقدام تو ہے، لیکن صرف زخمیوں کو طبی امداد فراہم کر دینا یا تعزیتی بیانات جاری کر دینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ حکومت اور صوبائی انتظامیہ کو اس واقعے کی تہہ تک پہنچنا ہوگا کہ آیا یہ مسلح ڈکیتی کی کوشش تھی یا اس کے پیچھے دہشت گردی اور ہدف بنا کر کی جانے والی کارروائی کا عنصر شامل تھا۔ جب تک اس قسم کی کارروائیوں میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا جاتا، تب تک شاہراہوں پر سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ اگر ان نامعلوم حملہ آوروں کی فوری گرفتاری ممکن نہ بنائی گئی تو اس سے قانون شکن عناصر کے حوصلے مزید بلند ہوں گے۔ این 25 سمیت بلوچستان کی تمام اہم قومی شاہراہوں پر لیویز اور فرنٹیر کورکی مشترکہ اور باقاعدہ پیٹرولنگ کا شفاف نظام نافذ کیا جائے تاکہ کوئی بھی غیر قانونی یا مسلح عنصر بلا خوف و خطر حرکت نہ کر سکے۔ تمام مسافر بسوں کی روانگی کیلئے سیکیورٹی کورڈنز اور حساس مقامات پر مستقل چیک پوسٹوں کے قیام کو یقینی بنانا ہوگا ۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے شاہراہ کے خطرناک حصوں پر سی سی ٹی وی کیمرے اور نائٹ ویژن پٹرولنگ بڑھائی جائے تاکہ مجرمانہ سرگرمیوں کو بروقت روکا جا سکے۔ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ریاست کا بنیادی فرض اپنے شہریوں کی حفاظت کرنا ہے۔ بیگناہ مسافر جو اپنے روزگار، تعلیم اور خاندانی ضروریات کیلئے سفر کرتے ہیں، ان کی زندگیوں کو اس طرح خطرے میں ڈالنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی ۔ اگر حکومت نے اس واقعے پر روایتی کاغذی کارروائی سے آگے بڑھ کر عملی پیشرفت نہ کی اور مجرموں کو گرفتار کر کے عبرت ناک سزا نہ دی، تو شاہراہوں پر سفر کرنا کسی عذاب سے کم نہیں رہے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *